لاہور:ترک کمپنیوں سے معاہدہ ختم، تعفن کیسے کم ہوگا؟

ایل ڈبلیو ایم سی کے مطابق  دو ترک کمپنیوں الباراق اور اوزپاک کے معاہدے میں نئے ریٹ کے ساتھ ہر سال توسیع ہوتی تھی، موجودہ حکومت نے پہلے سال ہی ان کو دیے جانے والے فنڈز پر اعتراض کیا۔ کچھ دن تک فنڈز جاری نہ ہوئے تو کمپنیوں نے کام روک دیا۔

(تصویر: گلاس ڈور گوگل)

پنجاب کے دارالحکومت لاہورمیں ان دنوں جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر لگے دکھائی دیتے ہیں جن سے تعفن پھیلنے لگاہے۔

گلی محلے اور بازار تو کیا مرکزی شاہراہوں کے کنارے بھی ان دنوں کوڑے کی نذر ہورہے ہیں۔

صفائی کی بگڑتی ہوئی صورت حال پر انتظامیہ تو  جلد قابو پانے کے دعوے کر رہی ہے لیکن شہری اور تاجر پریشان ہیں کہ کہیں لاہور بھی کراچی کی طرح کچرے سے نہ بھر جائے۔

یہ صورت حال چند روز پہلے اس لیے پیدا ہوئی ہے کہ صفائی کاجو ٹھیکہ سابقہ دور حکومت میں 2011میں صفائی اور کچرا اٹھانے والی ترکی کی کمپنیوں الباراق (Albayrak)اور اوزپاک(OZPAK)کو دیاگیاتھا،  موجودہ حکومت نے اس سال کے شروع ہوتے ہی اس ٹھیکے میں توسیع کرنے سے انکار کردیا جس کے بعد کمپنیوں  نے کام بند کردیا۔

گذشتہ نو سال  سے صوبائی شہر اقتدار کی صفائی کا کام قدرے بہتر رہا ہے لیکن موجودہ حکومت نے ان کمپنیوں کو خطیر رقم کی ادائیگی بلاجواز قرار دے کر بچت کا راستہ اپنایاہے۔

انتظامیہ کے مطابق اب صفائی کا کام لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی خود کرے گی۔ اس مقصد کے لیے مشینری کرائے پر لے لی گئی ہے اور چند روز میں شہر سے گندگی کے ڈھیر ختم ہوجائیں گے۔

سابقہ اور موجودہ حکمرانوں کی صفائی پالیسی

انڈپینڈنٹ اردو کو موصول ہونے والی پنجاب اسمبلی میں جمع کرائی گئی لاہورسالڈ ویسٹ مینجمنٹ کمپنی (ایل ڈبلیو ایم سی)کی آڈٹ رپورٹ میں بتایاگیاہے کہ 1992 تک لاہور میں سالڈ ویسٹ مینجمنٹ(ایس ڈبلیو ایم) کمپنی کے نام سے میونسپل کارپوریشن کی برانچ کرتی تھی۔

پھر 2009میں اس شعبے کو بہتر بنانے کے لیے ایک ذیلی برانچ پراجیکٹ مینجمنٹ یونٹ(پی ایم یو)قائم کیا گیا مگر مسائل حل نہ ہونے پرایک سال بعد ہی سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کمپنی نے مارچ 2010میں سابق وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف کو ایک سمری بھجوائی کہ شہر میں تسلی بخش صفائی کا نظام بنانے کے لیے لاہور سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے نام سے الگ اور باختیار کمپنی قائم کرنا لازمی ہے۔

پنجاب کے محکمہ خزانہ نے اس کمپنی کے قیام سے اخراجات اور اس کی تشکیل پر  اعتراض اٹھائے تھے لیکن سابق وزیر اعلی نے کمپنی تشکیل دینے کی منظوری دے دی۔

 آڈٹ رپورٹ کے مطابق جب نئی کمپنی تشکیل دینے سے بھی شہر میں صفائی کا نظام بہتر نہ ہوا تو پنجاب حکومت نے یہ ذمہ داری غیر ملکی کمپنیوں کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا اور ایک سال بعد یعنی 2011 میں صفائی کا کام آؤٹ سورس کر کے ترک کمپنیوں الباراق اور اوزپاک کو کام سونپ دیا۔

معاہدہ طے پایا کہ دونوں کمپنیوں کو پہلے سال 25لاکھ 44 ہزار ڈالر رقم اداکی جائے گی ۔یہ رقم ہر سال کام میں بہتری کے معیار کی بنیاد پر بڑھائی یا کم کی جاسکے گی۔ان کمپنیوں نے اپنی جدید مشینری سے صفائی، کوڑا اٹھانے اور تلف کرنے تک کا کام سنبھال لیا اور تب سے یہی کمپنیاں کام کرتی رہیں۔

پی ٹی آئی حکومت نے اقتدار سنبھالا تو سب سے پہلے وزارت بلدیات کا قلمدان سینئر صوبائی وزیر عبدالعلیم خان کو سونپاگیا جب وہ نیب میں گرفتارہوئے اور وزارت سے مستعفی ہوئے تو اس کے بعد یہ وزارت صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت کو دے دی گئی ۔

ایل ڈبلیو ایم سی کے مطابق ان دونوں ترک کمپنیوں کے معاہدے میں نئے ریٹ کے ساتھ ہر سال توسیع ہوتی تھی۔ موجودہ حکومت نے پہلے سال ہی ان کو دیے جانے والے فنڈز پر اعتراض کیا۔ کچھ دن تک فنڈز جاری نہ ہوئے تو کمپنیوں نے کام روک دیا۔ نتیجے کے طور پر شہر میں ہر طرف کچرے کے ڈھیر لگ گئے۔ عوامی دباؤمیں حکومت نے فنڈز جاری کر دیے اور دوبارہ صفائی کا کام شروع ہوگیا۔

گذشتہ سال وزارتوں میں ردوبدل کیاگیا تو بلدیات کی وزارت وزیر اعلی پنجاب نے اپنے پاس رکھ لی ۔ گذشتہ سال کے آخر میں صفائی کمپنیوں کو ادائیگی کی سمری کابینہ میں پیش ہوئی تو وزیر اعلی پنجاب کے سامنے بھی زائد ادائیگی کا اعتراض رکھا گیا جس پر کابینہ نے فیصلہ کیاکہ ان کمپنیوں سے معاہدہ ختم کر کے صفائی کا کام پہلے سے موجود ایل ڈبلیو ایم سی کے ذریعے کروایاجائے۔ لہذا یکم جنوری سے ترکی کی کمپنیوں نے تو کام بند کر دیا اور شہر میں ہر طرف کوڑے کے ڈھیر لگ گئے اور شہریوں کے مطابق تعفن پھیلنے لگاہے۔

عوامی شکایات اور حکومتی اقدامات

لاہور کے علاقے برنس روڑ،ہال روڑ،بند روڑ، راوی روڑ،سمن آباد،لکشمی چوک،گڑھی شاہو،فیروزپور روڑ سے ملحقہ علاقے،راوی روڑ اور شاہدرہ سمیت گارڈن ٹان،جوہر ٹان اچھرہ وشادمان جیسے پوش علاقوں میں بھی کچرا ہی کچرا پھیلا ہواہے۔

راوی روڑ کے تاجر رہنما شاہد سلیم نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا:  ' جتنی گندگی گذشتہ ماہ سے پھیلی ہے اتنی پہلے کبھی نہیں دیکھی ۔ ہم موجودہ حکومت کے مخالف نہیں لیکن جو شہباز شریف دور میں کچرا اٹھانے اور صفائی کا نظام تھا وہ دوسالوں سے سست روی کاشکار ہے ۔موجودہ حکومت سے صفائی کا کام بھی بہتر نہیں کروایاجارہا۔ '

شاہد کے مطابق صفائی کا ٹھیکہ جس کے پاس بھی تھا لیکن شہر میں صبح سویرے ہر چھوٹی بڑی سڑک اور گلی محلوں میں صفائی ہورہی ہوتی تھی مگر اب کوئی صفائی کرنے والا تو نظر نہیں آتالیکن کوڑا پھیلتا دیکھائی دے رہاہے۔ہر طرف کچرے کے ڈھیر لگنے سے تعفن پھیل رہاہے۔

 انہوں نے کہا حکومت کے آتے ہی سنا تھا وزیر اعلی عثمان بزدار اپنے آبائی ضلع ڈیرہ غازی خان کی محرومیاں دور کر کے لاہور جیسا بنائیں گے مگر اب لگتاہے کہ وہ لاہور کو بھی ڈیرہ غازی خان بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیاکہ کچرے کے ڈھیر ہٹا کر صفائی کا نظام موثر بنایا جائے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایل ڈبلیو ایم سی کے ترجمان جمیل خاور سے جب اس صورت حال پر بات کی گئی تو انہوں نے بتایاکہ ترک کمپنی الباراق اور اوز پاک ہر سال معاہدہ کے تحت رقم میں اضافہ تو کر رہی تھیں لیکن صفائی کا معیار گرتاجارہاتھا۔ ان کی مشینری بھی نو سال پرانی ہوچکی تھی۔ انہیں نوٹس بھجوانے سے بھی کام بہتر نہیں ہوتاتھا۔ دوسرا یہ کہ موجودہ حکومت نے سابقہ حکومت کی جانب سے معاہدوں پر تحفظات کا اظہار کیا ہے کہ کام کے لحاظ سے کمپنیاں زائد رقم وصولی کر رہی ہیں۔

ترجمان کا کہنا تھاکہ اسی لیے حکومت نے فیصلہ کیاہے کہ ان کمپنیوں کی بجائے مشینری کرائے پر لے کر ایل ڈبلیو ایم سی کا اپنے عملے اور مقامی ٹھیکے داروں کے ذریعے صفائی کروائی جائے گی۔ تمام تیاریاں مکمل ہیں۔ آئندہ چند روز میں شہر سے کچرے کے ڈھیر ہٹا دیئے جائیں گے اور پھر روزانہ کی بنیاد پر صفائی کا کام شروع ہوجائے گا۔

الباراق کمپنی کی ترجمان نعیمہ سعید کے مطابق کچھ ایسے معاملات ہیں جن کے بارے میں ایل ڈبلیو ایم سی نے ان کی کمپنی کو خطوط لکھے جن کا جواب بھی دیا گیا۔نعیمہ سعید نے مزید کہا کہ ایل ڈبلیو ایم سی کمپنی کو گذشتہ سال مارچ سے لے کر آج تک مکمل ادائیگیاں نہیں کرسکی ۔وہ جزوی ادائیگیاں کر رہے تھے۔

نعیمہ کا کہنا تھا کہ ہمارے ساتھ 13 ڈالر فی ٹن کے حساب سے کچرا اٹھانے کا ٹھیکہ تھا اور یہ معاہدہ 31 دسمبر 2020 تک تھالیکن ایل ڈبلیو ایم سی کی ٹیم نے معاہدے کی مدت ختم ہونے سے قبل ہی ہمارے دفاتر پر دھاوا بول دیا اور سامان قبضے میں لے لیا۔

ترک کمپنیوں نے تنبیہ کی ہے کہ غیر قانونی اقدامات کا سلسلہ نہ روکا گیا تو وہ عالمی عدالت انصاف سے بھی رجوع کر سکتی ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ماحولیات