’کُول‘ بننے کے لیے آپ کے بچے پر کتنا دباؤ ہے، کبھی سوچا ہے؟

ہماری آئندہ نسل اس وقت رشتے بنانے کی عمر میں ہے، اپنی شناخت کی کھوج میں ہے اور سمت کا تعین کر رہی ہے۔ ایسے میں والدین کی جانب سے سپورٹ نہ ملے تو وہ ڈپریشن اور اضطراب میں مبتلا ہو جائیں گے جو زندگی بھر ان کے ساتھ رہے گا۔

پاکستان کا شمار اس خطے کے ان ممالک میں ہوتا ہے جس کی زیادہ آبادی کم عمر ہے اور ایک اندازے کے مطابق ملک کی 30 فیصد آبادی 15 اور 29 سال کے درمیان کی ہے (فائل تصویر: اے ایف پی)

ایک شام میری بیٹی بھاگتی ہوئی آئی اور کہا کہ 'جلدی کریں مجھے اپنی دوست کلثوم کی طرف جانا ہے۔' میں نے کہا کہ 'جلدی کیا ہے بس ابھی چلتے ہیں،' تو جواب ملا کہ 'کلثوم کی والدہ کا فون آیا ہے اور مجھے کہا ہے کہ تم آؤ اس کو پھر دورہ پڑا ہے۔'

دورہ پڑا ہے؟ میں تو اس بچی کو چوتھی جماعت سے جانتا ہوں اور اب وہ یونیورسٹی کی طالب علم ہے۔ اس کو کیا ہوا ہے؟ میرے سوال پر میری بیٹی نے جھنجھلا کر جواب دیا: 'بابا اس کو دورہ نہیں اس کو ڈپریشن ہے اور اس کے گھر والے بجائے اس کو تھراپسٹ کے پاس لے کر جائیں، کہتے ہیں کہ نخرے کر رہی ہے۔'

یہ سن کر میں سوچنے لگا کہ اس عمر میں تو ہمیں ڈپریشن کا نام تک معلوم نہیں تھا۔

دنیا بھر میں ڈپریشن سے بہت سے لوگ متاثر ہوتے ہیں، جس کا آغاز 24 سال سے کم عمر ہی سے ہو جاتا ہے۔ اضطراب اور موڈ میں یکایک تبدیلی آ جانا دنیا بھر میں 18 سے 29 سال کے لوگوں میں عام پائی جاتی ہے۔

ایک تحقیق کے مطابق 40 فیصد نوجوان افراد کو سب سے پہلے ڈپریشن 20 سال سے کم عمر میں ہوتا ہے اور 20 کے پیٹھے کے وسط میں یہ لگاتار ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ یہ وہی عمر اور ایام ہوتے ہیں جو تعلیم، نوکری اور سماجی رشتوں کے لیے نہایت اہم ہوتے ہیں۔

عالمی سطح پر تقریباً 34 فیصد یونیورسٹی کے طلبہ کو ڈپریشن کا سامنا ہے اور نوجوانی سے بلوغت کی جانب سفر کے دوران ڈپریشن کا شکار ہونے سے نہ صرف نشو نما اور تعلیم پر برا اثر پڑتا ہے بلکہ آگے چل کر نوکری اور عام زندگی پر بھی منفی اثرات پڑتے ہیں۔

دنیا بھر میں اپنی آنے والی نسلوں کی ذہنی صحت کے لیے کافی کام کیا جارہا ہے لیکن پاکستان میں اس حوالے سے تحقیق کرنے اور قومی صحت پالیسی بنانے کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔  پاکستان میں حالیہ برسوں میں آنے والی نسل میں ڈپریشن اور اضطراب کے حوالے سے جو محدود سی تحقیق کی گئی ہے اس میں صاف الفاظ میں حکومت پر زور دیا گیا ہے کہ پاکستانی نوجوانوں کی ذہنی صحت ہمارے لیے باعث تشویش ہے اور اس حوالے سے تحقیق، اس بیماری کو روکنے کے لیے جامع پالیسی مرتب کرنا نہایت اہم ہے۔ 

پاکستان کا شمار اس خطے کے ان ممالک میں ہوتا ہے جس کی زیادہ آبادی کم عمر ہے اور ایک اندازے کے مطابق ملک کی 30 فیصد آبادی 15 اور 29 سال کے درمیان کی ہے۔ 

پاکستان میں ایک پوری نسل غیر یقینی اور غیر محفوظ ماحول میں بڑی ہوئی ہے۔ صحت اور تعلیم کے شعبے کے لیے زیادہ مالی وسائل مختص نہیں کیے جاتے جبکہ گذشتہ دو دہائیوں ہی کو دیکھ لیں تو 2005 میں ایک بڑا زلزلہ آیا جس میں سینکڑوں افراد جان سے گئے، معذور ہوئے اور اس کے ساتھ ساتھ ذہنی صحت پر بھی اثر پڑا۔ پھر ملک کو دہشت گردی اور شدت پسندی نے اپنی گرفت میں لے لیا جس نے تعلیمی اداروں اور طلبہ کو بھی نہ بخشا، خصوصاً آرمی پبلک سکول پشاور پر 2014 میں دہشت گردوں کے حملے کو ہم کیسے بھول سکتے ہیں، جس میں 100 سے زائد بچے جان کی بازی ہار گئے تھے۔

ایک تحقیق کے مطابق ملک بھر میں نوجوان افراد یعنی 11 سے 18 سال کے درمیان کے بچوں میں 17 فیصد کو ڈپریشن جبکہ 21 فیصد سے زائد اضطراب کا شکار ہیں۔

حال ہی میں کی گئی ایک تحقیق میں کہا گیا ہے کہ گریجویشن میں پڑھنے والے 42 فیصد نوجوانوں کو ڈپریشن کا سامنا ہے جبکہ اس کے علاوہ تقریباً 49 فیصد طلبہ میں ڈپریشن کی تشخیص کی گئی ہے۔

دوسری جانب وہ طلبہ جو میڈیکل یونیورسٹیوں میں زیرتعلیم ہیں ان میں ڈپریشن کا تناسب تقریباً 37 فیصد ہے جبکہ دیگر شعبوں میں تعلیم حاصل کرنے والوں میں یہ شرح 53 فیصد تک ہے۔ اس کے علاوہ نجی یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم نوجوانوں میں یہ شرح 26 فیصد جبکہ سرکاری جامعات میں زیر تعلیم طلبہ میں یہ شرح 42 فیصد ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان تشویش ناک اعداد و شمار کے باوجود ہمارے تعلیمی اداروں میں کیریئر کونسلنگ اور ذہنی صحت کی سہولیات کا فقدان لمحہ فکریہ ہے۔ اگلی نسل کی ذہنی صحت کے حوالے سے مربوط قومی پالیسی مرتب کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ تعلیمی اداروں میں کونسلنگ اور ذہنی صحت کی سہولیات کو لازمی بنایا جائے تاکہ نوجوانوں میں ذہنی بیماریوں کے حوالے سے قابل اعتماد اعداد و شمار حاصل ہو سکیں۔

دنیا بھر مں تعلیی اداروں میں کیریئر کونسلنگ اور ذہنی صحت کی سہولیات موجود ہوتی ہیں لیکن پاکستان میں بدقسمتی سے نہ تو حکومت اس بارے میں سنجیدہ ہے اور نہ ہی تعلیمی ادارے۔ زیادہ تر نجی تعلیمی اداروں میں کیریئر کونسلنگ کے نام پر انگریزی میں ماہر شخص کو بٹھا دیا جاتا ہے۔ ہمارے طلبہ سخت ترین مسابقتی ماحول، مستقبل کی فکر اور اعلیٰ نمبر لینے کے لیے والدین کے ساتھ ساتھ سماج کے دباؤ میں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ یہ سب طلبہ پر ذہنی دباؤ ڈالتے ہیں، جس سے مختلف ذہنی بیماریاں بالخصوص ڈپریشن ہوتا ہے۔

خدارا! ماہر نفسیات سے رجوع کرنے کا مطلب ہر گز یہ نہیں ہے کہ کلثوم پاگل ہے۔ ہماری آئندہ نسل اس وقت رشتے بنانے کی عمر میں ہے، اپنی شناخت کی کھوج میں ہے اور سمت کا تعین کر رہی ہے۔ ایسے میں والدین کی جانب سے سپورٹ نہ ملے اور اس دباؤ کو دورہ پڑنے کا نام دے کر نظر انداز کر دیا گیا تو وہ اس ڈپریشن اور اضطراب میں مبتلا ہو جائیں گے جو زندگی بھر ان کے ساتھ رہے گا۔ فلانے رشتے دار اور دس گھر چھوڑ کر رہنے والوں کی اولادوں کے ساتھ موازنہ بند کریں کیونکہ آپ نہیں جانتے کہ ان کے بچے کن مشکلات کا شکار ہیں۔

بچوں کے ساتھ بات چیت کریں کیونکہ یہی وہ عمریں ہیں جہاں سماجی دباؤ بھی کافی زیادہ ہوتا ہے۔ دوستوں میں cool بننے کے لیے آپ کے بچے پر کتنا دباؤ ہے صرف وہ ہی جانتا ہے اور آپ نہیں جان سکتے اگر اس کے ساتھ بیٹھ کر بطور والد یا والدہ نہیں بلکہ دوست بن کر بات نہیں کریں گے۔

کلثوم نہایت پراعتمادی کے ساتھ ہر موضوع پر بات کر سکتی ہے۔ پڑھائی میں بہت تیز ہے، تو پھر ایسا کیا ہے جس سے وہ ڈپریشن میں اتنا چلی جاتی ہے کہ وہ خودکشی کے بارے میں سوچتی ہے۔ دوستوں کا دباؤ، والدین کی جانب سے بے جا سختی، والدین کی آپسی لڑائیاں، ان سب کے باعث وہ ہونہار، خوش شکل، خوش اخلاق لڑکی آج ڈپریشن میں ہے اور خود کشی کے بارے میں سوچ رہی ہے، لیکن والدین کا کہنا ہے کہ ماہر نفسیات کو کیوں دکھائیں وہ پاگل تو نہیں ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ