افغانستان میں پھنسے صحافیوں کے لیے پاکستانی ویزہ پالیسی نرم: وزارت داخلہ

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کی جانب سے ٹوئٹر بیان میں کہا گیا کہ ’افغانستان میں تبدیل ہوتی صورت حال کے پیش نظر حکومت پاکستان نے افغانستان میں پھنسے صحافیوں اور میڈیا کارکنان کے لیے ویزا پالیسی میں نرمی کا فیصلہ کیا ہے۔‘

(تصویر: اے ایف پی)

پاکستان کی وزارت داخلہ نے جمعے کو افغانستان میں سیکیورٹی صورت حال کے پیش نظر صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے لیے ویزا پالیسی میں نرمی کا اعلان کردیا۔

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کی جانب سے ٹوئٹر بیان میں کہا گیا کہ ’افغانستان میں تبدیل ہوتی صورت حال کے پیش نظر حکومت پاکستان نے افغانستان میں پھنسے صحافیوں اور میڈیا کارکنان کے لیے ویزا پالیسی میں نرمی کا فیصلہ کیا ہے۔‘

بیان میں کہا گیا کہ جو بین الاقوامی صحافی اور میڈیا کارکنان پاکستان کے راستے افغانستان چھوڑنا چاہتے ہیں، ان سے اپیل ہے کہ وہ پاکستان کے ویزے کے لیے درخواست دیں۔

شیخ رشید نے کہا کہ وزارت داخلہ ان بین الاقوامی صحافیوں اور کارکنان کو ترجیحی بنیادوں پر ویزا جاری کرے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان کی طرف سے ویزا پالیسی میں نرمی کااعلان افغانستان میں کام کرنے والے صحافیوں اور میڈیا کارکنان کے تحفظ کے پیش نظر کیا جارہا ہے۔

پاکستان کی جانب سے صحافیوں کی مدد کے لیے اہم اعلان افغانستان میں مزید اہم شہروں پر طالبان کے قبضے کے بعد کیا گیا ہے جہاں طالبان تیزی سے پیش قدمی کر رہے ہیں اور کابل کے قریب پہنچ گئے ہیں۔

افغانستان کی صورت حال کے پیش نظر امریکا اور برطانیہ نے اپنے سفارتی عملے اور شہریوں کو نکالنے کے لیے مزید فوجی بھیجنے کا اعلان کردیا ہے۔


اقوام متحدہ کے ترجمان سٹیفن ڈوجارک نے جمعے کو اپنے بیان میں کہا کہ اقوام متحدہ افغانستان میں سیکورٹی صورتحال کا فی گھنٹے کی بنیاد پر جائزہ لے رہی ہے تاہم عملے میں سے کسی کو بھی ملک سے نہیں نکالا جائے گا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اقوام متحدہ طالبان کے زیر تسلط علاقوں میں کم افرادی قوت رکھتی ہے اور کچھ عملے کو ملک کے دیگر حصوں سے کابل منتقل کیا جا رہا ہے۔


ایک ایسے وقت میں جبکہ طالبان افغانستان کے مختلف اضلاع پر تیزی سے کنٹرول حاصل کررہے ہیں، نائب افغان صدر امراللہ صالح نے کہا ہے کہ ان کی حکومت اور سکیورٹی فورسز طالبان ’دہشت گردوں‘ کے خلاف مضبوطی سے ڈٹی رہیں گی۔

اپنے ٹوئٹر پیغام میں امر اللہ صالح کا کہنا تھا: ’صدر اشرف غنی کی زیر صدارت سکیورٹی کونسل کے اجلاس میں یہ طے کیا گیا ہے کہ ہم طالبان دہشت گردوں کے خلاف مضبوطی سے ڈٹے رہیں گے اور قومی سالمیت پر کسی بھی طریقے سے کوئی آنچ نہیں آنے دی جائے گی۔‘

ان کا مزید کہنا تھا: ’ہمیں اپنی سکیورٹی فورسز پر فخر ہے۔‘

دوسری جانب دوحہ میں افغانستان کے حوالے سے ہونے والے بین الاقوامی اجلاس میں شریک ممالک نے افغان تنازعے کے فریقین پر شہروں میں تشدد کو فوری طور پر روکنے پر زور دیا ہے۔

اجلاس کے بعد قطری وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا کہ امن عمل کو تیز کرنے کے لیے فریقین کی جانب سے ٹھوس تجاویز پیش کیے جانے اور ان پر بات چیت کی فوری ضرورت ہے۔

مشترکہ اعلامیے میں تمام فریقوں پر زور دیا گیا کہ وہ اعتماد سازی کے لیے اقدامات کریں اور جلد از جلد ایک سیاسی تصفیے اور جامع جنگ بندی معاہدے تک پہنچنے کی کوششوں کو تیز کریں۔

امریکہ کے افغانستان کے لیے خصوصی ایلچی زلمے خلیل زاد نے ٹوئٹر پر یہ اعلامیہ شیئر کیا، جس میں شرکا نے صوبائی دارالحکومتوں میں تشدد اور مزید شہروں پر حملوں کو فوری طور پر ختم کرنے پر بھی زور دیا۔ 

دوحہ حکومت کی دعوت پر پاکستان، چین، ازبکستان، امریکہ، برطانیہ، قطر، اقوام متحدہ اور یورپی یونین کے خصوصی ایلچی اور نمائندوں نے 10 اگست کو ہونے والے اجلاس میں شرکت کی۔

اس کے علاوہ جرمنی، بھارت، ناروے، قطر، تاجکستان، ترکی اور ترکمانستان کے خصوصی ایلچی اور نمائندوں نے 12 اگست کو بین الافغان مذاکرات کی صورت حال کا جائزہ لیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پاکستان کے افغان امن عمل کے لیے ایلچی محمد صدیق اس اجلاس اور دو روزہ ٹروئیکا پلس اجلاس میں شامل ہونے کے لیے بھی بدھ سے دوحہ میں ہیں۔ ٹروئیکا امریکہ، چین اور روس کی سربراہی میں افغانستان کی صورت حال پر بات چیت کے لیے ایک پلیٹ فارم ہے۔

شرکا نے اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ افغانستان میں کسی ایسی حکومت کو تسلیم نہیں کریں گے جو طاقت کے زور پر مسلط کی گئی ہو۔

شرکا نے قطر کی حکومت اور اس سلسلے میں ان کی کوششوں کی کا خیر مقدم اور شکریہ ادا کیا۔


اگر طالبان نے القاعدہ کو پناہ دی تو ہم افغانستان واپس آ سکتے ہیں: برطانیہ

برطانیہ نے کہا ہے کہ اگر افغانستان میں طالبان نے القاعدہ کو پناہ دی تو برطانیہ کارروائیوں کے لیے ’وہاں واپس جا سکتا ہے۔‘

روئٹرز کے مطابق سکائی نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں برطانیہ کے سیکرٹری دفاع بین والیس نے کہا کہ افغانستان ایک ناکام ریاست بننے اور خانہ جنگی کی جانب بڑھ رہا ہے جہاں القاعدہ جیسے گروہ پھر سے سر اٹھا سکیں گے اور مغرب کے لیے ایک بار پھر خطرہ بن جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا: ’برطانیہ نے 1830 کی دہائی میں ہی جان لیا تھا کہ یہ وارلارڈز اور مختلف صوبوں اور قبائل کی سرپرستی میں چلنے والا ملک ہے، اگر آپ محتاط نہ رہیں تو خانہ جنگی کی جانب بڑھ سکتے ہیں اور میرے خیال میں ایسا ہو رہا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ مغرب کو یہ سمجھنا ہوگا کہ وہ افغانستان جیسے ممالک کو فوراً ہی ٹھیک نہیں کر سکتا۔

بین والیس نے کہا کہ اگر طالبان نے القاعدہ کو پناہ دینا شروع کی تو برطانیہ ’واپس آ سکتا ہے۔‘


لشکر گاہ پر قبضہ

افغانستان میں طالبان کی پیش قدمی جاری ہے اور اہم شہروں قندھار اور ہرات کے بعد اب طالبان نے لشکر گاہ پر قبضے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔ دوسری جانب امریکہ نے طالبان کو امریکی سفارتی عملے کو افغانستان سے نکالنے کے لیے بھیجے جانے والی فوجیوں پر حملوں سے خبردار کیا ہے۔

طالبان نے ٹوئٹر پر ہلمند صوبے کے دارالحکومت لشکر گاہ پر قبضے کا دعویٰ کیا جبکہ ایک پولیس اہلکار نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو اس کی تصدیق بھی کی۔ 

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر مذکورہ اہلکار نے بتایا کہ دو ہفتے کی لڑائی کے بعد اب شہر طالبان کے کنٹرول میں ہے۔

ان کے بقول اعلیٰ عسکری اور سرکاری عہدیداروں کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے شہر سے باہر نکال لیا گیا۔

انہوں نے کہا: ’گورنر کمپاؤنڈ میں رہ جانے والے 200 افغان سکیورٹی فورسز کے اراکین نے قبائلی رہنماؤں کی مداخلت کے بعد ہتھیار ڈال دیے۔‘


امریکی وزرا کا افغان صدر سے رابطہ

امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن اور وزیر دفاع لائیڈ آسٹن کی افغان صدر اشرف غنی سے گفتگو ہوئی ہے، جس میں انہوں نے افغان صدر کو یقین دہانی کروائی ہے کہ امریکہ ’افغانستان کی سکیورٹی اور استحکام کی حمایت کرتا ہے۔‘

وزارت خارجہ کی جانب سے جاری ایک بیان کے مطابق امریکی وزرا نے افغانستان کے تنازعے کے تصفیے کے لیے ایک سیاسی حل کی بھی حمایت کی ہے۔


ہرات اور قندھار پر قبضے کا دعویٰ

افغانستان میں طالبان نے ہرات اور قندھار کے اہم شہروں پر قبضے کا دعویٰ کیا ہے۔ 

اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ ملک کے دوسرے بڑے شہر قندھار پر قبضہ کر لیا گیا ہے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق عینی شاہدین نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ طالبان نے گورنر کے دفتر اور دیگر سرکاری عمارتوں پر قبضہ کر لیا ہے۔


امریکہ کی طالبان کو تنبیہ

امریکہ اور برطانیہ نے جمعرات کو اعلان کیا کہ وہ اپنے سفارتی عملے کو نکالنے کے لیے ہزاروں فوجی افغانستان بھیج رہے ہیں۔ امریکہ نے طالبان کو عارضی طور پر تعینات کیے جانے والے فوجیوں پر حملوں سے باز رہنے کی تنبیہ بھی کی ہے۔

 

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کے بیان میں کہا گیا کہ امریکہ 48 گھنٹے کے اندر تین ہزار فوجیوں کو روانہ کر رہا ہے، جو سفارتی عملے کے انخلا میں مدد کریں گے۔

امریکہ نے طالبان کو براہ راست تنبیہ کی ہے کہ انخلا کے لیے کی جانے والی عارضی تعیناتی کے دوران امریکی فوجیوں پر حملے کا جواب دیا جائے گا۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس کے مطابق: ’ہم اگلے کچھ ہفتوں میں افغانستان میں صرف بہت ضروری عملے کی موجودگی رکھیں گے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ سفارت خانے کو بند نہیں کیا جا رہا، جب کہ اس معاملے کی واقفیت رکھنے والے ایک شخص کے مطابق اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں ہے کہ سفارت خانہ کھلا رہے گا۔

محکمہ خارجہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ افغانستان سے ان افغانوں کی امیگریشن کے لیے خصوصی ویزا فلائٹس کی رفتار بھی بڑھائی جا رہی ہے، جنہوں نے امریکی کوششوں میں مدد فراہم کی تھی۔

ادھر برطانیہ نے بھی افغانستان سے برطانوی شہریوں اور مترجمین کے انخلا کے لیے چھ سو فوجیوں کی تعیناتی کا اعلان کیا ہے۔

ایک جانب جہاں امریکہ اور برطانیہ کی جانب سے افغانستان سے اپنے شہریوں اور سفارتی عملے کے انخلا کے اعلانات کیے جا رہے ہیں، وہیں اقوام متحدہ نے طالبان کی کارروائیوں اور کابل تک رسائی کو ’شہریوں کے لیے تباہ کن‘ قرار دیا ہے۔

اس صورت حال کے پیش نظر امریکہ اور جرمنی نے اپنے شہریوں پر فوری طور پر افغانستان سے نکل جانے پر زور دیا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا