’کراچی کا 95 فیصد پانی انسانی استعمال کے قابل نہیں‘

دماغ خور جراثیم نیگلیریا فاؤلری سے کراچی میں رواں سال انفیکشن کا ساتواں کیس رپورٹ ہوا ہے اور صحت کے ماہرین نے کراچی کے آلودہ پانی پر خطرے کی گھنٹیاں بجا دی ہیں۔

کراچی میں ایک خاتون ہینڈ پمپ سے گھر کے لیے پانی جمع کر رہی ہیں۔ ماہرین صحت نے کہا ہے کہ شہر میں 95 فیصد پانی انسانی استعمال کے لیے موزوں نہیں(اے ایف پی فائل)

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں دماغ خور جراثیم کا اس سال کے دوران انفیکشن کا ساتواں کیس رپورٹ ہوا ہے اور حکام کا کہنا ہے کہ شہر کے گھروں میں پہنچنے والا 95 فیصد پانی انسانی استعمال کے لیے موزوں نہیں ہے۔

دماغ خور جراثیم نیگلیریا فاؤلری میٹھے پانی کے ذخائر میں پایا جاتا ہے، جیسے کہ جھیلیں، تالاب، دریا یا گرم چشمے یا پھر صفائی کے ناقص انتظامات والے سوئمنگ پول یا پانی کی پائپ لائنیں۔

یہ جرثومہ ناک کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہوتا ہے اور دماغ میں نیگلیریسس نامی انفیکشن پیدا کرتا ہے جو زیادہ تر مہلک ثابت ہوتا ہے۔

محکمہ صحت سندھ کی نیگلیریا مانیٹرنگ اور انسپیکشن ٹیم کے مطابق اس کا پہلا کیس کراچی میں 2008 میں رپورٹ ہوا تھا اور اب تک اس سے سو افراد کی ہلاکت ہو چکی ہے جن میں سے 44 گذشتہ چھ سالوں میں تھیں۔

حالیہ کیس گذشتہ ہفتے رپورٹ ہوا جب ایک 38 سالہ شخص کو منگل کو کراچی کے ضیاالدین ہسپتال داخل کیا گیا۔

عرب نیوز سے بات کرتے ہوئے محکمہ صحت کی ٹیم کے رکن ڈاکٹر شکیل احمد نے کہا: ’کراچی میں اس سال کا ساتواں کیس رپورٹ ہوا ہے، اور اس سے پہلے چھ میں سے کوئی نہیں بچ پایا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ پانچ افراد میں شہر کے پانی کی تقسیم کے نظام یا نجی ٹینکروں کے آلودہ پانی کے استعمال سے انفیکشن ہوا۔

ڈاکٹر شکیل احمد نے کہا: ’جون 2021 کو کراچی کی 150 یونین کونسلوں میں تحقیق کی گئی جس میں جمع کیے گئے پانی کی نمونوں میں سے 95 فیصد انسانی استعمال کے لیے محفوظ نہیں تھے۔‘

نہ صرف پانی کی فراہمی کی پائپ لائنز بلکہ ناقص انتظامات والے آبی ذخائر بھی اس جراثیم کی افزائش کے لیے موزوں جگہ بنتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ڈاکٹر احمد نے کہا: ’زیر زمین ٹینکوں کو سالوں صاف نہیں کیا جاتا جس سے نیچے مٹی بیٹھ جاتی ہے اور اس میں جراثیم کو بڑھنے کا موقع ملتا ہے۔‘

نیگلیریا انفیکشن کی علامات میں شدید سر درد، منہ کے ذائقے میں تبدیلی، تیز بخار، متلی اور الٹی شامل ہیں، جبکہ ڈاکٹر احمد کے مطابق کچھ مریضوں نے گردن اکڑی ہونے، زیادہ نیند آنے، دورے اور جسمانی توازن میں بگاڑ کی بھی شکایت کی تھی۔

علامات انفیکشن کے 24 گھنٹوں کے دوران ظاہر ہوتی ہیں، تاہم کیونکہ یہ میننجائٹس (گردن توڑ بخار) سے ملتی جلتی علامات ہوتی ہیں اس لیے خون کے ٹیسٹ کے ذریعے جلد تشخیص بھی نہیں ہوتی، اور دیر ہو جانے پر علاج بھی کام نہیں کرتا۔  

جولائی میں 30 سالہ نیوروسرجن ماجد اسمعٰیل چانڈیو بھی اسی انفیکشن سے چل بسے تھے کیونکہ اس کی جلد تشخیص نہیں ہوئی۔

ڈاکٹر احمد نے کہا: ’جب کوئی ڈاکٹر اس کی جلد تشخیص نہیں کر سکا، تو لوگ کیسے کریں گے۔ صرف احتیاط ہی آپ کو بچا سکتی ہے۔ اپنے ٹینک صاف کریں اور ان میں کلورین ڈالیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان