پاکستان میں کِیا کی چھوٹی ایس یو وی: متوقع قیمت اور دستیابی؟

کیا لکی موٹرز ویب سائٹ کے مطابق اس گاڑی میں آٹھ ائیر بیگز موجود ہیں جب کہ گاڑی میں سٹیل کی ایسی چادر استعمال کی گئی ہے جو پہلے موجود ماڈلز کی نسبت اسے چوبیس فیصد مزید محفوظ اور مضبوط بناتی ہے۔

پش سٹارٹ، کروز کنٹرول، ہل اسسٹ، بلائنڈ سپاٹ وارننگ، سٹئیرنگ وہیل آٹو کنٹرولز، کلائمیٹ کنٹرول سمیت تمام ایسی خصوصیات موجود ہیں جو کسی بھی سیڈان یا ایس یو وی میں توقع کی جا سکتی ہیں (تصویر: کیا لکی موٹرز پاکستان ویب سائٹ)

کیا لکی موٹرز پاکستان نے تین ماہ پہلے چار گاڑیاں امپورٹ کی تھیں جو بیرونی مارکیٹ میں سٹونک (Stonic)کے نام سے جانی جاتی ہیں۔

سی یو وی سٹونک ہے کیا؟

یہ گاڑی CUV کے طور پر لانچ کی گئی تھی جس سے مراد کراس اوور یوٹیلیٹی وہیکل ہوتا ہے۔ آسان طور پہ سمجھ لیں کہ ایسی گاڑی جو سپورٹس یوٹیلیٹی وہیکل (ایس یو وی ۔ مثلاً سپورٹیج یا ہونڈا ویزل)اور سیڈان کار (مثلاً کرولا یا ہونڈا سٹی)  کے درمیان کی ایک چیز ہوتی ہے۔ سی یو وی میں آپ تھوڑی اونچی گاڑی کی ڈرائیو کا مزہ لے سکتے ہیں جب کہ پیٹرول عام گاڑی جیسا خرچ ہو رہا ہوتا ہے۔ مزید سہولت کے لیے اسے چھوٹی ایس یو وی کہا جا سکتا ہے جیسے پجیرو کے بعد ایک بہت ہی چھوٹی منی پجیرو بھی مارکیٹ میں آئی تھی۔

انجن کی طاقت کیا ہو گی؟

اس گاڑی کے چار ویرئنٹس (ماڈل یا قسمیں) بین الاقوامی مارکیٹ میں موجود ہیں جن کے انجن سائز بالترتیب ہزار سی سی، تیرہ سو سی سی، چودہ سو سی سی اور سولہ سو سی سی ہیں۔ سولہ سو سی سی والی سٹونک گاڑی ڈیزل انجن کے ساتھ ہے جب کہ ہزار سی سی ٹربو انجن کے ساتھ آتی ہے اور یہی ویرئنٹ پاکستان میں امپورٹ کیے جانے کی اطلاعات موجود ہیں۔

ٹربو بہ مقابل نارمل انجن

پاکستانی مارکیٹ میں ٹربو انجن کی نسبت نیچرلی ایسپریٹڈ انجن کو ترجیح دی جاتی ہے اور اسے دیرپا بھی سمجھا جاتا ہے۔ نیچرلی ایسپریٹڈ وہ نارمل انجن ہوتا ہے جو آپ کی کسی بھی گاڑی میں موجود ہے جب کہ ٹربو میں چند اضافی آلات کے ذریعے انجن سے زیادہ ہارس پاور کشید کی جاتی ہے۔ ان اضافی آلات سے ٹربو انجن پہ کارکردگی کے لیے زور پڑتا ہے جس سے مقامی ماہرین کے مطابق اس کی لائف کم ہو جاتی ہے نیز مرمت بھی نسبتاً مہنگی پڑتی ہے۔

گئیر سسٹم

اس گاڑی کے دو ویرئنٹ سکس سپیڈ مینوئل ٹرانسمیشن کے ساتھ ہیں جب کہ باقی دو ویرینٹ سیون سپیڈ ڈی سی ٹی کے ساتھ آتے ہیں۔

ٹائر سائز

پندرہ سے سترہ انچ الائے وہیلز کی آپشن سٹونک کے مختلف ماڈلز میں موجود ہے جب کہ سٹپنی سٹیل کے رَم والی ہے اور سائز میں نسبتاً مختصر ہے جو کہ ڈکی میں جگہ بنانے کے لیے عموماً کار ساز ادارے پہلے بھی آفر کرتے رہے ہیں۔

انٹیرئیر اور خصوصیات

بیسک ویرینٹ میں فیبرک سیٹس (کپڑے کی پوشش) ہے جب کہ باقی تینوں میں لیدر سیٹس استعمال کی گئی ہیں۔ ڈیش بورڈ کا ڈیزائن سادہ مگر فیوچرسٹک ہے۔ پش سٹارٹ، کروز کنٹرول، ہل اسسٹ، بلائنڈ سپاٹ وارننگ، سٹئیرنگ وہیل آٹو کنٹرولز، کلائمیٹ کنٹرول سمیت تمام ایسی خصوصیات موجود ہیں جو کسی بھی سیڈان یا ایس یو وی میں توقع کی جا سکتی ہیں۔

سیفٹی

کیا لکی موٹرز ویب سائٹ کے مطابق اس گاڑی میں آٹھ ائیر بیگز موجود ہیں جب کہ گاڑی میں سٹیل کی ایسی چادر استعمال کی گئی ہے جو پہلے موجود ماڈلز کی نسبت اسے چوبیس فیصد مزید محفوظ اور مضبوط بناتی ہے۔

فیول ایوریج

کیا سٹونک کی فیول ایوریج تیرہ سے پندرہ کلومیٹر فی لٹر تک ہے۔

قیمت کیا ہو گی؟

بیرون ملک اس گاڑی کے پہلے دو ویرینٹ چالیس  سے پینتالیس لاکھ پاکستانی روپے میں دستیاب ہیں۔ باقی دو ویرینٹ جو سپورٹس یا جی ٹی ماڈل کہلاتے ہیں پینتالیس سے پچاس لاکھ پاکستانی روپے اس وقت ان کی قیمت ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پاکستانی کار مارکیٹ ماہرین کے مطابق  بی سیگمنٹ کی یہ گاڑی اگر ایک ہزار سی سی ٹربو انجن کے ساتھ پاکستان میں لانچ ہوتی ہے تو اس کی قیمت تیس سے پینتیس لاکھ روپے کے درمیان ہونی چاہیے تاکہ اس بریکٹ میں موجود دوسری تمام گاڑیوں کے لیے مقابلے کی ایک صورتحال پیدا کی جا سکے کیونکہ اس قیمت میں پہلے ہی ہونڈا کی  بی آر وی نامی ایس یو وی موجود ہے (بتیس سے چونتیس لاکھ روپے) اور وہ پندرہ سو سی سی انجن سمیت سیون سیٹر گاڑی ہے۔

کیا کمپنی سے قمیت کا پوچھنے پہ لکی موٹرز کے نمائندے عاصم کا کہنا تھا کہ ’سٹی وغیرہ سے تو اس گاڑی کا مقابلہ بنتا ہی نہیں ہے، ہونڈا بی آر وی سے شاید تھوڑا بہت ہو لیکن ہماری کوشش ہو گی کہ اس کی پرائس مقابلتاً کم رکھی جائے تاکہ دوسری گاڑیوں کی نسبت لوگ اس کی طرف توجہ کر سکیں۔ حتمی قیمت اس وقت نہیں بتائی جا سکتی، وہ گاڑی کے لانچ ہونے پر ڈالر کے حساب سے ہی طے کی جائے گی۔‘

لانچ کب کی جائے گی

کیا لکی موٹرز پاکستان کے نمائندے عاصم کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ اس گاڑی کو جلد از جلد پاکستانی مارکیٹ میں متعارف کروایا جائے گا لیکن فی الحال ان کے مطابق کمپنی کی توجہ پاکستان میں موجود ان تمام ماڈلز کی طرف ہے جو ’کیا‘ لانچ کر چکی ہے۔

کار ماہرین نے اس حوالے سے پہلے قیاس آرائی کی تھی کہ رواں سال کے وسط میں سٹونک لانچ کر دی جائے گی لیکن ڈالر کی موجودہ صورتحال، کرونا ڈیلٹا ویرینٹ اور الیکٹرونک چپ شارٹیج  کی وجہ سے پاکستانی کار مارکیٹ کے بارے میں تمام اندازے غلط ثابت ہو چکے ہیں۔ صورت حال اب یہ ہے کہ چھ ماہ پہلے بُک کی گئی گاڑیاں بھی نئے ڈالر ریٹ کے حساب سے ڈیلیور ہو رہی ہیں۔

کمپنی کی آفیشل ویب سائٹ پر یہ گاڑی موجود ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ چار چھ ماہ کے دوران اس کی لانچ متوقع ہے لیکن تاحال قیمت نہیں بتائی گئی۔

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی