افغان تنازعے کا ’سیاسی حل‘ چاہتے ہیں: طالبان سربراہ

افغان طالبان کے سربراہ ہیبت اللہ اخونزادہ نے عید سے قبل ایک بیان میں کہا ہے کہ ’فوجی پیش قدمی کے باوجود اسلامی امارات سختی سے ملک میں سیاسی تصفیے کی حامی ہے۔‘

پانچ مئی 2021 کو ہلمند صوبے میں طالبان اور سکیورٹی فورسز کی لڑائی سے بچنے کے لیے  شہر چھوڑتےافغان (اے ایف پی)

افغان طالبان کے سربراہ ہیبت اللہ اخونزادہ نے کہا ہے کہ وہ افغان تنازعے کے سیاسی حلے کے حامی ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق طالبان کے سربراہ کا بیان عید الاضحیٰ سے کچھ دن قبل ہی اتوار کو جاری ہوا۔

ان کا بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک سے امریکی افواج کا انخلا جاری ہے اور طالبان کی پیش قدمی میں وہ اور کئی اہم سرحدی علاقوں میں قابض ہوگئے ہیں۔

اگلے ہفتے عید سے قبل جاری بیان میں ہیبت اللہ اخونزادہ نے کہا: ’فوجی پیش قدمی کے باوجود اسلامی امارات سختی سے ملک میں سیاسی تصفیے کی حامی ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا: ’اسلامی امارات اسلامی نظام کے قیام اور امن و سلامتی کے لیے ہر موقع کا استعمال کرے گی۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا کہ وہ جنگ کے خاتمے کے لیے حل تلاش کرنے کے عزم پر قائم ہیں مگر یہ بھی کہا کہ ’مخالفین وقت ضائع کر رہے ہیں۔‘

’ہمارا پیغام یہی ہے کہ غیر ملکیوں پر انحصار کرنے کی بجائے ہمیں اپنے مسائل اپنے آپ ہی حل کرنے چاہییں اور اپنے وطن کو اس بحران سے نکالنا چاہیے۔‘

ہیبت اللہ اخونزادہ کا بیان ایک ایسے وقت میں بھی سامنے آیا ہے جب افغان حکومت کا وفد اور طالبان کا وفد مذاکرات کے ایک اور دور کے لیے دوحہ میں جمع ہیں۔ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ تعطل کا شکار مذاکرات اب واپس بحال ہوں گے۔

فریقین کے درمیان گذشتہ کچھ ماہ سے دوحہ میں ملاقاتیں جاری ہیں مگر اب تک کوئی اہم پیش قدمی نہیں ہوئی ہے۔

اتوار کو مذاکرات کا ایک اور دور متوقع ہے۔

جیسے جیسے طالبان کے ملک میں قبضہ بڑھتا گیا ہے ویسے ویسے مذاکرات میں سست رفتاری آئی ہے۔

مانا جا رہا ہے کہ ملک کے چار سو میں آدھے کے قریب اضلاع اب طالبان کے قبضے میں ہیں۔ وہ پاکستان اور ایران کی اہم سرحدی گزرگاہوں سمیت کئی صوبائی دارالحکومتوں کے بھی محاصرے کیے ہوئے ہیں۔

واضح رہے کہ اس بار طالبان کے سربراہ نے  عید کے لیے جنگ بندی کا اعلان نہیں کیا۔

گذشتہ سالوں میں طالبان نے اسلامی تہواروں کے دوران کم مدتی جنگ بندی کے اعلانات کیے ہیں جس سے امید جاگتی تھی کہ ممکنہ طور پر ملک میں تشدد میں کمی بھی لائی جائے گی، تاہم ایسا ابھی تک نہیں ہوا۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا