حریری حکومت سازی سے دستبردار، لبنان معاشی بحران کی زد میں

سعد الحریری نے جمعرات کو صدرعون سے 20 منٹ کی ملاقات کے بعد کہا : ’اب یہ بات واضح ہے،ہمارا صدر سے اتفاق نہیں ہوگا۔‘

لبنانی فوج نامزد لبنانی وزیر اعظم سعد الحریری کے حکومت سازی سے دستبرداری کے بعد جمعرات کے روز بیروت سڑکوں پر تعینات ہے (روئٹرز)

لبنان کے نامزد وزیراعظم سعدالحریری نے ایک ماہ سے جاری حکومت سازی کی کوششیں جمعرات کے روز ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

یہ فیصلہ انہوں نے نئی کابینہ کی تشکیل کے معاملے پر صدر میشیل عون سے بنیادی اختلافات ختم نہ ہونے پر کیا ہے۔

انہوں نے جمعرات کو صدرعون سے 20 منٹ کی ملاقات کے بعد کہا : ’اب یہ بات واضح ہے،ہمارا صدر سے اتفاق نہیں ہوگا۔‘

سعدالحریری نے بدھ کو 24 وزراء پرمشتمل اپنی کابینہ کی فہرست صدرمیشیل عون کو پیش کی تھی اور کہا تھا کہ وہ اب اس پر صدر کی رائے کے منتظر ہیں۔ انھوں نے گذشتہ سال اکتوبر میں اپنی نامزدگی کے نوماہ کے بعد صدر عون کو اپنی مجوزہ کابینہ کی فہرست پیش کی تھی۔ انھوں نے 24 ماہرین کو وزراء کے طور پر نامزد کیا تھا اور نئی کابینہ کو فرانسیسی اقدام کے مطابق تجویز کیا گیا تھا۔

انھوں نے صدر سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھاکہ ’اب سچائی کا مرحلہ آگیا ہے۔‘

انہوں اس توقع کا اظہارکیا کہ’میرے نزدیک یہ حکومت ملک کو بچانے کا آغاز کرسکتی ہے اور اس کا تختہ الٹنے سے روک سکتی ہے۔‘

واضح رہے کہ ان کے نئی کابینہ کی تشکیل کے معاملے پر صدرعون کی جماعت فری پیٹریاٹک موومنٹ (ایف پی ایم ) سے اختلافات چلے آرہے تھے۔اس کے علاوہ لبنان کی دوسری بڑی مسیحی جماعت،سمیر جعجع کے زیر قیادت لبنانی فورسز نے بھی سعدالحریری کی وزارت عظمی کے لیے نامزدگی کی حمایت نہیں کی تھی۔

51 سالہ سعد الحریری نے اکتوبر 2019 میں ملک گیر احتجاجی مظاہروں کے بعد وزارت عظمی سے استعفی دے دیا تھا اور اس کے ایک سال کے بعد اکتوبر2020 میں صدر نے انہیں دوبارہ وزیراعظم نامزد کرکے نئی حکومت بنانے کی دعوت دی تھی۔

لبنان میں قر یباً گذشتہ ایک سال سے کوئی فعال حکومت نہیں ہے اور ایک عبوری حکومت ملک کا نظم ونسق چلا رہی ہے۔ لبنانی حکومت گذشتہ سال 4 اگست کو بیروت کی بندرگاہ پر تباہ کن دھماکے کے بعد مستعفی ہوگئی تھی۔

لبنان کو اس وقت بدترین اقتصادی بحران کا سامنا ہے۔ افراط زر کی شرح آسامان سے باتیں کررہی ہے۔عالمی بنک کے مطابق لبنان میں گذشتہ ڈیڑھ سو سال میں اس طرح کے بدترین معاشی بحران کی نظیرنہیں ملتی ہے۔

سعد الحریری لبنان کے کلیدی سنی سیاستدان ہیں جنہیں بیروت کی بندرگاہ پر دھماکے بعد وزیر اعظم حسن دیاب  اور ان کی کابینہ کے استعفے کے بعد  کابینہ سازی کی پیشکش ہوئی تھی۔

سعد الحریری کے حکومت اور کابینہ سازی سے دستبرداری کے فیصلے کے بعد مظاہرین نے بیروت کے سنی اکثریتی علاقوں میں مظاہرے کیے ہیں اور کچرے اور ٹائرز کو آگ لگائی ہے۔ فوج نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ہوائی فائرنگ کی ہے جو فوج پر پتھراؤ کر رہے تھے۔ سکیورٹی ذرائع نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا ہے کہ ایک فوجی اہلکار زخمی ہوا ہے۔

سعد الحریری کے فیصلے پر عالمی رد عمل

فرانس کے وزیر خارجہ  ژان ایوو لودغیاں کا کہنا ہے کہ لبنانی رہنما اس بحران سے نمٹ نہیں پا رہے ہیں جو انہوں نے خود پیدا کیا ہے۔ انہوں نے کابینہ سازی میں ناکامی کو ایک اور بد ترین سانحہ قرار دیا ہے۔

عرب لیگ کے سیکریٹری جنرل احمد عبدالغیط نے کہا ہے کہ اس ناکامی کے نتائج سنگین ہوں گے۔

امریکی وزیر خارجہ اینٹونی بلنکن کا کہنا ہے کہ حریری کا فیصلہ مایوس کن تھا۔ انہوں نے لبنانی رہنماؤں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے اختلافات کو پس پشت ڈال کر حکومت بنائیں۔

عالمی بینک نے لبنان کے معاشی بحران کو جدید تاریخ کا بد ترین بحران قرار دیا ہے۔ لبنان کے سکے کی قدر میں دو سال کے دوران 90 فیصد تک گراوٹ آ چکی ہے، غربت پھیل رہی ہے اور ایندھن کی قلت پیدا ہو رہی ہے جس کی وجہ سے سماجی بے چینی پھیلنے کے خدشات پیدا ہو رہے ہیں۔

حریری کے فیصلے سے مہینوں سے جاری وہ تنازعہ ختم ہوا جو کابینہ کے عہدوں پر حریری اور مسیحی سربراہ مملکت عون کے درمیان جاری تھا جنہیں ایران حامی شیعہ مسلم گروپ حزب اللہ کی حمایت حاصل ہے۔ حریری اور عون دونوں ایک دوسرے کو اس بحران کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔

سعد الحریری نے مقامی ٹیلی ویژن الجدید کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ’آپ مجھ سے وہ سب کچھ کرنے کو نہیں کہہ سکتے جو میں کر سکتا ہوں کیونکہ کوئی اور کوئی قربانی دینے کے لیے تیار نہیں ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ عون نے ان سے اقلیت کو کابینہ میں جگہ دینے سے روکا تھا جو کہ اہم ’مسلمان بلاک‘ ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایوان صدر کا کہنا ہے کہ عون نئے وزیر اعظم کی جلد از جلد تعیناتی کے لیے ممبران پارلیمان سے مشاورت کریں گے۔

حریری نے الجدید ٹی وی کو  انٹرویو کے دوران بتایا کہ وہ مستقبل میں مشاورت کے لیے کسی کو نامزد نہیں کریں گے۔

لبنان کے فرقہ وورانہ نظام کے تحت وزیر اعظم کے عہدے کو کسی سنی امیدوار سے ہی پر کیا جا سکتا ہے تاہم اس کے لیے کوئی واضح نعم البدل موجود نہیں ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کوئی بھی سنی سیاستدان بغیر حریری کی حمایت کے اس عہدے کے لیے کھڑا نہیں ہوگا۔

دیاب قائم مقام وزیر اعظم کے طور پر کام کرتے رہیں گے جب تک نئی حکومت کا قیام عمل میں نہیں آتا۔

بحران ’آٹو پائیلٹ‘ پر

1975 سے 1990 کے دوران خانہ جنگی کے بعد سے اب تک معاشی زبوں حالی لبنان کا بد ترین بحران ہے۔

محند ہیگے علی کارنیگی مڈل ایسٹ سینٹر کے فیلو ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سکیورٹی کی صورتحال سنگین موڑ پر پہنچ گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اس ملک کی تاریخ تشدد سے بھری پڑی ہے اور میں اس بحران کو آٹو پائیلٹ پر دیکھ رہا ہوں جسے کوئی قابو نہیں کر رہا۔‘

مغربی حکومتیں لبنانی سیاستدانوں پر حکومت بنانے کے لیے دباؤ بڑھا رہی ہیں جس سے بدعنوان ریاست کی اصلاح کی جائے، یہ کام پابندیاں لگانے کی دھمکیاں دے کر اور یہ کہہ کر کرایا جا رہا ہے کہ جب تک اصلاحات کا عمل شروع نہیں ہوتا امداد نہیں دی جائے گی۔

سیاستدانوں اور تجزیہ کاروں کو یہ کام اگلے برس پارلیمانی انتخابات سے قبل ممکن نظر نہیں آرہا۔

حریری لبنان کے سب سے زیادہ اثرورسوخ رکھنے والے رہنما ہیں جنہیں لبنان کی سنی مذہبی اسٹیبلشمنٹ کی حمایت حاصل ہے اور انہیں سنی ملک سعودی عرب کی حمایت بھی حاصل ہے۔ اس کے علاوہ مصر سمیت دیگر سنی اکثریتی عرب ریاستیں بھی حریری کی حمایت کرتی ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا