انڈونیشیا زلزلہ: 'ملبے سے لاشیں ملتی تھیں تو دل ہی دل میں روتا تھا'

جزیرے سلاویسی میں جمعے کو آنے والے 6.2 شدت کے زلزلے کے نتیجے میں اب تک 81 افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ طوفانی بارش کے نتیجے میں ریسکیو عملے کو متاثرین اور زخمیوں کی مدد میں مشکلات کا سامنا ہے۔

انڈونیشیا کے جزیرے سلاویسی میں جمعہ (15 جنوری) کو آنے والے زلزلے کے بعد طوفانی بارشوں کی وجہ سے طبی عملے کو متاثرین اور زخمیوں کی مدد کرنے میں سخت مشکلات کا سامنا ہے۔

 6.2 شدت کے اس زلزلے کے نتیجے میں اب تک 81 افراد ہلاک جبکہ ہزاروں بے گھر ہو چکے ہیں۔

امدادی عملہ ابھی تک ملبے میں دبے زندہ افراد کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہے جبکہ مسلسل بارشوں کے باعث بھی امدادی کارروائیوں میں مشکلات در پیش ہیں۔

ایک امدادی کارکن مریض الماجد نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا: 'جب بھی مجھے لاشیں ملتی تھیں تو میں دل ہی دل میں روتا تھا کیوں کہ اپنے فرض کی انجام دہی کے دوران میں دوسروں کے سامنے روتا ہوا نظر نہیں آسکتا۔ مجھے مضبوطی ظاہر کرنی چاہیے۔'

ہلاک ہونے والے افراد کی اکثریت کا تعلق مموجو کے علاقے سے ہے، جبکہ مغربی سلایسی صوبے میں زلزلے سے ایک لاکھ سے زائد افراد بے گھر بھی ہو چکے ہیں۔

دوسری جانب ڈاکٹرز زخمی مریضوں کے علاج میں مصروف ہیں جبکہ شہر کے باہر زلزلے سے بچ جانے والے ہسپتال میں عارضی انتظامات کے ساتھ مریضوں کا علاج کیا جا رہا ہے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق مموجو ہسپتال کے مینیجر آپریشنز نوروردی کا کہنا ہے کہ 'مریضوں کی آمد کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ پورے شہر میں صرف یہی ایک ہسپتال کام کر رہا ہے۔ کئی افراد کو سرجری کی ضرورت ہے لیکن ہمارے پاس وسائل اور ادویات کی محدود مقدار موجود ہے۔'

نوروردی کے مطابق ہسپتال میں جگہ کم ہونے کی وجہ سے مریضوں کے علاج کے لیے باہر خیمے لگا دیے گئے ہیں۔

انہیں خدشہ ہے کہ اگر ایک اور زلزلہ آیا تو عمارت گر سکتی ہے جس سے مشکلات میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔

بقول نوروردی: 'بہت سارے مریض ہسپتال کے اندر علاج نہیں کروانا چاہتے کیونکہ وہ ایک اور زلزلے سے خوف زدہ ہیں۔'

زلزلے سے جزیرے کے رہائشیوں میں خوف و ہراس پھیلا ہوا ہے۔ اسی علاقے کے رہائشیوں کو 2018 میں آنے والے سونامی کی تباہی کا بھی سامنا کرنا پڑا تھا، جس میں ہزاروں افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

زلزلے سے متاثر ہونے والے 19 ہزار افراد نے عارضی شیلٹرز میں پناہ لے رکھی ہے، جن کا کہنا  ہےکہ انہیں کھانے پینے، کمبل اور دیگر امدادی اشیا کی کمی کا سامنا ہے کیونکہ ہنگامی طور پر امدادی اشیا کو زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں کی جانب بھیجا جا رہا ہے۔

بہت سارے زندہ بچ جانے والے اپنے تباہ شدہ گھروں کو واپس نہیں جا سکے، یا پھر واپس جانے سے خوفزدہ ہیں۔

دوسری جانب پر ہجوم کیمپوں میں کرونا کی وبا پھیلنے کے پیش نظر حکام کی جانب سے غیر محفوظ افراد کو الگ کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

حالیہ دنوں میں 27 کروڑ آبادی والا یہ ملک کئی قدرتی آفات کا شکار ہوا ہے، جن میں جان لیوا لینڈ سلائیڈز، سیلاب اور آتش فشانی سمیت زلزلہ شامل ہے۔

سال 2004 میں دسمبر کے مہینے میں 9.1 شدت کے زلزلے کے باعث آنے والے سونامی سے خطے میں دو لاکھ 20 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے، جن میں ایک لاکھ 70 ہزار سے زائد انڈونیشیا سے تعلق رکھتے تھے۔

سال 2018 میں بھی 7.5 شدت کے زلزلے اور سونامی کے بعد سلاویسی جزیرے میں 4300 افراد ہلاک یا لاپتہ ہو گئے تھے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا