بنی گالہ میں عمران خان کا گھر کیسے ریگولرائز ہو گیا؟

وزیرِ اعظم عمران خان کی بستی بنی گالہ کی کہانی۔ یہاں ہزاروں دوسرے بااثر لوگوں کے گھر بھی آباد ہیں۔ ان کا کیا بنے گا؟

راول ڈیم کے اوپر پہاڑی کی چوٹی پر تین سو کنال اور پانچ مرلے پر وزیراعظم عمران خان کے گھر کو گذشتہ دنوں سی ڈی اے نے 12 لاکھ چھ ہزار روپے جرمانہ ادا کرنے کے عوض ریگولرائز کر دیا ہے۔

عمران خان نے یہاں جگہ کیسے خریدی تھی؟ اس حوالے سے بنی گالہ کے پرانے رہائشی راجہ جمیل عباسی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’2003 میں عمران خان اور جمائما میرے پاس آئے، وہ یہاں پر گھر بنانا چاہتے تھے۔ جو جگہ انہیں پسند تھی وہ میرے رشتہ داروں کی تھی۔ میں نے ذاتی دلچسپی لے کر یہ سودا کرایا۔ 300 کنال اور پانچ مرلے کا سودا چار کروڑ 35 لاکھ میں طے ہوا۔ وہیں میں نے اپنی جیب سے 10 لاکھ بیعانہ عمران خان کی طرف سے ادا کیا کیونکہ ایک قومی ہیرو کا یہاں گھر بنانا ہمارے لیے اعزاز کی بات تھی۔ بعد میں عمران خان نے لندن والا فلیٹ بیچ کر رقم ادا کی۔‘

عمران خان کا گھر تو ریگولرائز ہو گیا، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہاں پر گذشتہ دو دہائیوں سے ہزاروں کی تعداد میں غیر قانونی گھر کیسے بن گئے اور کیا اب ان سب کو ریگولرائز کرنے کا راستہ کھل گیا ہے؟

یہ نکتہ بھی اہم ہے کہ جب ہزاروں گھر بن چکے ہیں تو انہیں ریگولرائز کرنے کے سوا چارہ ہی کیا ہے؟ لیکن اس سے بھی پہلے ہم یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ بنی گالہ کی تاریخ کیا ہے؟

انسانی قربان گاہ والا گاؤں

مقامی زبان میں ’بنی‘ سے مراد ایک چھوٹا تالاب ہوتا ہے جہاں بارش کا پانی جمع ہوتا ہے جو انسانوں اور جانوروں کے استعمال میں آتا ہے۔ جبکہ ’گالہ‘ دراصل گلہ سے نکلا ہے جس کا مطلب تنگ گھاٹی میں بہتی ہوئی ندی ہے۔ بنی گالہ کبھی پہاڑی کے ارد گرد واقع علاقے کے لوگوں کے مویشیوں کی چراہ گاہ ہوا کرتی تھی۔ یہ لوگ کون تھے، شاید بہت سے لوگ یہ نہیں جانتے کہ یہی لوگ دراصل راولپنڈی کے اولین باسی تھے۔ بنی گالہ کے نیچے جہاں آج راول ڈیم واقع ہے کبھی یہاں ’راول‘ نامی گاؤں ہوا کرتا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس گاؤں والوں کے اعتقادات کے بارے میں اتنا ہی معلوم ہے کہ یہ انسانوں کی قربانی بھی دیا کرتا تھا اور اسی نسبت سے اسے ’راول پنڈی‘ کہتے تھے کیونکہ قدیم سنسکرت میں پنڈی کے معنی انسانوں کی قربان گاہ کے ہیں۔ یہ شاید پتھر کے دور کی بات ہو کیونکہ یہاں اس دور کے انسان کی پناہ گاہیں بھی موجود تھیں۔

راول نامی گاؤں 1960 تک موجود رہا اور اب راول ڈیم کے پانیوں کے نیچے دفن ہو گیا۔ یہاں قیام پاکستان کے وقت سو کے قریب گھر تھے جن میں سے 60 ہندوؤں کے تھے۔ گاؤں کا نمبر دار اشر سنگھ ایک سکھ تھا۔ جبکہ مسلمانوں میں اکثریت گکھڑوں کی تھی۔ یہاں دو قدیم مندر موجود تھے، ایک اب بھی موجود ہے جبکہ دوسرا جسے گُر کل مندر کہتے تھے پانی کے نیچے چلا گیا۔ یہاں ناتھ جوگیوں کی سمادھی بھی ہوا کرتی تھی، ناتھ جوگی نے ہی قبل از مسیح میں کہیں ٹلہ جوگیاں آباد کیا تھا۔

1961 کی مردم شماری کے تحت راول گاؤں کی کل آبادی 512 افراد لکھی ہوئی ہے جس میں سے 134 خواتین تھیں۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ اعداد و شمار درست نہیں کیونکہ گاؤں کے لوگ تب بھی اور بعض جگہوں پر اب بھی خواتین کو شمار نہیں کرواتے تھے۔ جبکہ گاؤں کی 60 فیصد آبادی ہندو اور سکھ تھی جو ہجرت کر گئی۔ اس کا مطلب یہ بھی ہوا کہ تقسیم کے وقت اس گاؤں کی آبادی ایک ہزار سے کچھ زیادہ ہو گی۔

اولین خریدار پیر پگاڑا

جب اسلام آباد بنایا گیا تواس کے ماسٹر پلان کے تحت بنی گالہ کا علاقہ نیشنل پارک قرار دیا گیا تاکہ نہ صرف اس کی فطرتی خوبصورتی برقرار رہے بلکہ راول ڈیم کا کیچ منٹ ایریا ہونے کے ناطے اس کو آلودگی سے بھی بچایا جائے۔ جب اسلام آباد میں زمینیں مہنگی ہونا شروع ہوئیں یا پھر وہ لوگ جو چھوٹے گھروں میں رہنے کو پسند نہیں کرتے تھے، انہوں نے مضافات کا رخ کرنا شروع کیا تو بنی گالہ ان کی پسندیدہ منزل ٹھہری۔

یہاں جائیدادوں کے پہلے خریدار پیر پگاڑا تھے جنہوں نے 80 کی دہائی میں یہاں زمینیں لینا شروع کیں۔ یہاں پہلا گھر ایک کاروباری شخصیت حاجی ایوب نے بنایا جس کے بعد ڈاکٹر قدیر نے بھی عین ڈیم کے کنارے دس کنال پر اپنا گھر تعمیر کرلیا جس میں آج کل ان کی نواسی رہائش پذیر ہیں۔

1985 سے 1990 کے درمیان یہاں بڑی تعداد میں زمینوں کی خرید و فروخت اور ان پر باثر افراد کی جانب سے گھر بننا شروع ہوئے تو 1992 میں سی ڈی اے نے یہاں آپریشن کیا۔ غیر قانونی گھر گرانے کے دوران دو پولیس والوں سمیت چار افراد مارے گئے۔ مقامی افراد اور متاثرین سی ڈی اے کے خلاف عدالت میں چلے گئے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے 1998 میں ان کے حق میں فیصلہ دے دیا جس کو سپریم کورٹ نے 1999 میں معطل کر دیا۔ لیکن عدالت کا یہ فیصلہ سی ڈی اے کی زوننگ ریگولیشنز پر اثر انداز ہوا۔

’غیر منصفانہ‘ زوننگ

اس سے پہلے 1992 کی زوننگ ریگولیشنز کے تحت بنی گالہ زون 3 اور زون 4 میں تقسیم تھا۔ نیشنل پارک ہونے کے ناطے یا تو یہاں تعمیرات کی اجازت نہیں تھی یا اگر تھی بھی تو بہت محدود، لیکن 2005 میں ان ریگولیشنز میں جو ترامیم کی گئیں ان کے تحت زون 4 میں محدود تعمیرات کی اجازت دی گئی۔ 2007 میں سپریم کورٹ کی ایک ججمنٹ جس میں اسلام آباد کی زوننگ کو غیر منصفانہ قرار دیا گیا تھا، کی بنا پر 2010 میں زوننگ میں تبدیلی کر دی گئی اور اس کی بنیاد پر اب زون 4 کے کچھ علاقوں میں رہائشی اور کمرشل عمارتوں کی اجازت دے دی گئی جو کہ اس سے پہلے نیشنل پارک کا حصہ تھے۔ اسی بنیاد پر سی ڈی اے نے زون 4 میں پارک انکلیو بنا لیا جبکہ اسی زون میں پرائیویٹ ڈویلپرز نے بھی دھڑا دھڑ آبادیاں بنا لی ہیں۔

سی ڈی اے کے سابق ممبر پلاننگ، ایڈمنسٹریشن اور انوائرمنٹ سید مصطفین کاظمی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ سی ڈی اے شہری علاقوں کا ذمہ دار ہے یا اس جگہ کا جو ایکوائر کی گئی ہو۔ اسلام آباد میں 23 یونین کونسلیں دیہی ہیں, جن کا انتظام کمشنر کے ماتحت ہے۔ بنی گالہ کو بھی ضلعی انتظامیہ ہی دیکھ رہی تھی۔ وہاں یونین کونسل والے ہی خرید و فروخت اور ان پر تعمیرات کی اجازت دیتے رہے ہیں۔

زون 3 سے 4 تک کا سفر

بنی گالہ کا کل رقبہ 19 ہزار کنال سے زائد ہے۔ لوگوں نے یہاں ہزاروں گھر بنا لیے ہیں کیونکہ اسلام آباد شہر میں کہیں بھی 50 لاکھ سے دو کروڑ کی کنال جگہ نہیں ملتی لیکن یہاں مل جاتی ہے۔ لوگ گھر تو بناتے جا رہے ہیں لیکن ڈاکٹر قدیر کے علاوہ کسی کا گھر ریگولرائز نہیں ہوا۔ ان کا گھر ضلعی انتظامیہ نے ریگولرائز کیا تھا اور اب عمران خان کا سی ڈی اے نے کیا ہے۔

عمران خان کیس اصل میں یہ بنتا ہے کہ ان کا گھر زون 3 میں آتا ہے جہاں کسی صورت تعمیرات کی اجازت نہیں ہے۔ یہ زون ایسا علاقہ ہے جو راول ڈیم کے دو کلومیٹر کیچ منٹ ایریا پر مشتمل ہے۔ یہ پیمائش ڈیم کے پانی سے کی جاتی ہے لیکن سی ڈی اے نے سڑک سے پیمائش کر کے عمران خان کے گھر کو زون 3 سے نکال کر زون 4 میں ڈال دیا ہے تاکہ ان کو ریگولرائز کیا جا سکے۔

زون 4 میں ہی فارم ہاؤسز ہیں, جہاں مشرف دور میں فارم مالکان کو 20 فیصد رقبے پر تعمیرات کی اجازت دی گئی تھی کیونکہ اس وقت کے صدر جنرل پرویز مشرف نے بھی یہاں فارم لے لیا تھا۔

زون 3 سے نکال کر زون 4 میں ڈالنے کا جو فائدہ عمران خان کو دیا گیا ہے وہ بنی گالہ کے کسی اور رہائشی کو نہیں ملا۔ بلکہ زون 4 میں ڈالنے کے بعد ان کے قریبی لوگ تو اب یہ کہہ رہے ہیں کہ عمران خان تو 300 کنال میں سے 60 کنال پر تعمیرات کر سکتے ہیں جبکہ انہوں نے فی الوقت صرف11 ہزار مربع فٹ پر گھر بنا رکھا ہے۔

پھر دوسرا سوال یہ بھی ہے کہ یہ تمام رہائشی جو راول ڈیم کے کناروں پر آباد ہو چکے ہیں، ان میں جج بھی ہیں، جرنیل بھی ہیں اور بیوروکریٹس بھی، کوئی ایسی سیاسی جماعت نہیں جس کے سرکردہ افراد کے یہاں پر گھر نہ ہوں بلکہ میڈیا کے مالکان اور اینکر بھی یہاں آباد ہو چکے ہیں۔ یہ سب بااثر لوگ ہیں۔ سی ڈی اے اب ان کے گھر گرا نہیں سکتا تو ریگولرائز ہی کر دے۔

جو لوگ راول ڈیم کی آلودگی کی بات کرتے ہیں، انہیں معلوم نہیں کہ بہارہ کہو سے بری امام تک تمام سیوریج نالے راول ڈیم میں ہی گر رہے ہیں۔ مری تک کے مرغی خانوں کا گند بھی یہیں بہہ کر آرہا ہے۔

ویسے بھی راول ڈیم کی عمر 40 سال تھی جو کہ پوری ہو چکی ہے۔ شروع میں اس کا پانی دس کے قریب گاؤں کی زمینوں کو سیراب کرتا تھا مگر اب صرف نیشنل ایگریکلچرل اینڈ ریسرچ کونسل کی زمینوں کو ہی دیا جاتا ہے۔ اسلام آباد والے یہ پانی پہلے ہی نہیں پیتے، صرف پنڈی والے یہ پانی پیتے ہیں۔ اس لیے راول ڈیم کو اب صرف ایک جھیل کا درجہ دے کر پنڈی شہر کے لیے کوئی نیا ڈیم بنایا جائے۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ