سینیٹ الیکشن سے متعلق وائرل ویڈیو کیا واقعی سپیکر ہاؤس کی ہے؟

انڈپینڈنٹ اردو نے اس بات کی تصدیق کے لیے مجموعی طور پر پانچ مستند ذرائع سے بات کی، جو کسی نہ کسی طریقے سے اس سارے معاملے سے وابستہ تھے یا انہیں سپیکر ہاؤس کے بارے میں کافی معلومات تھیں۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں تحریک انصاف کے سابق ایم پی اے عبید اللہ مایار  نظر آرہے ہیں۔ (سکرین گریب)

پاکستان کے سیاسی حلقوں میں گذشتہ تین دن سے سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو کے چرچے ہیں، جس میں مبینہ طور پر خیبرپختونخوا کے کچھ سابق اور ایک موجودہ رکن صوبائی اسمبلی کو ایک شخص سے نوٹوں کی گڈیاں وصول کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔

اس ویڈیو میں نظر آنے والے پاکستان تحریک انصاف کے سابق رکن صوبائی اسمبلی عبید مایار نے انڈپینڈنٹ اردو کو حال ہی میں دیے گئے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ یہ ویڈیو خیبرپختونخوا کے سپیکر ہاؤس میں اس وقت کی حکومت نے بنائی تھی اور ان کو یہ پیسے حکومت نے ہی ترقیاتی کاموں اور 2018 کے عام انتخابات سے قبل انتخابی مہم کے لیے دیے تھے۔

اسی ویڈیو کے حوالے سے ایک دوسرے سابق رکن صوبائی اسمبلی زاہد درانی نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ یہ ویڈیو خیبر پختونخوا کے سپیکر ہاؤس میں بنائی گئی ہے جہاں پر پیسوں کی تقسیم جاری تھی، تاہم ان کے مطابق وہ پیسے لیے بغیر وہاں سے چلے گئے تھے۔

دوسری جانب ویڈیو میں نظر آنے والے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے سابق رکن صوبائی اسمبلی محمد علی باچا، جو اس وقت پی پی پی کے پارلیمانی رہنما بھی تھے، نے اس حوالے سے اپنا موقف دیتے ہوئے بتایا ہے کہ ’اس کو ایڈیٹ کیا گیا ہے اور ویڈیو میں کہیں پر بھی یہ نظر نہیں آرہا ہے کہ میں نے کسی کو پیسے دیے ہیں۔‘

ان ساری باتوں سے قطع نظر انڈپینڈنٹ اردو نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ کیا واقعی یہ ویڈیو سپیکر ہاؤس میں بنائی گئی ہے؟ واضح رہے کہ قومی اسمبلی کے موجودہ سپیکر اسد قیصر خیبر پختونخوا اسمبلی کے سپیکر تھے۔

انڈپینڈنٹ اردو نے اس بات کی تصدیق کے لیے مجموعی طور پر پانچ مستند ذرائع، جن میں کچھ صحافی بھی شامل ہیں، سے بات کی، جو کسی نہ کسی طریقے سے اس سارے معاملے سے وابستہ تھے یا انہیں سپیکر ہاؤس کے بارے میں کافی معلومات تھیں۔

ایک مستند ذرائع، جو پیسے دینے کے اس معاملے سے باخبر ہیں اور اس وقت کے ارکان اسمبلی سے رابطے میں رہے تھے، نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’اس ویڈیو کے دو حصے ہیں اور دونوں کو ایڈیٹ کر کے اس سے ایک ویڈیو بنائی گئی ہے۔ ویڈیو کا وہ حصہ جس میں اراکین صوفے پر بیٹھے ہوئے ہیں اور انہیں پیسے دیے جارہے ہیں، یہ جگہ سپیکر ہاؤس ہے جبکہ اس کا دوسرا حصہ جس میں پی پی پی کے سابق رکن بیٹھے ہیں، یہ کسی اور جگہ پر بنائی گئی ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس بات کی تردید وفاقی وزیر پرویز خٹک نے بدھ کو ایک پریس کانفرنس کے دوران کی کہ یہ ویڈیو سپیکر ہاؤس کی نہیں بلکہ اسلام آباد میں واقع ایک گھر کی ہے، تاہم مذکورہ ذرائع نے بتایا کہ ’پرویز خٹک کی بات ٹھیک ہے کیونکہ لیک ویڈیو میں ایک حصہ پشاور کے سپیکر ہاؤس کا ہے لیکن اس میں چند ہی اراکین اسمبلی ہیں، جن کو پیسے دیے جارہے ہیں۔‘

ذرائع نے مزید بتایا: ’اسلام آباد کے جس گھر کی بات ہو رہی ہے وہ بھی ٹھیک ہے کیونکہ کچھ اراکین کو وہاں پر پیسے دیے گئے تھے۔یہ خریدو فروخت ایک مقام پر نہیں بلکہ مختلف مقامات پر کی گئی ہے۔‘

’اسی طرح ویڈیو کا دوسرا حصہ جس میں پی پی پی کے محمد علی شاہ باچا سگریٹ سلگا رہے ہیں، 2015 کی ہے جبکہ باقی حصہ جس میں پیسے دیے جا رہے ہیں ، یہ 2018 کی ویڈیو ہے۔‘

ذرائع نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ’اس قسم کی مزید ویڈیوز بھی سامنے آئیں گی، جس میں باقی اراکین اسمبلی کو پیسے لیتے ہوئے دیکھا جا سکے گا۔‘

پشاور کے ایک سینیئر صحافی جو مختلف سیاسی پارٹیوں اور پارلیمانی رپورٹنگ میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں، نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ویڈیو کے جس حصے میں پیسے دیے جا رہے ہیں، یہ سپیکر ہاؤس ہی ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ وہ متعدد بار سپیکر ہاؤس گئے ہیں اور اس کی تصدیق کوئی بھی وہاں پر جا کر کر سکتا ہے کہ یہ ویڈیو سپیکر ہاؤس کی ہے جبکہ ویڈیو کے دوسرے حصے کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اس بارے میں ان کو علم نہیں ہے کہ یہ کہاں پر بنائی گئی ہے۔

واضح رہے کہ بدھ کو قومی اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر نے اپنی ایک ٹویٹ میں اس بات کی تردید کی ہے کہ یہ ویڈیو سپیکر ہاؤس کی ہے۔

اسد قیصر نے لکھا: ’ویڈیو میں دکھائی جانے والی جگہ سپیکر ہاؤس پشاور ہے اور نہ میرا اس معاملے سے کوئی لینا دینا ہے۔ 2018 میں چیئرمین عمران خان نے بتایا کہ اس طرح کا لین دین ہوا ہے اور ساری پارٹی کا فیصلہ تھا کہ ان ارکان کے خلاف کارروائی کی جائے،اس طرح کے بیانات صرف معاملے سے توجہ ہٹانے کی بھونڈی کوشش ہے۔‘

انڈپینڈنٹ اردو نے سپیکر ہاؤس کی سابق تصاویر اور ویڈیوز کا بھی بغور جائزہ لیا تاکہ اس میں نظر آنے والی اشیا، فرنیچر یا دیوار پر لگے پوسٹرز کا لیک ہونے والی ویڈیو میں نظر آنے والی چیزوں سے موازنہ کیا جاسکے۔

تاہم اسمبلی کی ویب سائٹ اور اس وقت کے سپیکر ہاؤس سے جاری تصاویر میں انڈپینڈنٹ اردو کو ایسے کوئی شواہد نہیں ملے، جس سے یہ اندازہ لگایا جاسکے کہ یہ ویڈیو سپیکر ہاؤس کی ہے۔

جن تصاویر کا بغور جائزہ لیا گیا وہ زیادہ تر ان صوفوں اور کرسیوں کی ہیں، جہاں سپیکر بیٹھتے ہیں اور مہمانوں کے ساتھ ملاقاتیں کرتے ہیں لیکن ان تصاویر میں نظر آنے والی دیواریں لیک ویڈیو میں نظر آنے والی دیواروں سے مختلف ہیں۔

انڈپینڈنٹ اردو نے خیبر پختونخوا کے ایک سابق ڈپٹی سپیکر سے بھی اس سلسلے میں بات کی، جنہوں نے بتایا کہ ویڈیو میں نظر آنے والا مقام سپیکر ہاؤس ہی ہے، تاہم انہوں نے  اس معاملے پر مزید تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔

ویڈیو میں نظر آنے والی جگہ سپیکر ہاؤس ہے یا نہیں، یہ ابھی تک ایک معمہ بنا ہوا ہے اور اس کی حقیقت حکومت کی جانب سے تحقیقات کے بعد ہی سامنے آسکتی ہے جب ویڈیو کا فارنزک کیا جائے۔

وزیراعظم ہاؤس سے جاری کیے گئے ایک اعلامیے کے مطابق اس معاملے کی انکوائری کے لیے کمیٹی بنا دی گئی ہے، جس میں وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری، وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری اور وزیر اعظم کے مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر شامل ہے، جنہیں ایک مہینے میں رپورٹ جمع کروانے کی ہدایت دی گئی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست