بس ایک ہیش ٹیگ کی ضرورت ہے

سوشل میڈیا محکوم قوموں کا جوہری ہتھیار بن گیا ہے جس کو استعمال کر کے وہ اپنے مطالبات کے لیے اقوام عالم کی نہ صرف حمایت حاصل کرسکتی ہیں بلکہ اجتماعیت کی ایک نئی سوچ کی آبیاری بھی ہوسکتی ہیں۔

کشمیر میں انٹرنیٹ اکثر بند کیا جاتا ہے پھر سرکاری ملازمین کو سوشل میڈیا استعمال کرنے پر پابندی عائد کردی گئی ہے اور حکومت مخالف مواد لکھنے پر شہریوں کو جیل بھیج دیا جاتا ہے(اے ایف پی)

 

یہ تحریر آپ مصنفہ کی آواز میں یہاں سن بھی سکتے ہیں


فلسطین پر اسرائیل کے حالیہ حملوں کی عوامی سطح پر جتنی مذمت ہوئی ہے اس کی نظیر نہیں ملتی۔ ماضی کے مقابلے میں اسرائیل کی فوجی طاقت یا مغربی ملکوں کی بدستور حمایت مزید مضبوط ہوئی ہے۔

بعض مغربی ملکوں نے گو کہ اپنی فوجی طاقت سے غریب ممالک خاص طور سے اسلامی ملکوں کو روندنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور روایتی میڈیا پر اپنا اثر رسوخ بدستور قائم رکھا ہوا ہے لیکن ڈیجیٹل انفارمیشن خصوصا سوشل میڈیا پر بندشوں کے باوجود اب کنڑول کرنا مشکل محسوس ہو رہا ہے۔

غزہ پر حالیہ اسرائیلی حملوں کے دوران سوشل میڈیا نے اس کا بھر پور مظاہرہ کیا۔

گلوبل اور ویو کے مطابق دنیا کی تقریباً آٹھ ارب آبادی میں اس وقت پونے پانچ ارب افراد سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہیں۔ ان میں سے ڈھائی ارب سے زائد فیس بک کے صارف ہیں۔

فلسطینیوں کی تقریباً 70 فیصد آبادی اس وقت سوشل میڈیا سے جڑی ہوئی ہے جس نے روایتی میڈیا کے مقابلے میں حملوں کی ویڈیوز کو براہ راست دکھا کر عوام کو سڑکوں پر لانے پر مجبور کیا۔

سوشل میڈیا اب جس طرح سے مختلف ملکوں، مذاہب اور نسلوں کو جوڑ رہا ہے اس کو ایک بڑے عالمی انقلاب سے ہی تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ مینیسوٹا میں سیاہ فام شخص جارج فلائیڈ کی ہلاکت کے بعد امریکہ اور دوسرے ملکوں میں سیاہ فاموں کا ایک انقلاب ہی تو پیدا ہوا ہے۔ چند برس قبل تک اس کا ادراک کرنا مشکل تھا۔

میں نے 2003 میں بی بی سی کے لیے لائن آف کنٹرول کے آر پار منقسم کشمیری خاندانوں کو ایک دوسرے سے ملانے کا ایک پروگرام ’اوڑی کی سرحد کے سامنے‘ براہ راست نشر کیا تھا۔ اس پروگرام کی منصوبہ بندی، سفر، سیٹلائٹ فون اور دیگر وسائل پر ایک موٹی رقم خرچ کرنا پڑی تھی۔ لیکن سوشل میڈیا نے اب اس کو کتنا آسان بنا دیا ہے۔

چند روز پہلے سرحد پار کشمیر سے وابستہ منقسم خاندان ٹوئٹر سپیس پر گھنٹوں باتیں کر رہے تھے۔ ایسا لگ رہا تھا کہ نہ تو ہم کبھی جدا ہوئے ہیں نہ ویزہ حاصل کرنے کے لیے دربدر بھٹکنا پڑا ہے اور نہ پیسہ خرچ کرنے کی کوئی ضرورت ہے، بس ایک معمولی فون سے 70 برس کی جدائی جیسے ختم ہوگئی۔

یہ صیح ہے کہ اسرائیل، امریکی اور دوسرے ملکوں کے دباؤ میں آ کر فلسطین میں جنگ بندی پر آمادہ ہوگیا مگر میں یقین سے کہہ سکتی ہوں کہ اس میں سوشل میڈیا کا انتہائی اہم کردار رہا ہے کہ جس نے بربریت کی ویڈیوز وائرل کر کے عالمی انسانیت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ دنیا کی سڑکیں اسرائیلی جارحیت کے خلاف عوامی جلسوں سے بھر گئیں جو بیشتر ملکوں کی حکومتوں کے لیے ہزیمت کا باعث بنے۔

یہ کام محض ایک ہیش ٹیگ #سیو پیلسٹائن نے کیا جس کو کروڑوں لوگ اپنے پیج پر شائع کرتے رہے۔ ٹوئٹر ہو یا فیس بک، انسٹاگرام ہو یا ٹک ٹاک، فلسطین کی آواز دنیا کے کونے کونے تک پہنچ گئی گو کہ اسرائیلی سائبر سیل نے ٹرولنگ سے بیشتر مواد کو میڈیا نیٹورک سے ہٹا دیا اور سینکڑوں اکاؤنٹ بند کروا دیئے۔

اسرائیل ٹوئٹر سپیس اور ٹک ٹاک کو روکنے میں ناکام ہوگیا۔ عوامی مکالموں کی بڑھتی مقبولیت کے پیش نظر روئٹرز سمیت بیشتر معروف خبر رساں ایجنسیاں بھی اپنی ساخت اور موجودگی دکھانے کے لیے ٹوئٹر سپیس میں داخل ہو کر عوام کے ساتھ جڑ گئے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سوشل میڈیا نے ایک بات ثابت کر دی کہ دشمن کو ہرانے کے لیے اب جوہری طاقت نہیں بلکہ ’سائبر طاقت‘ چاہیے جو بیشتر حکومتوں کی خارجہ اور دفاعی پالیسیوں میں پہلی ترجیح اختیار کر چکی ہے۔ پسماندہ ملکوں کو اس کی جانب خاص توجہ دینی ہوگی اور ہتھیار خریدنے کی بجائے اپنا سائبر نظام مضبوط کرنا ہوگا۔

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا سی این این والا انٹرویو اتنا مقبول نہ ہوا ہوتا اگر اس کو سوشل نیٹ ورک پر وائرل نہ کیا گیا ہوتا، حالانکہ مینسٹریم میڈیا نے اس گفتگو کو اسرائیل مخالف جتانے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں رکھا۔

میں تو سمجھتی ہوں کہ سوشل میڈیا محکوم قوموں کا جوہری ہتھیار بن گیا ہے جس کو استعمال کر کے وہ اپنے مطالبات کے لیے اقوام عالم کی نہ صرف حمایت حاصل کرسکتے ہیں بلکہ اجتماعیت کی ایک نئی سوچ کی آبیاری بھی ہوسکتی ہیں۔

بھارت میں حال ہی میں سوشل میڈیا کا قافیہ تنگ کرنے کے لیے نئے قوانین بنائے گئے ہیں۔ بیشتر مواد کو شائع ہونے سے پہلے ہی غائب کر دیا جاتا ہے۔ دہلی میں ٹوئٹر دفتر پر پولیس کے چھاپے نے سرکار کی سائبر پالیسی کو نہ صرف بے نقاب کر دیا بلکہ مینسٹریم میڈیا کی افادیت کو تار تار کر کے رکھ دیا ہے وہ چاہیے اس کی شہریت سے متعلق نئے قوانین کی رپورٹنگ تھی یا کسانوں پر ہونے والی پولیس کی زیادتیوں کی تصاویر۔

سرکاری بندشوں کے باوجود سوشل میڈیا نے اقلیتوں، کسانوں اور جنسی زیادتیوں کی اصل حقیقت کو عوام کے سامنے لایا کیونکہ بھارت کی سرکار اندرون ملک پابندیوں کے باوجود عالمی سطح پر سوشل میڈیا کے اثر کو روک نہیں سکتی یا پھر سرے سے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو بند کرنا ہوگا جس کے پھیلاؤ کی تشہیر وزیراعظم مودی نے ذاتی طور پر شروع کی تھی۔

کرونا کے شکار افراد کی دریا گنگا میں بہتی ہوئی لاشوں پر مینسٹریم میڈیا نے خاموشی اختیار کی۔ سوشل میڈیا پر پابندی کے باوجود ان کی ویڈیوز دنیا بھر میں وائرل ہوگئیں اور مودی سرکار کی غیر موثر کرونا پالیسیوں پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

کشمیر میں انٹرنیٹ اکثر بند کیا جاتا ہے پھر سرکاری ملازمین کو سوشل میڈیا استعمال کرنے پر پابندی عائد کردی گئی ہے اور حکومت مخالف مواد لکھنے پر شہریوں کو جیل بھیج دیا جاتا ہے۔ اس کے باوجود سوشل میڈیا پر کشمیری اپنی بات کہنے کا خطرہ مول لے رہے ہیں اور بھارت کی کشمیر سے متعلق پالیسیوں کی کھل کر مزاحمت کر رہے ہیں۔

جموں و کشمیر کے ایک کروڑ بیس لاکھ عوام کو چاہیے کہ بندشوں کے باوجود سوشل میڈیا کا حصہ بن کر اپنی آواز کو موثر اور طاقت ور بنائیں جس کے لیے نہ کسی لیڈرشپ کی ضرورت ہے اور نہ کسی ملک کی حمایت کی۔ اگر ضرورت ہے تو اربوں عوام سے جڑنے کی جو پہلے ہی سوشل میڈیا کا حصہ بن چکے ہیں۔ بس ایک عدد ہیش ٹیگ کو وائرل کرنا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ