پیٹرول کی قیمت میں پھر اضافہ: ’جمعہ مبارک وِد سرپرائز‘

نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں آٹھ روپے تین پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 145 روپے 82 پیسے فی لیٹر ہوگئی ہے۔

16  جولائی 2021 کی اس تصویر میں پاکستان کے شہر کراچی میں ایک موٹر سائیکل سوار پیٹرول ڈلوا رہا ہے۔  (فائل تصویر: اے ایف پی)

پاکستان کی وزارت خزانہ نے جمعرات (چار نومبر) کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں دوبارہ اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے، جس کے بعد ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر تاریخی بلندی دیکھی گئی ہے۔

وزارت خزانہ نے یہ نوٹیفکیشن چار نومبر کو جاری کیا تھا، تاہم یہ جمعے کو رات گئے منظر عام پر آیا۔

نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں آٹھ روپے تین پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 145 روپے 82 پیسے فی لیٹر ہوگئی ہے۔

 نوٹیفکیشن کے مطابق ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں آٹھ روپے 14 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا ہے اور مٹی کے تیل کی قیمت چھ روپے27 پیسے اضافے کے بعد 116 روپے 53 پیسے ہوگئی ہے۔

یہ اضافہ وزیراعظم پاکستان عمران خان کے عوام کے لیے ’تاریخی ریلیف پیکج‘ کے اعلان کے ایک روز بعد کیا گیا ہے، تاہم اس کا اشارہ وزیر اعظم نے ریلیف پیکج کی تعارفی تقریب کے دوران دے دیا تھا۔

پاکستانی حکومت ایک ماہ میں دو بار پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردو بدل کرتی ہے اور نئی قیمتوں کا اطلاق ہر ماہ کی یکم اور 16 تاریخ کو ہوتا ہے۔

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹیفکیشن رات ڈیڑھ بجے فنانس ڈویژن کی جانب سے جاری کیا گیا لیکن اس پر چار نومبر کی تاریخ موجود ہے۔

حکومت نے وزیر اعظم کے کہنے پر معمول کے مطابق 15 روز بعد یکم نومبر کو پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کرنے سے انکار کردیا تھا لیکن اب چند ہی دن بعد اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔

آخری اطلاعات آنے تک حکام نے اس اچانک اضافے پر کسی قسم کا کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا ہے تاہم اس سے قبل حکومت دو ماہ کے دوران چار مرتبہ پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کو عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا اثر قرار دے چکی ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ اس کی بڑی وجہ تیل پیدا کرنے والے ممالک کی جانب سے تیل کی کم پیداوار ہے، جسے طلب کے مقابلے میں کم پیدا کیا جا رہا ہے۔

سوشل میڈیا ٹرینڈ

عالمی منڈی اور پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اچانک اور ’راتوں رات‘ اضافے پر پاکستان میں سوشل میڈیا صارفین بھی اپنے غصے کا اظہار کر رہے ہیں۔

علی سلمان نامی صارف نے ٹوئٹر پر کہا کہ ’جب عمران خان نے اعلان کر دیا تھا تو یہ تو ہونا تھا لیکن کیا ان میں جرات نہیں تھی کہ یہی اعلان دن کی روشنی میں کرتے۔‘

ساجد علی کھپری نے حکومت کا نوٹیفکیشن شیئر کرکے صبح کا سلام پیش کیا اور لکھا: ’گڈ مارننگ۔‘

دیگر صارفین بھی نوٹیفکیشن شیئر کرکے ’گڈ مارننگ‘ کے ذریعے طنز کرتے نظر آئے۔

اسی طرح کچھ صارفین نے اسے ’جمعے کا تحفہ‘ بھی قرار دیا۔

فاطمہ خالد نامی صارف نے لکھا کہ ’یہ کسی بھی معیار سے زیادہ اضافہ کیا گیا ہے، خصوصاً اس وقت جب وہ جماعت اقتدار میں ہو جس کا دعویٰ ہو کہ اس نے بڑی تعداد میں خیبرپختونخوا میں غریب کو غربت سے نکالا ہے، صوبے پر حکمرانی کی ہے اور پھر پورے ملک سے نشتیں جیت کر حکومت بنائی ہے۔‘

 حامد نامی صارف نے طنز کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’اب پیٹرول ساشے پیک میں بھی دستیاب ہوگا۔‘

محمد واجد نے کہا: ’اب بہت ہو گیا ہے، یہ حکومت کی بدانتظامی کی انتہا ہے۔ سوتے وقت نرخ کچھ اور جاگو تو کچھ، کیا مصیبت ہے؟‘

شاہ زیب اسلم نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی خبر کا سکرین شاٹ شیئر کرکے لکھا ہے ’وہ چیز جو بریک اپ سے بھی زیادہ دکھ پہنچاتی ہے۔‘

واضح رہے کہ پاکستانی حکومت آج سے 10 دن بعد یعنی 15 نومبر کو دوبارہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردو بدل پر غور کرے گی۔ عالمی سطح پر تیل کی پیداور اور عالمی منڈی میں قیمت بڑھنے کی صورت میں ایک بار پھر اضافہ کیا جاسکتا ہے۔

تیل پیدا کرنے والے ممالک کا موقف

ادھر تیل برآمد کرنے والے ملکوں کی تنظیم اوپیک اور روس کی قیادت میں غیراوپیک ممالک پر مشتمل گروپ (اوپیک پلس) نے تیل کی یومیہ پیداوار میں زیادہ اضافے کے مطالبات کو نظرانداز کرتے ہوئے کہا ہے کہ قدرتی گیس اور کوئلے کی بڑھتی ہوئی قیمتیں دراصل صارفین کی معاشی پریشانیوں سبب ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سعودی عرب کے وزیرتوانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے جمعرات کو گروپ کے وزارتی اجلاس کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ ’اس کارٹل نے امریکی صدر جو بائیڈن کی تیل کی سپلائی میں اضافے کی درخواست کو سختی سے مسترد کردیا ہے کیونکہ اس وقت تیل کی رسد میں اضافہ مسئلہ نہیں بلکہ توانائی کا پیچیدہ مسئلہ درپیش ہے اور وہ اس وقت مشکل دور سے گزر رہا ہے۔‘

جمعرات کو ایک مختصر اجلاس کے بعد پیٹرولیم برآمد کنندگان ممالک کی تنظیم اور روس کی قیادت میں اس کے اتحادی ممالک نے دسمبر کے لیے تیل کی یومیہ پیداوار میں مزید چار لاکھ بیرل اضافے کی منظوری دی ہے۔

اس اضافے کے بارے میں بڑے صارفین کا کہنا ہے کہ کوڈ 19 کی وبا کے بعد کی اقتصادی بحالی کو برقرار رکھنے میں یہ بہت کم مقدار ہے، امریکہ نے افراط زر کو کم کرنے میں مدد دینے کے لیے اس پیداوار میں سے دگنا حصہ طلب کیا ہے۔

شہزادہ عبدالعزیز نے کہا کہ اگر لوگ توانائی کے بحران کی اصل وجہ پر توجہ دینے کے بارے میں سنجیدہ ہیں اور اس کو حل کرنا چاہتے ہیں تو انہیں یورپ اور ایشیا کو قدرتی گیس مہیا کرنے اوراس سے متعلقہ بنیادی ڈھانچے پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔

امریکا کوڈ 19 کے بعد اقتصادی بحالی کو برقرار رکھنے کے لیے تیل کی تیز رفتار پیداوار کا مطالبہ کر رہا ہے۔ صدر جو بائیڈن نے گذشتہ ہفتے کے روز توانائی پیدا کرنے والے ممالک پر مشتمل گروپ جی 20 پر زور دیا تھا کہ وہ تیل کی پیداوار میں اضافہ کریں۔

شہزادہ عبدالعزیز نے کہا تھا: ’دسمبر تک ہم تیل ذخیرہ کرنا شروع کردیں گے۔ نئے سال کی پہلی سہ ماہی میں فاضل پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوچکا ہوگا کیونکہ ہم اپنی پیداوار کو بتدریج بڑھائیں گے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ٹرینڈنگ