’جب بھوک سے مرنا ہے تو بھوک ہڑتال سے ہی مر جائیں‘

احتجاج کرنے والے تاجروں کے چار مطالبات ہیں اور ان کا کہنا کہ حکومت کی پابندیوں کے باعث صرف کراچی کے ہی تاجروں کو روزانہ ایک ارب روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔

کراچی انجمن تاجران کے سینئیر نائب صدر جاوید قریشی کا بھوک ہڑتال میں شامل نہ ہونے پر کہنا تھا کہ ’مجھے نہیں لگتا کہ حکومت پر بھوک ہڑتال کا کوئی اثر پڑے گا‘ (تصویر: رضوان عرفان)

صوبہ سندھ کے شہر کراچی کے ایم اے جناح روڈ پر تاجر ایکشن کمیٹی کی جانب سے کرونا وبا کی وجہ سے عائد بندشوں کے خلاف بھوک ہڑتال جاری ہے۔

اس احتجاج میں کراچی اور حیدرآباد کے تاجر شامل ہیں۔ احتجاج کرنے والے تاجروں کے چار مطالبات ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ حکومت کی پابندیوں کے باعث صرف کراچی کے تاجروں کو روزانہ ایک ارب روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔

کراچی تاجر ایکشن کمیٹی کے کنوینر رضوان عرفان نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’حکومت سندھ ہمیں بھوکا مار رہی ہے اس لیے ہم نے بھوک ہڑتال کا فیصلہ کیا۔ یہ بھوک ہڑتال تب تک جاری رہے گی جب تک حکومت ہمارے مطالبات نہیں مان لیتی، اب چاہے اس میں ایک ہفتہ کیوں نہ لگ جائے۔‘

حکومت سندھ نے گذشتہ ماہ کرونا وائرس کے باعث نئی پابندیوں کا اعلان کیا جن کا اطلاق یکم تا 15 ستمبر ہوگا۔ سندھ حکومت کے نوٹیفیکیشن کے مطابق کراچی اور حیدرآباد میں کاروبار رات آٹھ بجے تک کھلے گا اور جمعہ و اتوار کو مارکٹیں بند رہیں گی جب کہ سندھ کے دیگر ڈیویژنز اور اضلاع میں مارکیٹیں جمعے کے روز بند ہوں گی اور اوقات کار رات 10 بجے تک ہوں گے۔

نوٹیفیکیشن میں مزید کہا گیا تھا کہ ضروری اشیا کی دکانیں مثلا کریانے، دودھ دہی، گوشت اور پرچون کی دکانیں، پھل و سبزی کے ٹھیلے، تندور، بیکری، فیول سٹیشنز، ایل پی جی کی دکانیں، فارمیسی اور دیگر طبی امداد کے مراکز اور ای کامرس کی دکانیں کرونا ایس او پیز کے مطابق ہفتہ وار 24 گھنٹے کھلی رہ سکیں گی۔

 نیز، کراچی اور حیدرآباد میں شادی کی ان ڈور تقریبات پر مکمل پابندی رہے گی جب کہ آؤٹ ڈور میں رات دس بجے تک بیک وقت 300 مہمانوں کی اجازت ہے۔ سندھ کے دیگر ڈیویژنز اور اضلاع میں انڈور تقریبات میں رات دس بجے تک 200 اور آؤٹ ڈور میں 400 مہمانوں کی اجازت ہوگی۔

تاجر ایکشن کمیٹی کے کنوینر رضوان عرفان کے مطابق ’حکومت سے ہمارے مطالبات ہیں کہ کراچی اور حیدرآباد میں کاروبار کو رات 10 بجے تک کھلنے کی اجازت دی جائے۔ ہفتے میں صرف اتوار کو کاروبار بند رکھا جائے، جمعے کو نہیں۔ نیز، انڈور ڈائیننگ اور شادی ہالوں کو بھی بحال کیا جائے۔‘

انہوں نے کہا کہ: ’ہم نے بھوک ہڑتال کا فیصلہ اسی لیے کیا کیوں کہ حکومت ہمیں بھوکا مار رہی ہے ہمارے کاروبار بند کر کے اور ہمارا روزگار ختم کر کے۔ ہمیں جب بھوک سے ہی مرنا ہے، تو بھوک ہڑتال کرکے ہی مرجائیں۔ حکوت جب تک ہمارے جار مطالبات نہیں مانتی، ہماری بھوک ہڑتال جاری رہے گی۔‘

رضوان نے مزید بتایا کہ ’ہم ایک ہفتے تک بھی بھوک ہڑتال جاری رکھ سکتے ہیں۔ اگر حکومت نے ہمارے مطالبات نہیں مانے تو ہم سڑکوں پر احتجاج کریں گے اور کرونا سے بچاؤ کی ایس او پیز پر عمل کرتے ہوئے ہم اپنا کاروبار خود ہی بحال کرلیں گے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تاہم کراچی کے تاجران کی دیگر ایسوسیشنز تاحال اس احتجاج میں شامل نہیں ہیں۔ ان کے مطابق صرف بھوک ہڑتال سے سندھ حکومت پر کوئی دباؤ نہیں پڑے گا۔

کراچی انجمن تاجران کے سینئیر نائب صدر جاوید قریشی کا بھوک ہڑتال میں شامل نہ ہونے پر کہنا تھا کہ ’مجھے نہیں لگتا کہ حکومت پر بھوک ہڑتال کا کوئی اثر پڑے گا۔ ہماری دیگر تاجران سے مشاورت جاری ہے اور ایک سے دو روز میں ہم اپنے احتجاج کا اعلان کریں گے۔ ہمارے لیے ہر تاجر ہیرو ہے، ہمارا کسی سے کوئی اختلاف نہیں۔ کراچی تاجر ایکشن کمیٹی کی بھوک ہڑتال کا فیصلہ اپنی جگہ اچھا ہے لیکن ہم چاہتے ہیں کہ اس سے بھی بڑا احتجاج کریں اور اس میں کراچی کے تمام تاجر سٹیک ہولڈرز کو شامل کریں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ: ’سندھ حکومت کی ڈھٹائی ختم نہیں ہو رہی ہے۔ انہوں نے پورے ملک کو چھوڑ کر اپنا ہی طریقہ کار اپنایا ہوا ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ ملک کی معیشت میں کوئی بہتری آئے۔‘

کرونا وائرس کی روک تھام کے لیے حکومت سندھ کی جناب سے لگائی گئی پابندیوں کے باعث تاجروں کو ہونے والے مالی نقصان کے حوالے سے جاوید نے بتایا کہ ’کاروبار پر پابندیوں کے باعث روزانہ کراچی کے تاجروں کا ایک ارب روپے کا نقصان ہورہا ہے۔ اس سے پہلے لاک ڈاؤن کے دوران تاجروں کو روزانہ چار سے پانچ ارب روپے کا نقصان ہوتا تھا۔ کراچی کا صرف دیہاڑی دار طبقہ ہی 45 لاکھ کے قریب ہے اور ان میں سے ذیادہ تر بے روزگار ہوگئے ہیں۔‘

جاوید کے مطابق کراچی کا کاروباری ٹرینڈ دیر کے اوقات کا ہے اور اسی وقت کاروبار بند کردیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’کراچی میں دوپہر کے بعد ہی کاروبار کا صحیح طرح سے آغاز ہوتا ہے۔ یہاں کا ٹرینڈ بن چکا ہے کہ لوگ دن کی گرمی کے باعث شام میں باہر نکلتے ہیں کھانے پینے کے لیے، شاپنگ کرنے کے لیے اور شادیوں شرکت کے لیے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’حکومت کو چاہیے کہ وہ تاجروں کو ایس او پیز کے تحت مکمل آزادی دے دیں۔ اس طرح ہماری معیشت کا اب تک جو بھی نقصان ہوا ہے اس کا کچھ حد تک ازالہ ہوسکے گا۔‘

سندھ حکومت کا موقف جاننے کے لیے ہم نے ترجمان سندھ حکومت اور ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضی وہاب سے رابطہ کیا مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا۔

سندھ حکومت نے ابھی تک اس بھوک ہڑتال کے حوالے سے کوئی سرکاری موقف جاری نہیں کیا ہے۔

خیال رہے گزشتہ مالی سال کے اقتصادی سروے کے اجرا کے موقعے پر وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا تھا کہ کرونا وائرس کے آغاز کے وقت برسر روزگار افراد کی تعداد تقریبا پانچ کروڑ 60 لاکھ تھی جب کہ یہ تعداد کم ہو کر تین کروڑ 50 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔ یعنی موجودہ حالات میں تقریبا دو کروڑ افراد بے روزگار ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت