واشنگٹن کا دھرنا اور پاکستان کے لیے سبق‎

امریکہ اب دوبارہ تعمیر کی طرف گامزن ہے۔ مگر کیا ہم اپنی ماضی کی غلطیوں سے سیکھ کر اپنے نظام کو درست کر رہے ہیں۔

کیپیٹل ہل کے باہر ایک پولیس اہلکار (اے ایف پی)

ایک اچھی جمہوریت میں سیاست دانوں کے لیے آئین، قانون اور روایات اہم ستون ہیں۔ یہ تینوں مل کر سیاست دانوں کے فیصلوں اور اعمال کو رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ جن ممالک میں سیاست دان کسی ضابطہ، آ ئین اور روایات کا احترام نہیں کرتے وہاں ہمیشہ سیاسی عدم استحکام رہتا ہے۔

2015 میں جب ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کی صدارت کے لیے ریپبلکن پارٹی کے امیدوار نامزد ہوئے تو ایک سفید فام امریکی سے میں نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ سفید فام امریکی کا کہنا تھا کہ نظام اتنا توانا ہے کہ ٹرمپ بحیثیت صدر ایک حد سے زیادہ نہیں بڑھ سکتا اور اس کے غلط فیصلوں کو نظام روک دے گا۔ میرا جواب یہ تھا کے روایات پامال ہوں گی اور ٹرمپ کے پرتشدد الفاظ اور نفرت انگیز رویہ امریکی سماج کی بنیادیں ہلا دے گا۔ پچھلے چار سال آپ کے سامنے ہیں فیصلہ آپ خود کر لیں۔ 

یہ تحریر آپ مصنف کی آواز میں یہاں سن بھی سکتے ہیں

 


امریکہ میں ایک جمہوری روایت یہ ہے کے ہارنے والا امیدوار جیتنے والے کو ٹیلی فون کر کے مبارک باد دیتا ہے اور اپنے تعاون کا یقین بھی دلاتا ہے۔ ٹرمپ نے ناصرف یہ کہ اس روایات پر عمل نہ کیا بلکہ یہ جھوٹا دعوی بھی کیا کہ وہ الیکشن جیتے ہوئے تھے اور ان کو فراڈ سے ہرایا گیا۔ ٹرمپ کے وکیلوں نے کئی درجن مقدمات کیے مگر تمام خارج کر دیئے گئے اس لیے کہ وکیل کوئی ثبوت نہ دے سکے۔

ایک اہم بات یہ ہے کے وہ ریاستیں جہاں ریپبلکن پارٹی کی حکومتیں ہیں وہاں بھی ٹرمپ نہ جیت سکے اور انہوں نے کئی دفعہ ان پارٹی عہدے داروں پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی کہ نتائج ان کے حق میں بدل دیئے جائیں۔ الیکشن کے مراحل کا آخری حصہ وہ ہے جب امریکہ کی کانگریس ان نتائج کو سرٹیفیکٹ جاری کرتی ہے۔ یہ مرحلہ چھ جنوری کو ہونا تھا اور اس عمل کو روکنے کے لیے ٹرمپ نے اپنے حمایتیوں کو کانگریس پر چڑھائی کے لیے اکسایا۔ اسی نتیجہ میں واشنگٹن میں وہ دھرنا ہوا جو پوری دنیا نے دیکھا۔ 

اس تمام کشمکش میں کئی ایسے سبق ہیں جو سیاست دانوں اور عوام دونوں کو سیکھنے چاہیے۔ پہلا سبق جو میرے لیے اہم تھا وہ یہ کہ اچھی جمہوریت اس وقت تک نہیں چل سکتی جب تک سیاسی پارٹیاں اپنے لیڈروں کو کسی اصول، ضابطہ اور روایت کا پابند نہ کریں۔ مجھے ہمیشہ اس بات پر حیرت ہوئی کے ریپبلکن پارٹی کے چوٹی کے رہنماؤں نے کبھی ٹرمپ کے غلط فیصلوں پر نہ اسے روکنے کی کوشش کی اور نہ اس کے خلاف آواز اٹھائی- صرف ایک سینیٹر مٹ رومنی ایسے تھے جو ٹرمپ کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہو گئے۔

جرمنی، فرانس اور انگلستان میں سیاسی پارٹیوں کے پارلیمانی ممبران اپنے سربراہوں کے سامنے کھڑے ہو جاتے ہیں اسی لیے وہاں حالات ابھی تک کنٹرول میں ہیں۔ پاکستان میں اس طرح کی کوئی روایت نہیں ہے۔ پارٹیوں میں آمریت ہے۔

پی ٹی آئی کے سینٹرل کمیٹی کے لوگ جانتے ہیں کہ میں عمران خان کے غلط فیصلوں پر اس کے سامنے کھڑا ہوا۔ اسی وجہ سے کبھی پارٹی عہدہ اور ٹکٹ نہ دیا گیا۔ مجھے اس کا کوئی افسوس نہیں ہے۔ مسلم لیگ نواز، پیپلز پارٹی، اور دوسری  پارٹیوں میں بھی آمریت ہے اور جو پارٹی سربراہ کو ناراض کر دے اس کا سیاسی مستقبل ختم۔ ایسے لوگوں کی ایک لمبی فہرست موجود ہے جنہیں پارٹی سربراہوں نے اختلاف کے بعد پیچھے دھکیل دیا حالانکہ ان کے مشورے مفید تھے۔
دوسرا سبق یہ ہے کہ امریکی روایت کے مطابق دونوں سیاسی پارٹیاں اہم معاملات پر مفاہمت کا راستہ کانگریس میں نکالتی ہیں اور روڈوں پر احتجاج نہیں کرتیں۔ واشنگٹن کے ہنگاموں کے بعد بھی اسی دن دونوں پارٹیوں نے مل کر رات گئے تک کارروائی جاری رکھی اور نو منتخب صدر جو بائیڈن کی جیت کا الیکشن سرٹیفیکٹ جاری کیا۔ اس طرح انہوں نے سیاست میں تشدد پسندی کو ہرا دیا۔

ٹرمپ نے روڈوں پر لوگوں کو لا کر اپنے ذاتی سیاسی مفاد حاصل کرنے کی کوشش کی۔ پاکستان میں پارلیمان میں کوئی سیاست نہیں ہوتی۔ ہر پارٹی روڈوں پر احتجاج کر کے سیاسی عدم استحکام پیدا کرتی ہیں۔ میں پی ٹی آئی کے دھرنے کے سخت خلاف تھا اور آج پی ڈی ایم کے لانگ مارچ کی بھی ا سوقت تک حمایت کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے جب تک اس کا مقصد اقتدار کا حصول ہے اور نظام کی بجائے صرف چہروں کی تبدیلی ہے۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)


تیسرا سب سے اہم سبق امریکہ کے واقعات کا یہ ہے کہ ووٹ کی عزت کو ہر صورت میں برقرار رکھا گیا۔ دونوں سیاسی پارٹیوں نے مل کر اس بات کو یقینی بنایا کہ ہر ووٹ کو امانت سمجھ کر اس کی حفاظت کی جائے تاکہ جس امیدوار کو لوگوں نے چنا ہے وہی صدر، سینیٹر یا کانگریس کا ممبر بنے۔

کئی ریاستیں جہاں ریپبلکن پارٹی کئی دھائیوں سے جیت رہی ہے اور جہاں اسی پارٹی کی حکومت ہے وہاں سے ناصرف ٹرمپ ہارا بلکہ جارجیا ریاست میں سینٹ کی دونوں سیٹیں بھی سخت مقابلے کے بعد مخالف پارٹی ڈیموکریٹ پارٹی جیتی جا کے بعد سینٹ میں ریپبلکن پارٹی کی اکثریت ختم ہو گئی۔  کسی قسم کا دباؤ ان عہدے داروں نے قبول کرنے سے انکار کر دیا، ووٹ کی امانت میں خیانت نہیں کی، اور ووٹ کی عزت کو یقینی بنایا۔

دوسری طرف ہمارا حال دیکھیں۔ ہر الیکشن سیاسی انجینرنگ کی نظر ہو جاتا ہے۔ بیلٹ پیپر ردی کی ٹوکریوں اور کچرے کے ڈبوں سے ملتے ہیں۔ 2018 کے الیکشن میں  آر ٹی ایس ایک اچھا نظام تھا اسے بند کردیا گیا تاکہ نتائج مبینہ طور پر بدلے جائیں۔ آج تک پی ٹی آئی اور پی ڈی ایم نے اس پر نہ تحقیق کرائی اور نہ ان ووٹ چوری کرنے والوں کو سخت سے سخت سزا دینے کی کوشش کی۔

آخری سبق یہ کہ جن لوگوں نے واشنگٹن میں توڑ پھوڑ کی انہیں سزائیں دینے کا مطالبہ دونوں سیاسی پارٹیاں کر رہی ہیں۔ بہت سے لوگ گرفتار ہو چکے ہیں اور کئی ایک کے وارنٹ جاری ہوئے۔ جبکہ پاکستان میں ہر پارٹی ایک قبیلہ ہے جو اپنے گلوں کو اکساتے ہیں کہ توڑ پھوڑ کریں اور انہیں ہر صورت میں قانون سے بچاتے ہیں۔ جن لوگوں نے کئی  ہفتے سڑکیں بلاک کر کے عوام کی زندگی اجیرن کی انہیں سرکاری خزانے سے پیسے دیئے گئے۔ 
امریکہ اب دوبارہ تعمیر کی طرف گامزن ہے۔ مگر کیا ہم اپنی ماضی کی غلطیوں  سے سیکھ کر اپنے نظام کو درست کر رہے ہیں۔ اس بات کا امتحان اس وقت ہوگا جب ہم قومی سیاسی مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر اس نظام کو ٹھیک کرنے کی کوشش کریں گے۔ قوم ہم سب کی طرف دیکھ رہی ہے۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ