ہندوؤں کا چوتھا ’سب سے بڑا‘ مقدس پتھر ’شیولنگ‘ مانسہرہ میں

اس تاریخی مندر کے بارے میں ایک تنازعے نے جنم لیا ہے جس پر خود ہندو تنظیمیں دو حصوں میں تقسیم ہو گئی ہیں۔

خیبر پختونخوا کے ضلع مانسہرہ میں ہندو کمیونٹی ریکارڈ کے مطابق ایک ہندو بھی موجود نہیں ہے لیکن اسی شہر کے مضافاتی علاقے میں ایک ’تین ہزار سال پرانا مندر‘ موجود ہے جہاں مقامی افراد کے مطابق ’دنیا کا چوتھا  سب سے بڑا ہندوؤں کا مقدس پتھر ’شیولنگ‘ موجود ہے۔‘

حالیہ دنوں میں اس مندر سے منسلک ایک تنازع اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ 

ہوا یوں کہ صوبائی حکومت نے اس مندر کے احاطے میں واش رومز بنائے جس پر ہندو تنظیموں نے احتجاج کیا ہے۔ ہندو تنظیمیں بھی اس معاملے میں دو دھڑوں میں تقسیم ہو گئی ہیں۔  ایک کا کہنا ہے کہ مندر سے متصل واش رومز بنانا مندر کی توہین ہے اور اسی پر انہوں نے عدالت میں درخواست بھی جمع کرائی ہے، جب کہ دوسرا اس اقدام کے حق میں ہے۔

درشن لال کا کہنا ہے کہ عدالت سے ہم نے درخواست کی ہے کہ واش رومز کی تعمیرات پر صوبائی حکومت کی جانب سے کام روک دیا جائے اور انہیں مندر کے احاطے سے باہر بنایا جائے۔

درشن لال مانسہرہ کے اس گاؤں چٹی گٹی میں واقع شیو مندر کی 25 سال تک نگران رہے ہیں، لیکن اب ان کی جگہ ایک اور نگران مقرر کیا گیا ہے۔ درشن لال مانسہرہ سے تقریباً ایک گھنٹے کی مسافت پر ضلع ایبٹ آباد میں رہائش پذیر ہیں لیکن مندر کی دیکھ بھال کے لیے وہ ہفتے میں ایک بار آیا کرتے تھے۔

تین ہزار سالہ تاریخ

درشن لال نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ پشاور یونیورسٹی اور ہزارہ یونیورسٹی کے آرکیالوجی شعبے کے محققین نے اپنے تحقیقی مقالوں میں اس مندر کی تاریخ کے حوالے سے لکھا ہے کہ یہ تقریباً تین ہزار سال پرانا ہے۔ اسی مندر کی تاریخ کے حوالے سے ساؤتھ ایشین سٹڈیز نامی جرنل میں لکھا گیا ہے کہ یہ مندر ہندوؤں کے دیوتا ’شیو‘ کی عبادت کے لیے مشہور ہے۔

اسی مقالے کے مطابق  یہ پاکستان میں موجود چند تاریخی مندروں میں شمار ہوتا ہے جسے ہندو کمیونٹی نے وقتاً فوقتاً مقامی بااثر لوگوں کی مدد سے محفوظ رکھا ہے۔

مقالے کے مطابق انیسویں صدی میں اس مندر پر تحقیق کی گئی جس میں تین بنیادی مسائل سامنے آرہے تھے۔

پہلا مسئلہ اس مندر کی قدامت کا تعین تھا اور دوسری بات کہ جو شیولنگ اس میں موجود ہے آیا وہ ہاتھ سے بنا ہے یا قدرتی طور پر ایسی ہی شکل میں یہاں لایا گیا تھا۔ تیسری اہم بات کہ یہ شیولنگ کتنا قدیم ہے۔

مقالے کے مطابق مندر کی تاریخ کے بارے میں کچھ شواہد ایسے ملے کہ یہ 14 ویں صدی میں بنایا گیا تھا جب کہ مندر کے اوپر بنا گنبد 17 ویں صدی کی تعمیرات سے ملتا جلتا ہے اور اس مسجد مہابت خان پشاور یا نوشہرہ میں صوفی کاکا صاحب کے مزار سے مشابہت رکھتا ہے جسے مغل دور میں تعمیر کیا گیا تھا۔

مقالے کے مطابق ایک دوسرا نقطہ نظر یہ بھی ہے کہ اس مندر کی سیاسی تاریخ ہزارہ میں 1841 میں شروع ہونے والے سکھ دور سے ملتی ہے جب سردار گلاب سنگھ کو ہزارہ کا گورنر مقرر کیا گیا تھا اور انہی کے دور میں ہندوؤں کے لیے ہزارہ ریجن میں مختلف مندر بنائے گئے۔

مندر میں موجود شیولنگ کی تاریخ

درشن لال کہتے ہیں کہ یہ شیولنگ تین ہزار سال پرانا ہے اور ’ایسے قد آور شیولنگ دنیا میں کُل چار رہ گئے ہیں جن میں سے ایک بھارت، ایک بنگلہ دیش، ایک نیپال اور ایک اسی مندر میں موجود ہے ۔ درشن نے بتایا ’اصلی حالت میں موجود یہ شیولنگ ہندوؤں کے لیے  بہت اہمیت کا حامل ہے۔ جس طرح مسلمان حج کے لیے جاتے ہیں تو جہاں پر اس سائز کے شیولنگ ہوں، ہندو وہاں تیرتھ کرنے کے لیے جاتے ہیں۔‘

پشاور یونیورسٹی مقالے کے مطابق شیولنگ کے پتھروں کو چار سے چھ اقسام میں تقسیم کیا گیا ہے تاہم اہم اقسام ان میں سے دو ہیں، ایک کو ’بنا لینگاس‘ اور ایک کو ’مانوسا لینگاس‘ کہا جاتا ہے۔ مقالے کے مطابق بنا لینگاس عام طور پر دریا کے کنارے اور نالوں کے قریب پائے جاتے ہیں اور ان کی شکل اور ہمواری بہتے پانی کی وجہ سے ہوتی ہے اور اسے قدرتی طور پر بنایا ہوا کہا جاتا ہے۔

انہی شیو لنگ میں کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو ہندو عقیدے کے مطابق دیوتا کے اپنے ہاتھوں سے بنائے ہوئے ہوتے ہیں جن کو ’شیوا لنگم‘ کہا جاتا ہے اور یہی شیولنگ ہندوؤں کے لیے سب سے مقدس ہوتا ہے۔

دوسری قسم کے ’مانوسا لنگ‘ آرٹسٹ ہاتھوں سے بناتے ہیں  اور اس کے لیے خاص کاریگر ہوتے ہیں۔ مقالے میں محتاط اندازے کے مطابق یہ شیو لنگ ہاتھ سے تیار کردہ ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس مندر پر تحقیق میں تیسرا مسئلہ شیولنگ کی تاریخ کا تھا کہ وہ کب سے یہاں پر موجود ہے۔ محققین کے مطابق شیولنگ کی درست تاریخ کا تعین ایک مشکل مرحلہ ہے تاہم مانسہرہ کا یہ شیولنگ پاکستان میں سائز کے اعتبار سے بڑا ترین ہے ۔

مقالے کے مطابق اس شیولنگ پر موجود کچھ رسم الخط ایسے ہیں جو ظاہر کرتے ہیں کہ یہ شیولنگ اسی جگہ پر تیسری صدی سے پانچویں  صدی یا 822 سے 1026 صدی  تک موجود تھا اور ہندوں کی عبادت کی جگہ تھی۔ یہ شیولنگ بغیر کسی عمارت کے سرراہ موجود تھا جس کی عبادت کے لیے زائرین آتے تھے اور بعد ازاں 1818 سے 1842 تک سکھ دور میں باقاعدہ اس کے لیے مندر کی تعمیر کی گئی ہے۔

درشن لال کے مطابق بھارت میں جب بابری مسجد کو گرایا گیا تھا تو پاکستان میں دیگر مندروں کی طرح اس مندر کو بھی مسمار کیا گیا اور اس سے شیولنگ کو باہر پھینک دیا گیا تھا تاہم بعد میں دیگر مندروں کی طرح پاکستانی حکومت نے اس کی تعمیر کروائی اور اس کو محکمہ اوقاف نے اپنی حفاظت میں لے لیا۔

مقالے کے مطابق اس مندر میں موجود شیولنگ کی تاریخ کے بارے میں مسند شواہد تو موجود نہیں ہیں لیکن اس کا موازنہ کشمیر میں پانچویں صدی کے شیولنگ سے کیا جا سکتا ہے اور اس کی شکل و ساخت اس ملتی جلتی ہے۔

مقالے کے آخر میں محققین اس بات پر متفق پائے گئے کہ یہ مند 1800  میں سکھ دور میں دوبارہ تعمیر کیا گیا تھا جب کہ اس میں موجود شیولنگ ساتویں صدی  سے نویں صدی کے درمیان ترک کاریگروں نے نہایت مہارت سے بنایا۔

درشن لال کے مطابق ’جس طرح مسلمانوں کے لیے حجر اسود مقدس ہے تو ہندؤں کے لیے یہ پتھر مقدس ہے اور یہاں لوگ منتیں مانگنے آتے ہیں  اور اسی شیولنگ پر دودھ، دہی یا پانی ڈالتے ہیں۔‘

مندر میں ہندوؤں کے تہوار

درشن لال نے بتایا کہ پورے پاکستان سے ہندو اس مندر میں تہوار منانے کے لیے سال میں دو بار آتے ہیں۔ ان تہواروں میں ایک شیوراتری ہے جو شیو شنکر کی شادی کا دن ہوتا ہے جسے ہندو عقیدت و احترام سے مناتے ہیں۔

درشن لال نے بتایا ’پاکستان میں صرف یہ ایک ہی بڑے سائز کا شیولنگ ہے اور اگر یہ نہ ہوتا تو پتہ نہیں ہم اپنی مقدس عبادت تیرتھ کر بھی سکتے تھے یا نہیں۔ تیرتھ ہندوؤں کے لیے اتنا اہم ہے جس طرح مسلمانوں کے لیے حج فرض ہے۔‘

درشن لال نے بتایا کہ اس پورے ضلع میں ایک بھی ہندو موجود نہیں ہے تاہم اس مندر کی حفاظت مقامی لوگ بھی کرتے ہیں اور کبھی بھی تہواروں کے دوران کسی قسم کا مسئلہ پیش نہیں آیا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ جب ہمارے تہوار ہوتے ہیں تو ہم قریب والی مسجد کے امام کو بتاتے ہیں اور وہ ہمیں کہتے ہیں کہ اذان کے وقت بس تھوڑا وقفہ کیا کریں، باقی آپ کو آزادی ہے کہ اپنی مذہبی رسومات ادا کریں۔

مندر میں ’غیر قانونی تعمیرات‘ کا تنازع

اسی تاریخی مندر سے متصل اب تین واش رومز اور تین غسل خانوں کی تعمیر پر  تنازع چل رہا ہے۔ یہ واش رومز صوبائی حکومت کی جانب سے جاری کردہ فنڈز سے بنائے جارہے ہیں۔ وش رومز کی سٹرکچر مکمل ہے لیکن دروازے  اور باقی کام ابھی باقی ہے تاہم اس پر کام کو بند کردیا گیا ہے۔

اسی ’غیر قانونی تعمیرات‘ کے خلاف آل پاکستان ہندو رائٹس موومنٹ کے چئیر مین ہارون سربدیال نے پشاور ہائی کورٹ کی ایبٹ آباد برانچ میں پیٹیشن بھی دائر کیا ہے۔ ہارون سربدیال کے مطابق اس تین ہزار سالہ تاریخی مندر میں ’غیر قانونی  تعمیرات‘ اس مندر کی تاریخی حیثیت کو خراب کرے گی۔

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ مندر میں وش رومز کی تعمیرات ’شیولنگ‘ کے نچلے حصے کے ساتھ ہی بنائی جا رہی ہیں جو غیر قانونی  ہے کیونکہ اس طرح کی تاریخی عمارتوں میں کسی بھی تعمیرات سے پہلے پیشگی اجازت لینا لازمی ہے۔ اس حوالے سے خیبر پختونخوا کے محکمہ آرکیالوجی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر عبدالصمد نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ بد قسمتی سے ان واش رومز کو بنانے سے پہلے آرکیالوجی محکمے سے کسی قسم کا این او سی حاصل نہیں کیا گیا۔

خیبر پختونخوا اینٹیکویٹی ایکٹ کے مطابق کسی بھی تاریخی ورثہ قرار دیے جانے والی عمارت یا جگہ میں تعمیرات یا کسی بھی کام سے پہلے محکمہ آرکیا لوجی سے این او سی لینا لازمی ہے۔ اس تنازعے کے حوالے سے پیٹیشن کو عدالت نے قبول کیا ہے اور اس کیس میں متعلقہ شعبوں کو نوٹسز جاری کیے جا چکے ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا