’20 سال سے لڑنے والے طالبان پوچھتے ہیں کون سی انکلوسیو حکومت؟‘

طالبان کو نئی حکومت بنانے کے حوالے سے کیا چیلنجز درپیش ہیں؟ افغانستان کی تازہ صورتحال پر انڈپینڈنٹ اردو کی کابل میں موجود پاکستانی صحافیوں سے خصوصی گفتگو۔

کابل کے ایک علاقے میں طالبان جنگجو گشت کرتے ہوئے (اے ایف پی فائل)

افغانستان کے دارالحکومت کابل کو طالبان کے کنٹرول میں آئے 10 دن سے زیادہ ہو چکے ہیں۔

ایک طرف جہاں ہزاروں افغان شہری اور غیر ملکی افغانستان سے نکلنے کی کوشش میں ہیں، وہیں دنیا کی نظریں طالبان پر ٹکی ہوئی ہیں۔

طالبان کہہ چکے ہیں کہ وہ ملک میں تمام دھڑوں کو ملا کر حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں اور اس حوالے سے ان کے لیڈروں کی سابق صدر حامد کرزئی اور عبداللہ عبداللہ سمیت مختلف رہنماؤں سے ملاقاتیں جاری ہیں، لیکن ساتھ ہی ساتھ انہیں کچھ چیلنجز بھی درپیش ہیں۔

افغانستان میں موجود پاکستانی صحافی عادل شاہ زیب کہتے ہیں کہ طالبان کو عالمی برادری کے ساتھ ساتھ اندرونی دباؤ کا سامنا ہے۔

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا: ’آپ کسی 20 سال سے لڑنے والے طالب سے پوچھیں تو وہ کہیں گے کون سی انکلوسیو (مشترکہ) حکومت؟ ہم ان کو شامل کریں جن سے ہم لڑتے رہے ہیں؟ جو کرپٹ ہیں تو پھر ہماری 20 سال کی جنگ کا کیا فائدہ؟‘

ان کا کہنا تھا کہ طالبان کے لیے افغان عوام کے خوف کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ ایک بڑا چیلنج یہ بھی ہے کہ ان کے سیاسی رہنما زمین پر لڑنے والے جنگجوؤں کو حکومت بنانے کی نزاکتوں کو سمجھائیں۔

 

 

ان کا کہنا تھا کہ فی الحال سابق حکومت سے تنگ عوام طالبان کا خیرمقدم کر رہے ہیں لیکن اگر خراب امن و امان، بےروزگاری، مہنگائی اور خواتین کے حقوق جیسے مسائل برقرار رہے تو لوگ طالبان کو تسلیم نہیں کریں گے اور ایسی صورت میں انہیں بین الاقوامی برادری بھی تسلیم نہیں کرے گی۔

کیا طالبان بدل گئے ہیں؟ اس بارے میں بات کرتے ہوئے سینیئر صحافی طاہر خان نے کہا کہ یہ تو وقت ہی بتائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ طالبان اور سابق حکومت کے رہنماؤں میں ملاقاتیں تو ہو رہی ہیں لیکن ان کی اطلاعات کے مطابق ان ملاقاتوں میں حکومت سازی پر کوئی بات نہیں ہوئی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا کہ طالبان کے لیے بڑا چیلنج ہے کہ اب ان کی صفوں میں پہلے سے بھی زیادہ لوگ شامل ہوچکے ہیں جنھیں کنٹرول کرنا ضروری ہے۔

عادل شاہ زیب نے کہا کہ ابھی لوگ کھل کر طالبان کے بارے میں باتیں نہیں کر رہے کیونکہ انہیں 20 سال پرانے بندوق کی نوک پر چلانے والے طالبان یاد ہیں، حتیٰ کہ افغان سیاسی لیڈروں نے بھی انٹرویو دینا بند کر دیے ہیں، اس لیے ابھی نہیں کہا جا سکتا ہے وہ بدلے ہیں یا نہیں۔

پاکستان کے کردار کے بارے میں بات کرتے ہوئے طاہر خان نے کہا کہ پاکستان افغانستان کی صورت حال سے سب سے زیادہ متاثر ہوگا اور اب دنیا کی نظریں بھی اس پر ہیں، تاہم اتنا اہم ہمسایہ ہونے کے باوجود پاکستان کی افغانستان کے حوالے سے کوئی واضح پالیسی نہیں ہے اور نہ رہی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا