سعودی عرب میں پاکستانی سفارت خانے میں تحقیقات، سفیر تبدیل

وزیراعظم عمران خان جمعرات کے روز بیان دیا کہ سعودی عرب میں پاکستان کے سفارت خانے نے اوورسیز پاکستانیوں کا خیال نہیں کیا جس کی وجہ سے سفارتی اہلکاروں کو واپس طلب کیا گیا ہے۔

لیفٹنٹ جنرل (ر) بلال اکبر نےسعودی وزارت خارجہ میں سفارتی اسناد پیش  کیں (پاکستان سفارت خانہ سعودی عرب)

پاکستان فوج سے گذشتہ برس دسمبر میں ریٹائر ہونے والے لیفٹینیٹ جنرل بلال اکبر کو سعودی عرب میں پاکستان کا سفیر نامزد کیا گیا تھا۔ انہوں نے 19 مئی کو عہدہ سنبھالنا تھا لیکن سعودی عرب میں پاکستانی سفیر کو مدت سے پہلے پاکستان طلب کرنے پر انہوں نے تین ہفتے قبل ہی سفیر کا عہدہ سنبھال لیا ہے۔

بلال اکبر نے سعودی دفتر خارجہ میں چیف آف پروٹوکول سے ملاقات کی اور دستاویزات جمع کروا دیں۔ 

وزیراعظم عمران خان نے جمعرات کے روز بیان دیا کہ سعودی عرب میں پاکستان کے سفارت خانے نے اوورسیز پاکستانیوں کا خیال نہیں کیا جس کی وجہ سے سفارتی اہلکاروں کو واپس طلب کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’بیرون ملک لوگ بارہ بارہ گھنٹے کام کرتے ہیں۔ رقم بچا کر اپنی فیملی کو بھیجتے ہیں۔‘

وزیراعظم نے کہا کہ میں سعودی عرب میں پاکستانی سفارت خانے کی انکوائری کروا رہے ہیں۔ ’سعودی عرب میں ایمبیسی میں موجود زیادہ سٹاف کو واپس بلا رہا ہوں۔ سفارت خانے میں موجود جن لوگوں نے پاکستانیوں سے تعاون نہیں کیا انہیں سزا دیں گے۔‘

وزیراعظم عمران خان نے سعودی عرب میں پاکستان کے سبکدوش ہونے والے سفیر راجہ علی اعجاز کو ریٹائرمنٹ کی مدت پوری ہونے سے تین ہفتے پہلے سروس سے معطل کر دیا ہے جبکہ نئے سفارتی عملے کو سفارتخانے و دیگر قونصلیٹ فوری بھجوانے کی بھی ہدایت جاری کر دی گئیں۔

اس کے علاوہ وزیراعظم عمران خان نے پرائم منسٹر انسپیکشن کمیشن کو تحقیقات کا حکم  دیا ہے جبکہ سفیر و دیگر سفارتی عملہ کی ’بدسلوکی‘ کی 15 روز میں تحقیقات مکمل کرنے کا حکم  دیا گیا ہے۔

سفیر علی اعجاز کے علاوہ طلب کیے گئے چھے افسران میں کمیونٹی ویلفئیر آفیسر، قونصلر سیکشن آفیسر اور دیگر سفارتی اہلکار شامل ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ نے اس معاملے پر سوال کا جواب دیتے ہوئے بتایا کہ حکومت پاکستان بیرون ممالک پاکستانیوں کی فلاح و بہبود کو اہمیت دیتی ہے۔ پاکستان کے دنیا بھر میں مشنز کو پاکستانی برادری کی امداد کی ہدایات موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کے حالیہ بیان پر مکمل عمل درآمد کرایا جائے گا۔

سابق سفیر سمیت سعودی عرب میں پاکستانی سفارتی عملے کے چھ اہلکاروں کو بھی واپس طلب کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے ایک اعلیٰ سطح کی انکوائری شروع ہو رہی ہے جو تحقیقات کرے گی اور رپورٹ جلد وزیر اعظم کو پیش کرے گی۔

ترجمان دفتر خارجہ نے مزید بتایا کہ وزیر اعظم آئندہ ماہ کے شروع میں سعودی عرب کا دورہ کریں گے۔ اس دورے کی تفصیلات جلد جاری کر دی جائیں گی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سابق سفیر علی اعجاز نے 18 مئی کو ریٹائر ہونا ہے لیکن وزیراعظم کے نوٹس کے بعد اب انہیں واپس بلا لیا گیا ہے اور سفارتی حکام کے مطابق وہ سعودی عرب سے واپس پاکستان پہنچ چکے ہیں اور تحقیقاتی کمیٹی کو معاملے پر جواب جمع کروائیں گے۔ 

پاکستان سفارت خانے کا معاملہ کیا تھا؟ 

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے رواں ماہ متحدہ عرب امارات کا تین روزہ دورہ کیا تھا جس میں پاکستانی کاروباری کمیونٹی نے ملاقات کے دوران شکایت کی کہ اوورسیز پاکستانی کروڑوں کا زرمبادلہ پاکستان بھیجتے ہیں لیکن دیارغیر میں ان کا اپنا سفارت خانہ ان سے کئی معاملات میں تعاون نہیں کرتا۔ وزیر خارجہ کو بتایا گیا کہ خاص طور پر ریاض میں پاکستانی سفارت خانے میں گذشتہ دو برس اور کرونا کے دوران پیدا ہونے والی صورت حال میں پاکستانی کمیونٹی کو ویزے اور سفری معاملات میں شدید مشکل کا سامنا کرنا پڑا تھا لیکن سفارت خانے نے تعاون نہیں کیا۔

وزیر خارجہ نے پاکستان واپس آ کر معاملات انتظامی سطح پر اٹھائے جس کے بعد وزیراعظم نے اس معاملے پر نوٹس لیا۔

سفارتی امور کے ماہر سینیئر صحافی شوکت پراچہ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ یقینی طور پر سفارت خانے کا بنیادی کام اپنی کمیونٹی کو سہولت فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا یہاں یہ نکتہ بھی اہم ہے کہ جب دیارغیر میں لاکھوں پاکستانی موجود ہوں تو پھر کمیونٹی ویلفیر آفیسرز کی تعداد بھی بڑھانی چاہیے تاکہ مستقبل میں اس طرح کے مسائل سے بچا جا سکے۔ 

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا نوٹس لینا اہم اقدام ہے کہ ایک سفارت خانے کو اس بنیاد پر جواب دہ بنایا جائے کہ انہوں نے وہاں موجود پاکستانی کمیونٹی کے ساتھ تعاون نہیں کیا۔

شوکت پراچہ نے مزید کہا کہ تارکین وطن کے حوالے سے شکایات پر سفارت کاروں کے خلاف تحقیقات سے وزارت خارجہ کے افسران میں بے چینی پیدا کرے گی۔ کیونکہ دنیا بھر میں قائم پاکستانی سفارت خانوں میں کمیونٹی ویلفئیر اتاشی کی آسامیوں پر دفتر خارجہ کے افسران کو تعینات نہیں کیا جاتا بلکہ کمیونٹی کے لیے افسران کہ تعیناتی کا مکمل طور پر علیحدہ نظام ہے۔

ہر حکومت مختلف محکموں سے اپنے من پسند کے افسران کو کمیونٹی ویلفئیر کے نام پر باہر بھیجتی ہے پھر جواب وزارت خارجہ سے کیوں؟

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان