لکڑی کے سہارے کھڑی سرکاری سکول کی چھت اور طلبہ کا خوف

بلوچستان کے ضلع قلعہ سیف اللہ کے علاقے کنجوغئی میں قائم گورنمنٹ پرائمری سکول کلی ولیِ کس کی دو کمروں پر مشتمل عمارت اس حد تک خستہ حال ہے کہ کمرے کی چھتوں کو لکڑی کا سہارا دے کر منہدم ہونے کے ممکنہ خطرے سے روکنے کی کوشش کی گئی ہے۔

طلبہ کو مسلسل اس بات کا خوف لاحق رہتا ہے کہ کہیں وہ ایک روز چھت کے نیچے دب نہ جائیں (فوٹو: مطیع اللہ مطیع)

کسی بڑی تباہ کاری سے متاثرہ عمارت کی مانند، اس سکول کے خستہ حال کمرے کی چھت کو لکڑی کی مدد سے سہارا اس لیے دیا گیا ہے کہ کہیں یہ بچوں پر ہی نہ آن گرے۔

پاکستان کا مستقبل یہ 40 طلبہ ایک مستقل خطرے کے سائے تلے اس کمرے میں علم حاصل کرتے ہیں اور انہیں اس بات کا خوف لاحق رہتا ہے کہ کہیں وہ ایک روز چھت کے نیچے دب نہ جائیں۔

 پاکستان کے جنوب مغربی صوبے بلوچستان کے ضلع قلعہ سیف اللہ کے علاقے کنجوغئی میں قائم گورنمنٹ پرائمری سکول کلی ولیِ کس کی دو کمروں پر مشتمل عمارت اس حد تک خستہ حال ہے کہ کمرے کی چھتوں کو لکڑی کا سہارا دے کر چھت کے منہدم ہونے کے ممکنہ خطرے سے روکنے کی کوشش کی گئی ہے۔

محمد کامران کلی ولی کس کے رہائشی ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ پرائمری سکول کے دونوں کمرے انتہائی خستہ حال ہیں اور چھت کسی بھی وقت بچوں پر گر سکتی ہے۔ سکول میں پینے کا پانی اور دیگر بنیادی سہولیات بھی موجود نہیں۔

بلوچستان کے دوردراز علاقوں کے اکثر سکول بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ بہت کم ایسے سکول ہیں جہاں طلبہ کو ایک آدھ بنیادی سہولیات میسر ہوں۔

وہ کہتے ہیں: ’یہاں کی سیاسی جماعتوں اور سماجی تنظیموں کی جانب سے سال کے شروع میں داخلوں کے لیے مہم تو چلائی جاتی ہے اور کتابوں اور دیگر سہولیات کے لیے بھی اعلیٰ حکام سے رابطے کیے جاتے ہیں، تاہم جس طرح تعلیم کے شعبے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، وہ نہیں دی جارہی۔‘

2017 میں ہونے والی مردم شماری کے مطابق بلوچستان کے ضلع قلعہ سیف اللہ کی آبادی تین لاکھ 42 ہزار 814ہے۔ ضلعے میں کل سکولوں کی تعداد 660 ہے جہاں 30 ہزار 20 طلبہ وطالبات زیر تعلیم ہیں۔

محکمہ ثانوی تعلیم کی رئیل ٹائم سکول مانیٹرنگ رپورٹ برائے سال 2018-19 کے مطابق کلی ولیِ کس کے اس پرائمری سکول میں 40 طلبہ میں سے 30 غیر حاضر جبکہ 10 حاضر ہیں۔ سکول میں تین اساتذہ بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کررہے ہیں تاہم تین میں سے ایک استاد حاضر جبکہ دو غیر حاضر ہیں۔

رپورٹ کے مطابق بلوچستان بھر میں کل 14 ہزار 979 سرکاری سکول ہیں، جن میں 10 ہزار 55 لڑکوں، چار ہزار 238 لڑکیوں جبکہ 686 سکول لڑکوں اور لڑکیوں کے مشترکہ ہیں۔

 محکمہ تعلیم کے اعداد وشمار کے مطابق بلوچستان میں 11 ہزار 786 سکول فعال جبکہ تین ہزار 193 سکول غیر فعال ہیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ 13 ہزار 21 سکولز عمارت جبکہ 1958 سکول بغیر عمارت کے ہیں

نو ہزار سکول ایسے بھی ہیں جہاں واش رومز کی سہولیات میسر نہیں جبکہ 12 ہزار 680 سکولوں میں پانی کی سہولت موجود نہیں۔

صوبے میں آٹھ ہزار 14 سکولوں کی چاردیواری نہیں ہے، جبکہ 11 ہزار 865 سکول بجلی کی سہولت سے محروم ہیں۔

مذکورہ سکول کے ہیڈ ٹیچر نے بتایا: ’ہمیں چھت کو ٹکانے دینے کے لیے لکڑی کا سہارا لینا پڑا۔ سکول کی عمارت کی مرمت کی اشد ضرورت ہے اور طلبہ کے لیے یونیفارم اور بنیادی سہولیات وغیرہ کی کمی ہے، لہذا حکومت ان بنیادی سہولیات کی فراہم میں مدد کرے۔‘

بلوچستان پاکستان کا جغرافیہ کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ ہے جو ملک کے کل رقبے کا 44 فیصد بنتا ہے۔ یہاں معدنیات وافر مقدار میں پائی جاتی ہیں، لیکن یہاں کے باشندے بنیادی سولیات سے محروم ہیں۔ یہ صوبہ ایک عرصے سے شورش زدہ رہا ہے۔

سکولوں کے غیر فعال ہونے سے اکثر بچے پڑھ نہیں پاتے۔ صوبے کے دور دراز علاقوں میں اکثریت افراد پست معیار زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جن کے لیے بچوں کو پڑھانا مشکل ہوتا ہے اور جب سکول غیر فعال ہوں تو یہ مشکل اور بھی بڑھ جاتی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

قبائلی معاشرے میں خواتین کا پڑھنا لکھنا کافی مشکل ہوتا ہے لیکن جب سکولوں میں چار دیواری اور واش رومز جیسی بنیادی سہولیات میسر نہ ہو تو بالخصوص یہ لڑکیوں کی تعلیم میں اہم رکاوٹ بنتا ہے۔ 

رکن صوبائی اسمبلی شاہینہ کاکڑ نے رواں سال گورنمنٹ پرائمری سکول کلی وولی کس کا دورہ کیا جس کے بعد متعلقہ حکام کو سکول کی تعمیر ومرمت کے لیے درخواست دی گئی تھی، تاہم درخواست پر اب تک عملدرآمد نہیں ہوسکا۔

شاہینہ کاکڑ نے تعلیم کی بہتری پر زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ صوبے بھر میں غیر فعال سکولوں کو فی الفور فعال بنایا جائے اور طلبہ کو تمام تر سہولیات فراہم کی جائیں۔

حکومت بلوچستان کی جانب سے مالی سال 22-2021 میں مجموعی طور پر شعبہ پرائمری وثانوی تعلیم کی مد میں 8.463 ارب روپے ترقیاتی اور غیر ترقیاتی مد میں 53.256 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

اسی طرح کالجوں اور ہائر ایجوکیشن کے شعبے میں غیر ترقیاتی مد میں 11.736 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ ترقیاتی کاموں کی مد میں 9.469 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

سپیشل سیکرٹری برائے سیکنڈری ایجوکیشن محمد حیات کاکڑ کہتے ہیں کہ صوبے میں اگر ایجوکیشن سیکٹر پلان پر اس کی روح کے مطابق عمل درآمد کیا جائے تو تعلیم سے متعلق 90 فیصد مسائل حل کیے جاسکتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ایک بار یہ منصوبہ بھی زیر بحث لایا گیا کہ اگر نئی پی ایس ڈی پی بنانے کی بجائے مختص رقم شیلٹر سے محروم سکولوں کے لیے رکھی جائے تو اس کے انتہائی مثبت نتائج برآمد ہوں گے، تاہم اس منصوبے پر عملدرآمد نہ ہوسکا جبکہ بین الاقوامی ڈونرز کی مدد سے بلوچستان کے سکولوں میں بنیادی ضروریات اور سہولیات کی فراہمی کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی کیمپس