پاکستانی معاشرے میں جیتا جاگتا ہیرو ہونا بہت مشکل؟

’نہ تو ہیرو اپنے آپ کو ہینڈل کر سکتا ہے اور نہ ہی عوام ہیرو کو ہینڈل کر سکتے ہیں۔‘

(پکسابے)

ایک محفل میں رول ماڈل یا ہیروز کے حوالے سے بات چھڑ گئی۔ کسی نے کہا کہ پاکستان میں رول ماڈلز یا ہیروز کو انگلیوں پر گنا جا سکتا ہے تو کسی نے کہا کہ ایسی بات نہیں ہے ہیروز تو بہت ہیں لیکن معلوم نہیں کیا ہوتا ہے کہ وہ زیادہ عرصہ بطور ہیرو چل نہیں پاتے۔

اسی بحث میں ایک نے کہا کہ بات کڑوی ہے لیکن سچ ہے کہ پاکستانی معاشرے میں جیتا جاگتا ہیرو ہونا بہت مشکل کام ہے۔ وجہ بتاتے ہوئے کہا گیا کہ نہ تو ہیرو اپنے آپ کو ہینڈل کر سکتا ہے اور نہ ہی عوام ہیرو کو ہینڈل کر سکتے ہیں۔

ہیرو کا سٹیٹس یا مرتبہ صرف دکھاوے کا نہیں رہتا بلکہ اس شخص کو اداروں، مہمات، سیاست، اہم ادوار اور روز مرہ کی زندگی میں اہم کردار ادا کرنا ہوتا۔ ہیرو کا مرتبہ محض ایک لفظ نہیں ہے بلکہ یہ ایک ذمہ داری ہے جس کو نبھانا نہایت مشکل ہے۔ اس کو ہیرو کے مرتبے کے ہمراہ اثر و رسوخ ملتا ہے اور اس کے ساتھ ایک خاص برتاؤ کیا جاتا ہے جو دوسروں کے ساتھ نہیں کیا جاتا۔

تحقیق دان ہیروز کو تین اقسام میں تقسیم کرتے ہیں، مارشل، سول اور سماجی ہیروز۔ مارشل ہیروز میں فوج، پولیس یا طبی عملہ جن کو تربیت دی جاتی ہے کہ کیسے بدلتی صورتحال کا سامنا کرنا ہے اور اس سے نمٹنا ہے۔ سول ہیروز میں ان افراد کا شمار ہوتا ہے جن کا یہ کام نہیں ہوتا اور نہ ہی ان کو کسی قسم کی تربیت دی گئی ہوتی ہے لیکن پھر بھی وہ اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر دوسروں کی مدد کرتے ہیں۔ سماجی ہیروز کوئی سپرمین نہیں ہوتے بلکہ وہ افراد جنھوں نے سائنس کی فیلڈ میں کارنامہ سرانجام دیا ہو، وسل بلوئرز یعنی غلط کام کی نشاندہی کرے اور اس کے خلاف آواز اٹھائے، سیاسی و مذہبی رہنما یا پھر ایڈونچرر۔

اگرچہ کسی بھی معاشرے میں ہیروز کو ان تین اقسام میں تقسیم کیا جا سکتا ہے، تاہم تحقیق دانوں کا کہنا ہے کہ ایک اور قسم بھی ہے اور اس میں ان افراد کا شمار ہوتا ہے جو دوسروں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ ویسے تو اس قسم کے ہیروز کو مزید دس اقسام میں تقسیم کیا گیا ہے لیکن ایک قسم کو ٹراسپیرنٹ ہیروز کا نام دیا گیا ہے۔ یہ وہ افراد ہیں جو سپاٹ لائٹ میں آئے بغیر عاجزی کے ساتھ اپنا کام کرتے رہتے ہیں۔

عدلیہ بھی ایک ایسا پیشہ ہے جو سپاٹ لائٹ سے دور اور حکمت سے  کام کرتی ہے اور خود بولنے کے بجائے ان کے فیصلے بولتے ہیں۔ ان کے ایک جنبش قلم سے قصوروار بے قصور ہو سکتا ہے اور قصوروار مجرم ٹھرایا جا سکتا ہے۔

سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری ایک چیف جسٹس سے اس وقت ہیرو بنے جب انھوں نے ایک فوجی آمر کے حکم کے باوجود استعفیٰ دینے سے انکار کیا اور ان کو معزول کر دیا گیا۔ ان کے اس فیصلے نے ملک بھر کے وکلا اور سول سوسائٹی پر گہرا اثر ڈالا اور ملک گیر مہم کا آغاز ہوا۔ اس مہم کا اختتام ان کی معزولی ختم ہونے کے ساتھ ہی ختم ہو جانا چاہیے تھا لیکن اس کے برعکس چیف جسٹس صاحب جوڈیشل ایکٹوزم کی راہ پر چل پڑے۔

فائلوں کو اٹھا اٹھا کر مارنا، سرکاری ملازمین کو بے عزت کرنا اور ایسے کیس جن میں عوامی دلچسپی بہت زیادہ تھی ان کو اس وقت تک نہ سننا جب تک کورٹ روم نمبر ون میں میڈیا کے لیے مختص نشستیں مکمل طور پر نہ بھر جاتیں۔ ان کے اس رویے کے خلاف اگر سینیئر وکلا نے آواز اٹھائی تو ان کو پھینٹی کا سامنا کرنا پڑا۔

شاید فائلیں پٹخنے میں انصاف کسی پٹخی ہوئی فائل کے نیچے دب گیا۔ عام سائلین کے کیسوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا اور عام افراد کے لیے جلد انصاف کا خواب ایک خواب ہی رہ گیا۔  

اگر یہ کافی نہ تھا تو اس کے بعد چیف جسٹس ثاقب نثار نے تو انتہا کر دی۔ ہسپتالوں میں گھس گئے، شراب کی بوتل کے پیچھے پہنچ گئے جس میں شہد محفوظ کیا گیا تھا۔ اور آخر میں ڈیم فنڈ قائم کرنے کا حکم صادر کر دیا۔

لیکن اس میں شاید اتنا قصور ان کا نہیں تھا جتنا کہ میڈیا کا تھا۔ ٹی وی چینلز کو ان کے ریمارکس میں سے ایک چٹ پٹی لائن چاہیے ہوتی تھی اور ویب سائٹس کو زیادہ سے زیادہ قارئین کو اپنی ویب سائٹ پر لانے کے لیے ہیڈ لائن۔ نتیجہ یہ ہوا کہ دونوں چیف جسٹس صاحبان نے اپنے آپ کو عدلیہ کی تاریخ میں امر کرنے کی کوشش کی لیکن امر ہونا تو دور کی بات ان کا شمار ٹرانسپوزڈ ہیروز (Transposed Hero) میں ہونے لگا۔ یہ وہ ہیرو ہوتے ہیں جو یا تو ہیرو ہوتے ہیں یا کم از کم یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ ہیرو ہیں لیکن پھر ان کا مرتبہ ہیرو سے تبدیل ہو کر ولن کے سٹیٹس میں تبدیل ہو جاتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پاکستانی عوام پر کئی قدغنیں لگی ہوئی ہیں۔ کچھ تو اعلانیہ ہیں لیکن بہت سی ایسی پابندیاں ہیں جو غیر اعلانیہ ہیں اور حکومت کے لیے ان پابندیوں سے منکر ہونا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ آزادی رائے نہیں ہے، اس کے خلاف بات نہ کرو تو اُس کے خلاف بات نہ کرو۔ ان قدغنوں کو وقت کے ساتھ ساتھ قانونی شکل دے کر مستقل کر دیا گیا ہے۔ ایسے میں اگر کوئی شخص حقائق پیش کرتا ہے تو پابندیوں میں جکڑی قوم کے لیے وہ ہیرو سے کم نہیں۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ہی نے کوئٹہ کے ہسپتال میں آٹھ اگست 2016 کو ہونے والے بم دھماکے کے حوالے سے سپریم کورٹ کے کمیشن کی رپورٹ میں کہا تھا  کہ دہشت گردی کے واقعات کی وجہ قانونی و انتظامی اداروں کی نااہلی، وسائل کی کمی اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے صوبائی اور وفاقی حکومت خصوصاً وزارتِ داخلہ کی غیر ذمہ داری اور پالیسیوں پر عملدرآمد نہ ہونا ہے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر مبنی ایک رکنی کمیشن نے 56 دنوں کی کارروائی کے بعد اپنی رپورٹ میں جو نتائج حاصل کیے تھے انھیں 26 نکات میں بیان کیا جنھیں دستاویزی ریکارڈ، شہادتوں، اور تحریری ثبوتوں کی تصدیق کرنے کے بعد مرتب کیا گیا۔ پھر ان کا فیض آباد دھرنے کے حوالے سے فیصلہ آیا تو لوگوں کو سٹیٹس کو (Status quo) کے خلاف بولنے والا ایک جسٹس نظر آیا۔ کچھ ہی عرصے بعد ان کے خلاف ٹیکس کا کیس کھول دیا گیا۔

جسٹس قاضی فائم عیسیٰ ایسے ہی سپریم کورٹ کے ایک جسٹس ہیں جن کے ریمارکس کی بازگشت سے کہیں زیادہ ان کے فیصلوں کی گونج ہوتی ہے۔ اور شاید یہی وجہ ہے کہ ان پر خاص نظر کرم رکھی گئی ہے۔

بہتر ہوتا ہے کہ جج جج ہی رہے اور ہر جگہ نہ پہنچ جائے۔ ہاں میڈیا کا چسکا بہت برا ہے اور اس پر دھوم مچے تو جج بھی ایک انسان ہی تو ہے بہت اچھا لگے گا۔ لیکن کیا ایک جج کو یہ بات زیب دیتی تھی یا دے گی؟ عام سائلین کو انصاف دلوانے اور جلد انصاف دلوانے کے لیے کام کریں۔ کیونکہ ٹرانسپیرنٹ ہیرو سے ٹرانسپوزڈ ہیرو بننے میں دیر نہیں لگتی۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ