سندھی سٹیج ڈراموں کے آرٹسٹ اب رنگ سازی پر مجبور

سندھی ڈراموں کے ’کیپٹل‘ سمجھے جانے والے شہر لاڑکانہ میں فن کاروں کا کہنا ہے سندھی سٹیج ڈراموں میں زوال آ چکا ہے جس سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔

سندھی زبان میں ڈرامے کو ’ناٹک‘ کہا جاتا ہے جو کہ ہندی زبان کے لفظ ’نرتک ودیا‘ سے اخذ کیا ہوا ہے جس کے معنی ’اظہار کرنا‘ ہے۔

برصغیر کے ہندو اپنے خاص مذہبی اور خوشی کے تہواروں خاص کر دیوالی کے موقع پر ’راس لیلا‘ سجاتے تھے جس میں خواتین بھی مردانہ لباس زیب تن کر کے مختلف روپ دھارا کرتی تھیں جہاں سے برصغیر میں ڈرامے نے جنم لیا۔

تاریخ بتاتی ہے کہ ڈراما کی شروعات درحقیقت یونان سے ہوئی تاہم سندھی تاریخ دانوں کا ماننا ہے کہ لاڑکانہ کے قریب واقع ہزاروں سال قدیم موئن جو دڑو کی کھدائی کے وقت دریافت ہونے والا ’ڈانسنگ گرل‘ کا مجسمہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ دھرتی فنون لطیفہ سے ہزاروں سال قبل بھی مالا مال تھی۔

سندھ کے معروف ادیب، عالم اور مصنف مرزا قلیچ بیگ جو کہ چالیس سے زائد مختلف مضامین میں چار سو سے زائد کتابوں کے مصنف ہیں، نے 1880 کی دہائی  میں سندھی زبان میں معروف ’لیلی مجنوں‘ ڈراما تحریر کیا جس کے بعد سندھی زبان کے مصنفوں کو ایک نیا رخ و انداز ملا۔

 

لاڑکانہ شہر کا سندھی سٹیج ڈرامے میں نام تاریخ میں سنہرے حروف میں لکھا جاچکا ہے۔ اس شہر کا پرانا نام ’چانڈکا‘ تھا اور 1907 میں اس وقت کے ترقی پسند شاعر کشن چند ’بیوس‘ نے پرفارمنگ آرٹس کے فروغ کے لیے لاڑکانہ سٹیج ڈراما کی پہلی ’چانڈکا امیچوئر ڈراماٹک سوسائیٹی‘ تشکیل دی جس نے 1880 سے 1947 تک 67 سالہ سندھی سٹیج ڈراما پرفارمنس کو جدت اور تقویت بخشی۔

لاڑکانہ میں سندھی سٹیج ڈراما کی ترقی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ 1926 میں پرفامنگ آرٹس کے حوالے سے ’الھلال ڈراماٹک سوسائیٹی‘ وجود میں آئی جس کے صدر غلام عباس ’جوش‘ قادری تھے۔ اس سوسائٹی نے بھی لاڑکانہ اور گرد و نواح کے علاقوں میں سٹیج ڈرامے منعقد کروائے۔

پاکستان کی آزادی کے بعد لاڑکانہ میں پہلی ڈراماٹک سوسائٹی 1970 میں ’الشہباز ڈراماٹک سوسائٹی‘ کے نام سے وجود میں آئی اور 1992 تک اسی شہر میں 43 ایسی تنظیمیں وجود میں آئیں جنہوں نے لاڑکانہ کو سندھی سٹیج ڈراما کا گڑھ بنا دیا۔

لاڑکانہ شہر کے معروف آرٹسٹ امجد کا کہنا ہے کہ انہوں نے 1995 میں سندھی سٹیج ڈراموں میں کام کا آغاز کیا جبکہ ان کے والد بھی ساری زندگی سٹیج ڈراموں سے ہی منسلق رہے اور اس وقت لاڑکانہ شہر کو ’اسٹیج ڈراموں کا کیپٹل‘ مانا جاتا تھا جس کے چرچے لاہور تک تھے۔

وہ بتاتے ہیں کہ شہر کے بڑے اور معروف سینیما گھروں میں سٹیج ڈرامے  پرفارم کیے جاتے اور لوگ ٹکٹ خرید کر دیکھا کرتے تھے جبکہ مختلف ناٹک منڈلیاں ہوتی تھیں جن میں فنکار آپس میں چندہ جمع کر کے پہلے سولو ڈراما بناتے، ریہرسل کرتے اور پھر لائیو پرفارم کیا کرتے تھے۔ شہریوں کی بڑی تعداد ان فنکاروں کے فن کو سراہتی تھی اور ہر بار ایک نیا ڈراما پیش کیا جاتا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس دوران سندھ کے کئی بڑے آرٹسٹس نے سٹیج سے اپنے کیرئیر کا آغاز بھی کیا۔

لاڑکانہ کے آرٹسٹس میں سے ایک نام اعجاز چانڈیو کا بھی ہے جن کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی کے 27 سے 28 سال سندھی سٹیج ڈراما انڈسٹری کو دیے جس دوران انہوں نے ایک سو سے زائد ڈرامے جبکہ سندھی نجی ٹیلیوژن پر نشر ہونے والے  سیریلز سمیت 40 سے 50 ڈراموں میں سندھ کے بیشتر  معروف فنکاروں کے ساتھ اپنے فن کے جوہر دیکھائے۔

’ڈراما ادب کا حصہ ہے، جسے یاد رکھنا بہت ضروری ہے۔‘ یہ کہنا تھا سینکڑوں سندھی ڈراما سیریلز کے معروف مصنف، ہدایت کار، شاعر اور مصور لاڑکانہ کے رہائشی ایوب گاد کا جنہوں نے سندھی زبان میں فنون لطیفہ کے فروغ کے لیے اپنی زندگی سرف کر دی ہے۔

ایوب گاد کی شاعری کا مجموعہ بھی شائع ہوا جبکہ ان کے لکھے گیت سندھ کے بیشتر معروف گلوکاروں نے گائے جبکہ سن 1985 میں پاکستان کی پہلی سندھی ویڈیو فلم ’مہربان‘ بنانے کا اعزاز بھی ایوب گاد کو ہی حاصل ہے جو کہ شالیمار ریکارڈنگ کمپنی کی جانب سے ریلیز بھی گئی۔

لیکن حیران کن طور پر بدقسمتی سے سندھی سٹیج  ڈراما پر ایک ایسا وقت بھی آیا کہ لاڑکانہ میں سٹیج ڈراما کا انعقاد بالکل ختم ہوگیا جس کے باعث متعدد آرٹسٹس فاقہ کشی اور معاشی بدحالی کا شکار بھی ہوئے۔ ان میں سے ایک اعجاز چانڈیو بھی ہیں جنہوں نے اپنی آدھی زندگی سٹیج اور سندھی ٹیلیویژن کو دی لیکن آج دل شکستہ ہو کر بطور رنگ ساز مستری دہاڑی پر مزدوری کرتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

فنکار اعجاز چانڈیو، امجد گل اور سینئیر ہدایت کار، مصنفو شاعر ایوب گاد سندھی ڈراما اور سٹیج ڈراما انڈسٹری کے زوال پر اپنی الگ الگ رائے رکھتے ہیں۔

اعجاز چانڈیو کا ماننا ہے کہ سندھی سٹیج ڈراما کا زوال نجی سندھی ٹیلیویژن چینلز کے آغاز کے بعد شروع ہوا۔ ان کے مطابق سٹیج ڈرامہ کو کمرشلائیز کرنے کے لیے حکومتی سطح پر بھی کوئی اقدامات نہیں کیے گئے جس کی وجہ سے ایک اچھا سٹیج ڈراما بنانے کی لاگت تک پوری نہ ہوئی۔ یوں پروڈیوسرز اور پروڈکشن ہاؤسز اس سے کنارہ کشی اختیار کرتے گئے یا پھر مبینہ طور پر کام کے معیار پر سمجھوتہ کرنے لگے یا شوبز میں نئے آنے والے شوقیہ نوجوانوں کو کام کے پیسے دینے کی بجائے الٹا پیسے لے کر کاسٹ کرنے لگے اور حقیقی سینئیر آرٹسٹس کو پیچھے دھکیلا جانے لگا۔ ان کے بقول یہ ہی وجہ ہے کہ سندھی ڈراما انڈسٹری اپنا معیار تیزی سے کھو رہی ہے۔

آرٹس کاؤنسل کو لاڑکانہ میں بنے 12 سال گزر چکے ہیں۔ ادارہ تو ڈیزائن ہو گیا لیکن فنکار وہیں کا وہیں ہے۔ اگر آرٹس کاؤنسل کی جانب سے  کوئی ڈراما منعقد کروایا بھی جاتا ہے تو فنکار کو دو سے تین ہزار روپے بطور معاوضہ دیا جاتا ہے جس کے لیے ایک ماہ تک ڈراما ریہرسل الگ کرنا پڑتی ہے۔

اعجاز چانڈیو کا کہنا تھا کہ بچوں کے پیٹ کی بھوک اور اپنی زندگی کی مفلسی کے پیش نظر وہ اب مزدوری کو ترجیح دیتے ہیں لیکن اپنے فن سے ان کا عشق مرتے دم تک رہے گا۔

دوسری جانت امجد گل کا بھی یہی ماننا ہے کہ حکومت سندھ کو سٹیج ڈراموں کے ٹکٹ کی قیمت سیٹ کرنے اور سٹیج ڈراما کو کمرشلائیز کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئیے کیونکہ کمرشل ڈراموں سے ہی بہتر اور معیاری پروڈکشن دوبارہ سامنے آئے گی اور سندھی سٹیج ڈراما اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کر پائے گا۔

سینئیر ہدایت کار اور مصنف ایوب گاد کا کہنا تھا کہ سٹیج ڈراما ہو یا ٹی وی سیریل کہانی سب سے بنیادی اہمیت رکھتی ہے اور یہ بھی کبھی نہیں بھولنا چاہیے کہ ڈرامہ ادب کا حصہ ہے۔ ’نجی سندھی ٹی وی چینل مالکان اس بات کو نہیں سمجھ پا رہے اور جو ڈراموں کے نام پر دیکھایا جاتا ہے یہ ہمارا سندھی کلچر نہیں ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ نجی سندھی ٹی وی چینلز اس صورت حال کی سب سے بڑی وجہ ہے کیونکہ ان کی کاسٹنگ، سیٹ اور ڈاریکٹر تک بھی اب پروفیشنل آرٹسٹس کو کاسٹ نہیں کر رہے کیونکہ پروفیشنل آرٹسٹ پیسے لیتا ہے۔

ایوب گاد کا کہنا تھا کہ اچھی کہانیاں ہوں گی، اچھے آرٹسٹ، معیاری پروڈکشن اور ہدایت کاری ہوگی تو لوگ ضرور سندھی ڈراما دیکھیں گے اور اس کا کھویا ہوا مقام واپس آ جائے گا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان