حزب اللہ کے بانی رہنما چل بسے

محتشمی پور 1970 کی دہائی میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خمینی کے قریبی ساتھی تھے۔

شام میں بطور ایرانی سفیر انہوں نے لبنان میں حزب اللہ کی بنیاد رکھنے میں اہم کردار ادا کیا تھا(فائل فوٹو: اے ایف پی)

ایران کے شیعہ مذہبی رہنما علی اکبر محتشمی پور جنہوں نے شام میں ایران کے سفیر کے طور پر لبنانی مسلح گروہ حزب اللہ کی بنیاد رکھنے میں اہم کردار ادا کیا تھا 74 سال کی عمر میں کرونا وائرس سے متاثر ہو کر چل بسے۔ اطلاعات کے مطابق سال 1984 میں اسرائیل کے کتاب کے ذریعے کیے جانے والے بم حملے میں ان کا دایاں ہاتھ ضائع ہو گیا تھا۔

محتشمی پور جو کہ 1970 کی دہائی میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ روح اللہ خمینی کے قریبی ساتھی تھے، نے مشرق وسطی میں موجود مسلح گروہوں سے اتحاد قائم کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ انقلاب ایران کے بعد انہوں نے ایران میں پاسداران انقلاب کی تشکیل میں مدد فراہم کی اور شام میں بطور ایرانی سفیر کے انہوں نے اس فورس کو لبنان میں حزب اللہ کی بنیاد رکھنے میں بھی استعمال کیا تھا۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اپنی زندگی کے آخری برسوں میں وہ ایران میں موجود اصلاح پسندوں کی حمایت کرنے لگے تھے اور ایران کے مذہبی نظام کو اندر سے بدلنے کی امید رکھتے تھے۔ انہوں نے سال 2009 میں ہونے والے ایران کے متنازع انتخابات اور گرین موومنٹ کے دوران حزب اختلاف کے رہنماؤں میر حسین موسوی اور مہدی قروبی کی بھی حمایت کی تھی۔

اس وقت محتشمی پور نے کہا تھا کہ 'اگر تمام لوگ آگاہ ہو جائیں، پر تشدد اقدامات سے باز رہیں اور اپنا احتجاج جاری رکھیں تو وہ کامیاب ہوں گے۔ کوئی بھی فرد لوگوں کے سامنے نہیں کھڑا ہو سکتا۔'

سرکاری خبر رساں ادارے ایرنا کے مطابق محتشمی پور کرونا وائرس سے متاثر ہونے کے بعد شمالی ایران کے ایک ہسپتال میں چل بسے۔ وہ متنازع ایرانی انتخابات کے بعد گذشتہ دس سال سے عراق کے شہر نجف میں مقیم تھے۔

محتشمی پور سال 1947 میں تہران میں پیدا ہوئے تھے۔ روح اللہ خمینی کے ساتھ ان کی ملاقات ایرانی بادشاہ شاہ محمد رضا پہلوی کے انہیں جلا وطن کرنے کے بعد نجف میں ہوئی تھی۔ 1970 کی دہائی میں انہوں نے مشرق وسطی میں موجود مسلح گروہوں سے رابطے قائم کیے۔ جس کے بعد ایران اور فلسطینی لبریشن آرگنائزیشن کے درمیان اتحاد کی بنیاد رکھی گئی تھی۔

عراق میں اپنی گرفتاری کے بعد محتشمی پور پیرس کے مضافات میں موجود ایرانی رہنما روح اللہ خمینی کی رہائش گاہ منتقل ہو گئے تھے جہاں سے وہ انقلاب ایران کے بعد بطور فاتح ایران واپس لوٹے تھے۔

انہیں سال 1982 میں حافظ الاسد کے دور میں شام میں ایران کا سفیر مقرر کیا گیا تھا۔ وہ بطور سفیر ان لاکھوں کے فنڈز کے نگران بھی تھے جو اس خطے میں پاسداران انقلاب کی کارروائیوں کے لیے بھیجے گئے تھے۔

لبنان جہاں اس وقت شام کو غلبہ حاصل تھا اور یہاں شامی فوج کے ہزاروں اہلکار تعینات تھے پر اسرائیل نے پی ایل او کا پیچھا کرتے ہوئے سال 1982 میں دھاوا بول دیا تھا۔ تاہم ایران نے اسرائیلی مقبوضہ علاقوں میں موجود شیعہ برادری کی حمایت جاری رکھی جس کے نتیجے میں یہاں ایک نیا مسلح گروہ 'حزب اللہ' کی صورت میں سامنے آیا۔

امریکہ بیروت میں موجود امریکی سفارت خانے پر ہونے والے بم حملے کا الزام حزب اللہ پر عائد کرتا ہے۔ اس حملے میں 63 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ جبکہ لبنانی دارالحکومت میں موجود امریکی میرینز اور فرانسیسی فوجیوں پر ہونے والے حملوں کا الزام بھی حزب اللہ پر عائد کیا جاتا ہے۔ ان حملوں میں بالترتیب 241 امریکی فوجی اور 58 فرانسیسی پیراٹروپرز ہلاک ہو گئے تھے۔ حزب اللہ اور ایران ان حملوں میں ملوث ہونے کی تردید کرتے ہیں۔

امریکی عدالت کے ایک جج نے ایک نیوی انٹیلی جنس عہدیدار کے بیان کی بنیاد پر اپنے فیصلے میں براہ راست محتشمی پور کو ایران کی جانب سے حزب اللہ سے رابطے اور ان حملوں پر اکسانے کے لیے نامزد کیا گیا تھا۔

ایرنا میں شائع ہونے والی ان کی سوانح عمری میں انہیں 'حزب اللہ لبنان کے بانیوں میں سے ایک' قرار دیا گیا ہے۔ جبکہ ان پر ہونے والے ایک بم حملے کا ذمہ دار اسرائیل کو قرار دیا گیا ہے۔ اس حملے میں محتشمی پور زخمی ہو گئے تھے۔

اسرائیلی قاتلانہ حملوں پر لکھی جانے والی کتاب 'رائز اینڈ کل فرسٹ' کے مطابق اس قاتلانہ حملے کے وقت اسرائیلی خفیہ ادارے موساد کو اس وقت کے اسرائیلی وزیر اعظم یٹزک شمیر نے محتشمی پور کا پیچھا کرنے کی اجازت دی تھی۔ اس کتاب کے مصنف صحافی رونین برگ مین ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

برگ مین لکھتے ہیں کہ 'انہوں نے ایک کتاب کے اندر بم بھیجنے کا طریقہ منتخب کیا۔ اس کتاب کا نام 'مگنفیشنٹ' تھا۔' انگریزی میں لکھی گئی اس کتاب کا موضوع ایران اور عراق میں موجود اہم شیعہ مراکز تھا اور یہ سال 1984 میں ویلنٹائن ڈے کے روز بھیجی گئی تھی۔

محتشمی پور نے جب یہ کتاب کھولی تو بم ایک دھماکے سے پھٹ گیا جس میں ان کا دایاں ہاتھ اور بائیں ہاتھ کی دو انگلیاں ضائع ہو گئی تھیں۔ لیکن وہ اس حملے میں زندہ بچ گئے تھے جس کے بعد وہ ایران کے وزیر داخلہ اور رکن پارلیمان رہے۔

ایرانی صدارتی مہم میں قدامت پسند امیدوار ابراہیم رئیسی نے محتشمی پور کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا ہے۔

ایرنا کے مطابق ابراہیم رئیسی کا کہنا تھا کہ 'آنجہانی شخصیت بیت المقدس کی آزادی کے لیے مقدس جنگجو تھے۔ وہ صہیونی حکومت کے خلاف لڑنے والے اولین افراد میں سے تھے۔'

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا