’طالبان سے اسلام قلعہ واپس لینے کے لیے مزید فوج بھیجیں گے‘

طالبان نے ایران سے متصل اسلام قلعہ کے سرحدی شہر اور ترکمانستان کے ساتھ لگنے والی تورغندی گزرگاہ پر قبضے کا دعویٰ کیا ہے جس کے بعد ہرات کے گورنر کا کہنا ہے اسلام قلعہ واپس حاصل کرنے کے لیے مزید فوجی بھیجے جائیں گے۔

امریکہ کی جانب سے انخلا کے اعلان کے بعد اپنے حملوں میں تیزی لا کر طالبان نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے اہم سرحدی گزرگاہوں سمیت ملک کے 85 فیصد حصے پر قبضہ کرلیا ہے تاہم افغان حکومت کا کہنا ہے کہ وہ جنگجوؤں کو پیچھے دھکیلنے کی کوشش کر رہی ہے۔

صدر جو بائیڈن کی جانب سے جنگ زدہ ملک سے امریکی فوج کے انخلا کا بھرپور دفاع کرنے کے چند گھنٹوں کے بعد ہی طالبان نے جمعے کو اعلان کہ ان کے جنگجوؤں نے مغربی افغانستان میں ایران اور وسطی ایشیائی ریاست ترکمانستان کے ساتھ لگنے والے دونوں اہم راستوں پر قبضہ کر لیا ہے جس سے ایرانی سرحد سے لے کر شمال میں چینی سرحد تک پورا مغربی باڈر غیر محفوظ ہو گیا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ماسکو میں طالبان عہدیداروں کے ایک وفد نے بتایا کہ انہوں نے افغانستان کے تقریباً چار سو اضلاع میں سے 250 پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک علیحدہ بیان میں اے ایف پی کو بتایا کہ ان کے جنگجوؤں نے ایران سے متصل اسلام قلعہ کے سرحدی شہر اور ترکمنستان کے ساتھ لگنے والی تورغندی گزرگاہ پر قبضہ کر لیا ہے۔

افغانستان کی وزارت داخلہ کے ترجمان طارق آریان نے کہا کہ طالبان کو ان کی تازہ ترین پوزیشنز سے پیچھے ہٹانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

ہرات کے گورنر کے ترجمان جلانی فرحاد نے اے ایف پی کو بتایا کہ حکام ایران اور افغانستان کے درمیان اہم تجارتی گزرگاہ اسلام قلعہ کو طالبان کے قبضے سے واپس لینے کے لیے افواج بھیجنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ 

انہوں نے کہا کہ مزید فوجی ابھی بھیجے نہیں گئے مگر جلد بھیج دیے جائیں گے۔


 

اگرچہ افغان حکومت بارہا طالبان کی کامیابیوں کی سٹریٹیجکل اہمیت کو کم قرار دیتے ہوئے مسترد کر چکی ہے تاہم معدنیات سے مالا مال علاقوں کے ساتھ متعدد بارڈر کراسنگز پر قبضے سے ممکنہ طور پر گروپ کو آمدنی کے کئی نئے وسائل میسر آئیں گے۔

بائیڈن نے جمعرات کو کہا تھا کہ 20 سال بعد افغانستان میں امریکی فوجی مشن 31 اگست کو ختم ہوگا لیکن انہوں نے اعتراف کیا کہ کابل حکومت کے پورے ملک پر کنٹرول حاصل کرنے کے امکانات انتہائی کم ہیں۔

صدر بائیڈن نے ملک میں مزید رکنے کے بارے میں کہا: ’میں امریکیوں کی ایک اور نسل کو افغانستان میں جنگ میں نہیں جھونکوں گا۔‘

حالیہ ہفتوں میں طالبان نے شمالی افغانستان کے بیشتر حصے پر قبضہ کرلیا ہے لیکن حکومت کو اب بھی صوبائی درالحکومتوں پر تھوڑا بہت کنڑول حاصل ہے اور یہاں موجود ہوائی اڈوں سے انہیں اپنا کنٹرول برقرار رکھنے اور کمک اور رسد کے راستے بحال رکنے میں مدد مل رہی ہے۔

افغان فضائیہ پہلے ہی سخت دباؤ کا شکار تھی لیکن طالبان کے شمالی اور مغربی پوزیشنز پر غلبہ حاصل کرنے کے بعد ملک کے محدود طیاروں اور پائلٹوں کی تعداد نے اس دباؤ میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دوسری جانب طالبان نے صدر بائیڈن کے بیان کا خیرمقدم کیا۔ طالبان ترجمان سہیل شاہین نے اے ایف پی کو بتایا: ’امریکی اور غیر ملکی فوجیوں کا ایک دن یا کچھ گھنٹے پہلے ہی ملک چھوڑنا ایک مثبت قدم ہے۔‘

رواں ہفتے صوبہ بادغیس کے درالحکومت قلعہ نو پر قبضے کے لیے افغان کمانڈوز اور طالبان کے درمیان گھمسان کی جنگ جاری رہی جہاں سے پہلے ہی ہزاروں افراد دوسرے اضلاع منتقل ہو چکے تھے۔

افغان وزارت دفاع نے جمعے کو کہا کہ سرکاری فوج کا شہر پر ’مکمل کنٹرول‘ ہے۔

کئی گھنٹوں کے بعد طالبان جنگجوؤں کے ایک گروپ نے صوبہ قندھار کے دارالحکومت کے قریب ایک جیل پر حملہ کیا۔

ان حالات کے بعد صدر اشرف غنی نے کہا کہ حکومت صورت حال کو سنبھال سکتی ہے لیکن انہوں نے آگے آنے والی مشکلات کا بھی اعتراف کیا۔

کابل میں ایک تقریر میں صدر غنی نے جمعرات کو کہا: ’جو ہم دیکھ رہے ہیں وہ منتقلی کے سب سے پیچیدہ مراحل میں سے ایک ہے۔‘

مدد کا وعدہ

2001 میں امریکی فوج  کو طالبان کی حکومت کے خاتمے میں مدد فراہم کرنے والی ملیشیا کے رہنما اسماعیل خان نے ایک بار پھر طالبان کے خلاف جنگ میں سرکاری فوج کی مدد کرنے کا عزم کیا ہے۔

اسماعل خان نے مغربی ہرات میں نامہ نگاروں کو بتایا: ’ہم جلد ہی فرنٹ لائن میں شامل ہو جائیں گے اور خدا کی مدد سے حالات کو تبدیل کریں گے۔‘

غیر ملکی فوجیوں کے انخلا اور دوحہ مذاکرات میں تعطل سے طالبان کا حوصلہ بڑھ گیا ہے جو مکمل فوجی کامیابی کے لیے پرعزم دکھائی دیتے ہیں۔

اس کے باوجود طالبان ترجمان شاہین نے اصرار کیا کہ وہ اب بھی ایک ’معاہدے‘ کے طے پانے کے خواہاں ہیں۔

امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے مذاکرات کے حوالے سے بین الاقوامی دباؤ برقرار رکھنے پر زور دیا ہے۔ آسٹن نے جمعے کو ایک ٹویٹ میں کہا: ’افغانستان میں سلامتی کی صورت حال سیاسی تصفیے سے ہی حل ہو سکتی ہے اور اس کے لیے بین الاقوامی دباؤ ضروری ہے۔ پوری دنیا اس دباؤ کو جاری رکھ کر مدد کر سکتی ہے۔‘

پینٹاگون کے سربراہ نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ کون سے ممالک کی مدد کے لیے زور دے رہے ہیں۔ لیکن خیال کیا جاتا ہے کہ پاکستان کو طالبان پر نمایاں اثر و رسوخ حاصل ہے۔

ادھر ماسکو میں روسی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا کہ طالبان نے افغان-تاجک سرحد کے تقریباً دوتہائی حصے پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے جب کہ باغیوں کا ایک وفد اس وقت روس میں ہی موجود تھا۔

طالبان کے نمائندے شہاب الدین دلاور نے بتایا کہ ’افغانستان کا تقریباً 85 فیصد علاقہ‘ اس گروپ کے کنٹرول میں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ گروپ دوسرے جنگوؤں کو افغانستان کو اپنی کارروائیوں کے لیے استعمال کرنے سے روکنے کے لیے پرعزم ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا