43 ملکوں نے ویکسین لگانا شروع کر دی، پاکستان کی باری کب؟

اس وقت اومان اور گنی سمیت 43 ملکوں نے کرونا کے خلاف ویکسینیشن شروع کر دی ہے، مگر پاکستان ابھی تک حالات پر ’نظر رکھے ہوئے ہے۔‘

پاکستان نےفی الحال پانچ لاکھ لوگوں کی ویکسینیشن کا بندوبست کیا ہے (اے ایف پی)

اس وقت دنیا کے 43 ملکوں میں کرونا وائرس کے خلاف ویکسینیشن شروع ہو چکی ہے، اور اب تک تین کروڑ کے قریب لوگوں کو اس وائرس کے خلاف حفاظتی ٹیکے لگائے جا چکے ہیں۔

امریکہ، برطانیہ، جرمنی، چین، روس، اسرائیل، سعودی عرب اور کویت جیسے ملکوں  کو اگر اہم ایک طرف بھی رکھ دیں، تب بھی بحرین، اومان، گنی، کوسٹا ریکا، سربیا، چلی اور ارجنٹائن جیسے ملک ویکسینیشن کی مہم شروع کر چکے ہیں۔ 

مگر ان 43 ملکوں میں پاکستان کا نام شامل نہیں ہے، کیوں کہ حکام کے مطابق ابھی تک حکومت ابھی تک حالات پر نظر ہی رکھے ہوئے ہے۔

وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی ڈاکٹر فیصل سلطان نے پیر کے روز ہیلتھ  کی کمیٹی کے بعد میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ تین چار روز میں حتمی طور پہ طے کر لیا جائے گا کہ کرونا ویکسین کس کمپنی سے لی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ چار پانچ کمپنیوں سے بات چیت چل رہی ہے۔ ڈاکٹر فیصل نے یہ بتانے سے بھی گریز کیا کہ پاکستان کس ملک اور کس کمپنی سے ویکسین خرید رہا ہے۔ 

گویا ابھی معاملہ بات چیت کی سطح پر ہے، اور کوئی واضح فیصلہ نہیں ہوا۔ 

اس سے قبل ڈاکٹر فیصل مقامی میڈیا کو خبر دے چکے تھے کہ پاکستان نے 11 لاکھ خوراکیں منگوانے کا معاہدہ کیا ہے جو جنوری ہی میں پاکستان پہنچ جائیں گی۔

 تاہم وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے پیر کو ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ویکسین فروری میں ملک پہنچے گی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

 22 کروڑ آبادی کے ملک میں یہ خوراکیں صرف پانچ لاکھ لوگوں، یعنی 0.2 فیصد کے لیے کافی ہوں گی، بقیہ 99.8 فیصد لوگوں کا کیا بنے گا، اس کا فی الحال کچھ پتہ نہیں۔

 اس کے مقابلے پر اس وقت تک بھارت ڈیڑھ ارب خوراکوں کے معاہدے کر چکا ہے۔ اسرائیل کی آبادی 88 لاکھ ہے، اور وہ پہلے ہی 18 لاکھ سے زائد لوگوں (20.7 فیصد) کو ویکسین لگا چکا ہے۔ اس کے علاوہ عرب امارات بھی اپنے دس فیصد شہریوں کو ویکسین لگا کر کرونا سے محفوظ بنا چکا ہے۔  

دوسری طرف پاکستان کے مختلف عہدے دار مختلف اطلاعات عوام تک پہنچا رہے ہیں۔ 

وزیر برائے سائنس فواد چوہدری نے 2020 کے آخری دن ایک ٹویٹ کے ذریعے خبر دی تھی کہ چینی کمپنی سائنو فارم سے 12 لاکھ ویکیسنیں خریدنے کا معاہدہ ہوا ہے جو 2021 کی پہلی سہ ماہی میں پاکستان پہنچیں گی۔

اب بظاہر ان میں سے ایک لاکھ ویکسینیں کم ہو گئی ہیں اور تعداد 11 لاکھ رہ گئی ہے، جو ساڑھے پانچ لوگوں کے لیے کافی ہونی چاہییں، لیکن اسد عمر نے صرف پانچ لاکھ لوگوں کا ذکر کیا ہے، گویا اس میں سے بھی 50 ہزار منہا ہو گئے۔

ویکسین کی دوڑ

اس وقت دنیا کے سینکڑوں ادارے اور کمپنیاں کرونا وائرس کی دوڑ میں جٹی ہوئی ہیں، اور چین، برطانیہ، امریکہ اور بھارت اپنی اپنی ویکسینیں بنا کر منظور کروا چکے ہیں۔ آج کی تاریخ میں نو ویکسینیں دنیا کے مختلف ملکوں میں منظور کی جا چکی ہیں، جن کی مختلف قیمتیں ہیں اور ان کی کامیابی کی شرح بھی مختلف ہے۔

منظور شدہ ویکسینیں یہ ہیں:

امریکہ موڈرنا/بائیون ٹیک
امریکہ موڈرنا
برطانیہ ایسٹرا زینیکا/آکسفورڈ
چین کین سائنو بائیولاجکس
چین سائنو فارم
چین سائنوویک بائیوٹیک
روس سپوتنک وی
روس ایپی ویک کرونا
بھارت کوویکسین
  ماخذ: RAPS.org

پچھلے ہفتے روس نے پاکستان کو ایک خط لکھ کر اپنی تیار کردہ سپوتنک ویکسین بیچنے میں دلچسپی ظاہر کی تھی، اور دعویٰ کیا ہے کہ یہ ویکسین دوسرے ملکوں کی ویکسینوں سے زیادہ سستی ہے اور اس کی کامیابی کی شرح 91.4 فیصد، یعنی امریکی ویکسینوں کے تقریباً برابر ہے۔

اس خط کا کیا جواب دیا گیا اور روس کے ساتھ معاملات کس مرحلے پر ہیں، اس کا بھی کوئی جواب نہیں۔

امریکی اخبار بلوم برگ کے مطابق اس وقت ویکسین کی آٹھ ارب 35 کروڑ خوراکوں کے معاہدے ہو چکے ہیں، جو دنیا کی آبادی سے زیادہ ہیں۔ البتہ یہ یاد رکھنے والی بات ہے کہ کین سائنو کے علاوہ باقی تمام ویکسینیں دو خوراکوں کی شکل میں دی جائیں گی، اس لیے خوراکوں کو دو پر تقسیم کر کے کل لوگوں کی تعداد حاصل کی جا سکتی ہے۔

   

زیادہ پڑھی جانے والی صحت