’چھوٹی دکانیں ماہانہ ایک ہزار ٹیکس بھی دیں تو کروڑوں کا فائدہ‘

چیمبر آف سمال انڈسٹریز اینڈ ٹریڈرز خیبر پختونخوا کے صدر کہتے ہیں کہ انہوں نے حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ چھوٹے کاروباری طبقے پر ایک فیکسڈ ٹیکس لاگو کریں جس سے ملک کو کثیر زر مبادلہ حاصل ہو سکتا ہے۔

’چھوٹے کاروباری طبقے کو سب سے بڑا مسئلہ ٹیکسیشن کا ہے۔ کبھی ایک ادارے والے آکر تنگ کرتے  ہے تو کبھی دوسرے ادارے والے۔ ہمارا چیمبر کوشش کر رہا ہے کہ چھوٹے کاروباری طبقے کے لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کریں تاکہ اس سے ملک کی معیشت بہتر ہو سکے۔‘

یہ کہنا تھا چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری افراد کے لیے سرگرم چیمبر آف سمال  انڈسٹریز اینڈ ٹریڈرز  خیبر پختونخوا کے صدر محمد عدنان جلیل کا جو گذشتہ سات سالوں سے اسی کوشش میں لگے ہیں کہ ملک اور بالخصوص خیبر پختونخوا میں چھوٹا کاروبار کرنے والوں کے لیے آسانیاں پیدا کریں۔

عدنان کا تعلق پشاور کے کاروباری طبقے سے ہے اور پشاور میں خود بھی ایک بڑے  کاروبار سے وابستہ ہے۔ انہوں نے لندن  سے بزنس ایڈمنسٹریشن  میں ماسٹرز ڈگری حاصل کی ہے اور اب پشاور میں کاروباوری  طبقے کے حقوق کے لیے کام کر رہے ہیں۔

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ پاکستان میں 2013 میں ایک قانون پاس ہوا تھا جس کے تحت ہر صوبے میں چیمبرز بنانا لازمی تھے جس میں  ایک چیمبر انڈسٹریز کو دیکھے گا، ایک سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز  یعنی چھوٹے کاروباور کے لیے جبکہ ایک چیمبر خواتین کاروباری طبقے کے لیے ہوگا۔

انہوں نے بتایا کہ ’پشاور  چیمبر آف سمال انڈسٹریز اینڈ ٹریڈرز کی بنیاد 2014 میں رکھی گئی اور گذشتہ سات سالوں سے ہم کوشش ہر رہے ہیں کہ چھوٹے کاروبار کو مزید فروغ دیں اور ان کے مسائل حل کرنے کے لیے اقدامات کریں کیونکہ کسی بھی ملک کے معیشت میں سمال انڈسٹریز کا ایک اہم کردار ہوتا ہے۔‘

عدنان کا کہنا تھا: ’پشاور کی معیشت میں 55 فیصد حصہ انہی چھوٹے کاروباری طبقے کے مرحون منت ہے جو ملک کے خزانے میں یہ کاروباری ٹیکسز کی مد میں جمع کراتے ہے جبکہ ہمارے پڑوسی ممالک جیسے بھارت اور بنگلہ دیش نے اسی سیکٹر میں بہت زیادہ کام کیا ہوا ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عدنان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں چھوٹی صنعتوں اور کاروبار کے لیے حکومت کی جانب سے مختلف پیکجز دیے جاتے ہیں تاہم جو ترقی اس سکیٹر میں ہونی چاہیے وہ بظاہر نظر نہیں آرہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ چھوٹی صنعتوں کے مسائل بڑے کارخانوں اور صنعتوں کی طرح نہیں ہوتے بلکہ چھوٹے مسائل ہوتے ہیں جس کو حل کرنا آسان ہوتا جیسا کہ چھوٹی صنعتوں میں باقاعدہ سٹرکچر موجود نہیں ہے اور نہ ان کے کوئی گروہ بنائے گئے یعنی ایک کاروبار جو دوسرے کے ساتھ لنک ہوتا ہے، ان کے مابین رابطے کا فقدان ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا اسی طرح ہمارے چھوٹے کاروبار آئی ٹی سے جڑے نہیں ہیں یعنی باقاعدہ طور پر یہ کاورباری طبقہ ٹیکنالوجی سے فائدہ نہیں لیتا جبکہ ایک اور مسئلہ ٹیکسز کا بھی ہے کہ پاکستان میں ان چھوٹی صنعتوں سے بیک وقت آٹھ دس قسم کے ٹیکس لیے جاتے ہیں۔

عدنان نے بتایا: ’انہی مسائل کو حل کرنےکی کوشش ہم کرتے ہیں۔ ماہر تعلیم کے پاس جاتے ہیں، حکومت کے پاس جاتے ہیں، ڈونرز کے پاس جاتے ہیں، اور ہمارا بنیادی مقصد پشاور میں چھوٹی صنعتوں کے حوالے سے ایک ریسرچ اینڈ ڈولپمنٹ سینٹر کا قیام ہے۔‘

عدنان کے مطابق  یہ سینٹر چھوٹی صنعتوں کا ڈیٹا اکٹھا کرنے کے علاوہ ان کی ضرورتوں، کمزوریوں اور صلاحیتوں کا جائزہ لے گا اور آگے اسی کی بنیاد پر چھوٹی صنعتوں کی ترقی کے لیے کام کرے گی۔

’آپ اندازہ لگائیں کے ہمارے پاس پشاور میں یہ ڈیٹا بھی موجود  نہیں ہے کہ یہاں چپل بنانے اور بیچنے والوں کی تعداد کتنی ہے اور ان کی ضروریات کیا ہیں۔ اس طرح کے چھوٹے چھوٹے مسائل کو حل کرنے کے لیے اس قسم کے سینٹر کی شدید ضرورت ہے۔‘

چیمبر میں رجسٹر کیسے ہوتے ہیں؟

محمد عدنان کے بتایا کہ اس مقصد کے لیے ہم نے ایک ویب سائٹ بنائی ہے جہاں پر کوئی بھی صنعت کار آن لائن یا بینک کے ذریعے ایک مناسب فیس جمع کر کے چیمبر میں رجسٹر ہو سکتا ہے۔

ان سے جب پوچھا گیا کہ رجسٹر ہونے کا صنعت کار کو کیا فائدہ ہوگا، اس کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ چیمبر کی مثال ایک کلب کی ہے جس میں  مختلف صنعت کار ایک ساتھ اکٹھے ہوتے ہیں اور یہی چیمبر ان ممبران کو ایک دوسرے کے ساتھ کنیکٹ کرنے، انہیں باہر دنیا سے لنک کرنے اور مختلف اداروں کے ساتھ تعلق بنانے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

عدنان کے مطابق ان چھوٹے صنعت کاروں کو ٹیکسز کا ایک بڑا مسئلہ ہے اور ہم نے حکومت کو یہ مشورہ بھی دیا ہے کہ اس کاروباری طبقے پر ایک فیکسڈ ٹیکس لاگو کریں جس سے ملک کو کثیر زر مبادلہ حاصل ہو سکتا ہے۔

عدنان نے بتایا: ’مثال کے طور پر اگر ہم ایک چھوٹی دکان پر ہر مہینہ ایک ہزار کا ٹیکس لاگو کریں تو اندازہ کریں کہ کروڑوں دکانوں سے مہینہ ایک ہزار جمع ہو کر صوبے کے معیشت  کو کتنا فائدہ ہو سکتا ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا