وفاقی کابینہ: امریکی ریکوری فرم کو دو کروڑ 87 لاکھ ڈالر جرمانہ اداکرنے کی منظوری 

نیب کے سابق پروسیکیوٹر عمران شفیق نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ 'اتنے مہنگے معاہدے کے باوجود لیگل فرم براڈ شیٹ کوئی اہم معلومات فراہم کرنے میں ناکام رہی، نیب نے ملک کو اتنا بڑا نقصان پہنچا دیا اور کوئی پوچھنے والا ہی نہیں۔'

(فائل فوٹو)

نیب کے سابق پروسیکیٹر عمران شفیق نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ اتنے مہنگے معاہدے کے باوجود لیگل فرم براڈ شیٹ کوئی اہم معلومات فراہم کرنے میں ناکام رہی۔ انہوں نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نیب نے ملک کو اتنا بڑا نقصان پہنچا دیا اور کوئی پوچھنے والا ہی نہیں۔'

پاکستان کی وفاقی کابینہ نے امریکی اثاثہ جات ریکوری فرم براڈ شیٹ (ایل ایل سی) کو دو کروڑ 87 لاکھ ڈالر جرمانہ اداکرنے کی منظوری دے دی ہے۔

تاہم پاکستانی حکام نے فیصلہ کیا ہے کہ لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن سے لاکھوں ڈالر لینے کا برطانوی عدالتی حکم چیلنج کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ پاکستان نے جنرل پرویز مشرف کی حکومت کے دوران امریکی فرم براڈ شیٹ سے معاہدہ کیا تھا جس کا مقصد بیرون ملک سو سے ڈیڑھ سو پاکستانیوں کے اثاثوں کی معلومات اکٹھا کرنا تھا۔

نیب کے سابق پروسیکیٹر عمران شفیق نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ اتنے مہنگے معاہدے کے باوجود براڈ شیٹ کوئی اہم معلومات فراہم کرنے میں ناکام رہی۔

'ریکارڈ یہ بتاتا ہے کہ براڈ شیٹ نواز شریف، ان کے کسی رشتہ دار یا کسی بھی دوسرے پاکستانی سےمتعلق کوئی معلومات فراہم نہیں کر سکی۔'

انہوں نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نیب نے ملک کو اتنا بڑا نقصان پہنچا دیا اور کوئی پوچھنے والا ہی نہیں۔'

عمران شفیق کا خیال تھا کہ پاکستان پر جرمانہ لگنے کی کچھ ذمہ داری دوسرے اداروں پر بھی آتی ہے جن کا کام اٹارنی جنرل کو بروقت اطلاع دینا تھی۔

نیب نے لند ن ہائی کورٹ میں دائر مقدمہ ہارنے کے بعد لیگل فرم براڈ شیٹ کو جرمانے کے چار ارب اٹھاون کروڑ روپے ادا کردیے ہیں۔

نیب کے وکیل اور لیگل فرم کو فیس کی ادائیگی کے بعد یہ رقم سات ارب اٹھارہ کروڑ روپے تک پہنچ جائے گی۔

برطانوی ہائی کورٹ کی جانب سے جرمانہ عائد کیے جانے کے بعد بروقت ادائیگی نہ کرنے پر پاکستان کو نوے لاکھ ڈالر کا سود بھی ادا کرنا پڑا ہے۔

پاکستان نے برطانوی لیگل فرم کو کل دو کروڑ نوے لاکھ ڈالر ادا کیے ہیں۔

برطانوی ہائی کورٹ نے نیب کو 31 دسمبر تک جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔ جرمانے کی عدم ادائیگی کے بعد برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمیشن کا اکاونٹ منجمد کردیا گیا تھا۔

امریکی کمپنی کی خدمات پاکستان میں انسداد بدعنوانی کے لیے کام کرنے والے قومی احتساب بیورو (نیب) نے 2000 میں پرویز مشرف دور کے دوران حاصل کی تھیں۔

اس اقدام کا مقصد بیرون ملک مقیم ڈیڑھ سو سے زیادہ پاکستانیوں کے خفیہ اثاثوں کی تحقیقات کرنا تھا۔

ان پاکستانیوں میں سابق وزیراعظم نواز شریف کا خاندان بھی شامل تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

نیب نے 2003 میں معاہدہ ختم کر دیا تھا جس کے بعد براڈشیٹ نیب کے خلاف لاکھوں ڈالر کے ہرجانے کا دعویٰ دائر کر دیا۔

گذشتہ برس براڈشیٹ نے نیب کے ذمے دو کروڑ 20 لاکھ ڈالر کے واجبات کی ادائیگی کے لیے لندن ہائی کورٹ میں دعویٰ دائر کیا۔ براڈشیٹ نے یہ بھی کہا کہ اس رقم میں 4758ڈالر یومیہ سود بھی شامل کیا جائے گا۔

سترہ دسمبر کو برطانیہ کی ایک عدالت نے برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمیشن کے اکاؤنٹس سے دو کروڑ87 لاکھ ڈالر جاری کر نے کا حکم دیا۔

سفارتی مشن 22 دسمبر کی ڈیڈلائن کے مطابق عدالتی حکم کو چیلنج کرنے میں ناکام رہا۔ ڈیڈلائن کے مطابق پاکستانی ہائی کمیشن نے امریکی فرم کو 31 دسمبر تک جرمانہ ادا کرنا تھا۔

عمران شفیق نے کہا کہ 'نیب کو معاہدہ ختم کرنا ہی تھا تو اسے قانونی طریقے سے کرتے تاکہ ملک پر اتنا بڑا جرمانہ عائد نہ ہوتا۔'

انہوں نے مزید کہا کہ نیب کی جانب سے معاہدہ توڑے جانے کی وجہ ابھی تک معلوم نہیں ہو سکی ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو نے اسلام آباد میں نیب کے ترجمان سے اس سلسلے میں معلومات کی کوشش کی تو انہوں نے کہا کہ یہ سوموار کو ہی ممکن ہو گا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان