جب ہماری انتہاپسندی اور فرانس کی پاکستان میں سرمایہ کاری ٹکرا گئے

انتہا پسندی کس طرح بیرونی سرمایہ کاری کو متاثر کر رہی ہے؟ فرانس کی مشہور کاروباری شخصیت امجد مالوی کی وہ کہانی جو ہم سب کو آئینہ دکھاتی ہے۔

فرانسیسی حکومت نے امجد مالوی کو  2018 میں ’بزنس مین آف دی ایئر‘ کا ایوارڈ دیا تھا (سجاد اظہر)

امجد مالوی کا شمار فرانس کے متمول پاکستانیوں میں ہوتا ہے۔ انہیں فرانسیسی حکومت نے 2018 میں ’بزنس مین آف دی ایئر‘ کا ایوارڈ دیا تھا۔

یہ وہی امجد مالوی ہیں جن کے جہاز سے اُس وقت کی وفاقی وزیر نیلوفر بختیار نے زلزلہ زدگان کی مدد کے لیے پیرس میں سکائی ڈائیونگ کی تھی تو پاکستان میں لال مسجد نے ان کے خلاف فتویٰ جاری کر دیا تھا، جس پر اس وقت کی مشرف حکومت نے ان سے استعفیٰ لے لیا تھا ۔

یہ 2006 کی بات ہے۔ پاکستان میں 2005 کو آنے والے خوف ناک زلزلے کو ایک سال ہونے والا تھا۔

امجد مالوی نے فرانس میں ایک این جی او فرانس کشمیر بنائی تھی جس کا مقصد زلزلہ زدگان کی مدد تھا۔ وفاقی وزیر نیلوفر بختیار فرانس کے دورے پر گئیں تو ان کی ملاقات امجد مالوی سے ہوئی۔ امجد مالوی نے انہیں بتایا کہ وہ پاکستان میں زلزلہ زدگان کی مدد کے لیے ایک بہت بڑی چیرٹی اپیل لانچ کر رہے ہیں، جس میں فرانس  کا مرکزی میڈیا بھی پارٹنر ہے۔

فرانس کی حکومت اور شوبز سے وابستہ نمایاں شخصیات کا تعاون بھی انہیں حاصل ہے، جن میں فرانس کے اس وقت کے وزیر داخلہ نکولس سرکوزی بھی شامل تھے جو بعد میں فرانس کے صدر بنے۔

انہوں نے نیلوفر بختیار سے درخواست کی کہ اگر وہ زلزلہ زدگان کی مدد کے لیے پیرس میں پیرا جمپنگ  کا مظاہرہ کریں تو اس سے کافی فنڈ اکٹھا ہو سکتا ہے۔  نیلوفر بختیار کو چونکہ پہلے پیرا جمپنگ کا کوئی تجربہ نہیں تھا اس لیے فیصلہ کیا گیا کہ وہ معروف پیرا جمپر ماریو جروازی کے ساتھ پیرا جمپنگ کریں گی۔

نیلوفربختیار نے بڑی جرات کا مظاہرہ کیا اور وہ  یہ کام کر گزریں۔ اس کے کچھ دنوں بعد امجد مالوی پاکستان آئے اور مظفر آباد میں ہونے والے ایونٹ کی تیاریوں کے حوالے سے ملاقاتیں کیں۔

وہ مجھ سے بھی ملے اور میں نے ان کا انٹرویو ایف سکس میں ایک ریسٹ ہاؤس میں کیا۔ اس دوران ان کی فلائٹ کا وقت ہو گیا۔ انہیں جانے کی جلدی تھی ان کے لیپ ٹاپ میں تصویروں کا ایک فولڈر تھا جس کو انہوں  نے مجھے دینا تھا لیکن میرے پاس سی ڈی نہیں تھی۔

وہ واٹس ایپ کا زمانہ تھا، نہ ہی ای میل سے ہیوی ڈیٹا ٹرانسفر ہو سکتا تھا۔ اس لیے فیصلہ ہوا کہ ہم یہ تصویریں قریب ہی واقع میرے ایک دوست کے آفس میں جا کر اس کے کمپیوٹر میں ٹرانسفر کر دیتے ہیں۔

میرا یہ دوست معروف اردو نیوز ایجنسی کا ایڈیٹر تھا۔  ہم نے اس کے پاس امانتاً یہ فولڈر کاپی کروا دیا کہ کل میں آ کر اسے سی ڈی پر ٹرانسفر کرلوں گا۔

اگلے دن میں اٹھا تو دیکھا کہ اس فولڈر میں سے نیلوفر بختیار کی ماریو جروازی  کے ساتھ والی تصویریں تمام اخبارات کے صفحہ اوّل پر چھپی ہوئی ہیں۔

اس کے بعد یہ ہوا کہ لال مسجد نے نیلوفر بختیار، ماریو جروازی اور امجد مالوی کے خلاف فتویٰ دے دیا۔ سوشل میڈیا کا دور نہیں تھا کہ کوئی آزاد آوازیں اٹھتیں اور نیلوفر بختیار کی حمایت کرتیں۔ حکومت نے انتہا پسندوں کے دباؤ میں آ کر ان سے استعفیٰ لے لیا۔

امجد مالوی کا  بڑا ایونٹ مظفر آباد میں ہونے جا رہا تھا۔ پروگرام کچھ یوں تھا کہ آٹھ اکتوبر 2006 کو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد میں فرانس کے مشہور سکائی ڈائیور ماریو جروازی جہاز سے چھلانگ لگائیں گے۔

ان کے ساتھ فرانس کی ایک 95 سالہ خاتون اور امجد مالوی کی 10 سالہ بچی ہاتھ میں فرانس سے لایا گیا پتھر اٹھا کر سکائی ڈائیونگ کریں گی اور عین اس جگہ اتریں گی جہاں پر بچیوں کے لیے ایک  انتہائی جدید سکول کا سنگ بنیاد رکھا جائے گا۔

اس کی کوریج فرانسیسی چینلوں کے علاوہ کچھ یورپی چینل بھی کریں گے، جس سے زلزلہ زدگان کے لیے فنڈ ریزنگ میں مدد ملے گی۔

ماریو جروازی کا شمار دنیا کے مشہور سکائی ڈائیور میں ہوتا ہے جو اس سے پہلے انٹارکٹیکا کے علاوہ کینیا کی نیروبی لیک پر بھی پیرا جمپنگ کا مظاہرہ کر چکے تھے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان نے انہیں  خصوصی ایوارڈ سے بھی نوازا تھا۔ جب ٹیم فرانس سے پاکستان پہنچی تو حکام نے انہیں پیرا جمپنگ سے روک دیا اور جواز دیا کہ چونکہ ان کے خلاف فتویٰ آیا ہوا ہے اس لیے وہ ان کی سیکورٹی کی ضمانت نہیں دے سکتے۔

اس طرح امجد مالوی کا ایک بڑا ایونٹ انتہا پسندی کی وجہ سے ناکام ہو گیا۔ وہ ڈپریشن میں چلے گئے جس سے ان کی ذاتی زندگی بری طرح متاثر ہوئی ۔

امجد مالوی فرانس میں آرگینک فوڈ سٹورز کی ایک چین چلاتے ہیں۔ جب عمران خان کی حکومت آئی تو انہوں نے پاکستان میں سرمایہ کاری کے حوالے سے پے در پے دورے کیے۔

اس بار وہ ایک زبردست آئیڈیا لے کر آئے۔ فرانس کے سرمایہ کاروں کو پاکستانی سرمایہ  کاروں سے روشناس کرایا۔ ’رانجیز‘ فرانس میں فروٹ اور سبزی منڈی کی سب سے بڑی چین ہے، جس کی ویب سائٹ کے مطابق اس کے دنیا بھر میں 363 سٹور ہیں اور اس کے کاروبار کا سالانہ حجم 333 ارب یوروز ہے۔

یہ منڈی کسانوں سے براہ راست سبزی اور فروٹ خرید کر اسے لوکل مارکیٹ کے ساتھ ساتھ عالمی مارکیٹ کے لیے برآمد بھی کرتی ہے۔

امجد مالوی کا خیال تھا کہ پاکستان میں مناسب پیکنگ نہ ہونے کی وجہ سے بہت سا پھل اور سبزیاں ضائع ہو جاتی ہیں اور منڈی میں اتار چڑھاؤ کی وجہ سے کسان کو بہت نقصان ہوتا ہے لہٰذا یہاں ایک ایسی منڈی لائی جائے جو یورپ کی طرز پر گلگت سے گوادر تک  کسانوں سے ان کی اجناس خریدے، اس کے بعد انہیں مقامی مارکیٹ میں مہیا کرے اور دوسرے ممالک کو برآمد بھی کرے۔

سب سے پہلے تو انہوں نے رانجیزکی انتظامیہ کو قائل کیا کہ پاکستان کتنی بڑی مارکیٹ ہے اور جغرافیائی طور پر وہاں منڈی بنا کر وہ خلیجی ممالک، وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کو بھی مال سپلائی کر سکتے ہیں۔

رانجیز کی انتظامیہ کا وفد لے کر وہ پاکستان آئے اور یہاں اعلیٰ حکومتی عہدے داروں سے  ملے ۔

لاہور میں رانجیز کی ایک منڈی کھولنے کے لیے 350 ملین یوروز کی سرمایہ کاری کی پیشکش کی۔

اس مقصد کے لیے لاہور میں 600 ایکٹر جگہ بھی دیکھ لی گئی جہاں یہ ہول سیل منڈی قائم کی جانی تھی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دلچسپ بات یہ تھی کہ ایشیائی ترقیاتی بینک نے بھی منصوبے میں 150 ملین یورو کی سرمایہ کاری کی حامی بھر لی۔ لوکل پارٹنر کے طور پر پاکستان کے ایک بڑے کاروباری ادارے کو بھی شراکت دے دی گئی۔

اس منصوبے سے تین لاکھ لوگوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہونے تھے۔ پاکستان میں زراعت کے لیے یہ  منصوبہ ایک گیم چینجر کی حیثیت رکھتا تھا۔

رانجیز نہ صرف یہاں سے اجناس خریدتا بلکہ اجناس کی پیداوار بڑھانے کے لیے کسانوں کے ساتھ مل کر ایک وسیع حکمت عملی پر کام بھی کرتا۔

اس منصوبے کی فزیبلٹی بن چکی تھی اور اب اس پر عمل درآمد کا مرحلہ شروع ہونے والا تھا۔ فرانس سے سو کے قریب افراد اور انجینیئرز کا ایک گروپ آنے والا تھا جو اس منصوبے پر کام شروع کرتا۔

مگر عین وقت پر پاکستان اور فرانس کے تعلقات میں بگاڑ پیدا ہو گیا۔ پاکستان میں فرانس کے سفیر کو نکالنے اور فرانسیسی اشیا کا بائیکاٹ کرنے کے لیے ایک مہم شروع ہو گئی۔

تحریک لبیک کی پرتشدد تحریک کو دیکھتے ہوئے فرانس کی حکومت نے اس منصوبے پر عمل در آمد روک دیا۔

امجد مالوی ایک بار پھر بے یارومددگار کھڑا ہے۔ وہ 2005 میں کشمیر کے زلزلہ زدگان کی مدد کے لیے پاکستان آیا تھا تب لال مسجد والی انتہا پسندی اس کے راستے میں کھڑی ہو گئی تھی۔

اب وہ پاکستان میں ایک گیم چینجر منصوبہ لے کر آیا ہے تو تحریک لبیک کی انتہا پسندی راستے کی رکاوٹ بن گئی ہے۔

ایک مرتبہ پھر وہ ڈپریشن کا شکار ہے۔ آج وہ کہتا ہے میں دنیا کے کسی اور ملک میں جا کر کام کر لوں گا مگر انتہا پسندی جس طرف قوم کو لے کر جا رہی ہے اس کی وجہ سے پاکستان کے 22 کروڑ لوگوں کے پاس کیا آپشن ہے۔

یہ کہہ کر وہ فون بند کر دیتا ہے اور میں افتخار عارف کا یہ  شعرپڑھنے لگتا ہوں:

ہر نئی نسل کواک تازہ مدینے کی تلاش
صاحبو اب کوئی ہجرت نہیں ہو گی ہم سے

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ