ترک لیرا کی قدر میں ریکارڈ کمی کیوں ہوئی؟

ترک لیرا کی قیمت میں منگل کو اس وقت ریکارڈ کمی دیکھنے میں آئی جب صدر اردوغان نے اپنے بیان میں کہا کہ ’پالیسی سازوں کو کرنسی کی گرتی قدر کے مقابلے میں شرح سود کو بڑھانے کی کوئی خواہش نہیں ہے۔‘

ترک صدر رجب طیب اردوغان کے ’معاشی جنگ‘ کے انتباہ کے ساتھ ترک کرنسی لیرا ڈالر کے مقابلے میں ریکارڈ کم سطح پر پہنچنے کے بعد اب کچھ مستحکم ہوتی نظر آ رہی ہے۔

صدر رجب طیب اردوغان کی جانب سے شرح سود میں کمی کی حمایت پر قائم رہنے کے بعد رواں ماہ منگل کو ترک لیرا کی قدر میں ریکارڈ کمی واقع ہوئی۔ ترک صدر نے قوم کو خبردار کیا تھا کہ ان کے ملک کو ’معاشی آزادی کی جنگ‘ کا سامنا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق لیرا کی قدر میں ریکارڈ کمی کے بعد  بدھ کو پھر سے سات فیصد کا اضافہ دیکھنے میں آیا۔ لیرا کی قدر ایک ڈالر کے مقابلے میں 13 لیرا سے بڑھ کر ایک ڈالر کے مقابلے میں 11 لیرا ہو گئی۔ 

2017 کے وسط میں ساڑھے تین لیرا میں ایک ڈالر اور 2019 میں 5.6 لیرا میں ایک ڈالر آتا تھا۔ 

لیرا کی قیمت میں کمی کی وجوہات

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ترک لیرا کی قیمت میں منگل کو اس وقت ریکارڈ کمی دیکھنے میں آئی جب صدر اردوغان نے اپنے بیان میں کہا کہ ’پالیسی سازوں کو کرنسی کی گرتی قدر کے مقابلے میں شرح سود کو بڑھانے کی کوئی خواہش نہیں ہے۔‘

ان کے اس بیان کے بعد لیرا کی قیمت میں 13 فیصد کمی ہوئی اور یہ ایک ڈالر کے مقابلے میں 13 لیرا کی شرح پر آ گئی تھی۔ ملک میں مہنگائی اور لیرا کی قدر کم ہونے کے خلاف ترک شہریوں نے انقرہ میں احتجاج بھی کیا۔

خیال رہے کہ لیرا کی قدر میں کمی سال 2018 سے مسلسل دیکھنے میں آ رہی ہے۔ ترکی کو اگست 2018 کے بعد کرنسی کے بدترین بحران کا سامنا ہے جب اس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ تنازعے کے بعد لیرا کی قدر تاریخی کم ترین سطح پر پہنچ گئی تھی۔

جریدے دی اکنامسٹ کے مطابق سال 2018 میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترک مصنوعات جیسے کہ سٹیل اور المونیم پر عائد ٹیرف کو دگنا کر دیا تھا جس کے بعد ترک لیرا کی قیمت میں مسلسل کمی دیکھنے میں آئی تھی۔

لیرا کی قیمت میں حالیہ کمی ترکی کے مرکزی بینک کی جانب سے گذشتہ جمعرات کو بڑھتی ہوئی افراط زر اور کرنسی کی تیزی سے گرتی ہوئی قدر کے باوجود شرح سود کو 16 فیصد سے کم کر کے 15 فیصد کرنے کے بعد سامنے آئی ہے۔

کیا یہ سیاسی دباؤ کی وجہ بن سکتی ہے؟

اردوغان نے ہمیشہ اپنی مقبولیت کو مضبوط اقتصادی ترقی اور ملک بھر میں خاندانوں کی آمدنی کو بہتر بنانے کی ساکھ پر قائم رکھا ہے۔

انہوں نے پیر کو کابینہ کے اجلاس کے بعد قوم سے خطاب میں موجودہ پالیسیوں کا دفاع کیا۔

ان کا کہنا تھا: ’ہم کرنسی، سود اور قیمتوں میں اضافے کے لیے کھیلے جانے والے اس کھیل کو دیکھ رہے ہیں اور ہم اپنے گیم پلان کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا: ’ہم اللہ اور اپنے لوگوں کی مدد سے معاشی آزادی کی اس جنگ سے جیت کر نکلیں گے۔‘

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ معاشی بدحالی کی وجہ سے صدر پر دباؤ ڈالا جا سکتا ہے خاص طور پر ایسے وقت پر جب وہ 2023 کے انتخابات کے لیے تیاری کر رہے ہیں۔ دوسری جانب حزب اختلاف بھی اب تک انہیں سنجیدگی سے چیلنج کرنے میں ناکام رہی ہے۔

اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے سینیئر مارکیٹ تجزیہ کار کریگ ایرلم کا کہنا تھا: ’تاجروں کو آخر کار حد سے گزرنے کا اشارہ دیا گیا ہے اور وہ مرکزی بینک کی طرف سے اپنائی جانے والی پالیسیوں سے مکمل طور پر صبر کھو بیٹھے ہیں۔‘

بلند شرح سود کی مخالفت

اردوغان بلند شرح سود کی کھلے عام مخالفت کرتے ہیں۔ وہ مانتے ہیں کہ سود کی بلند شرح مہنگائی کو کم کرنے میں مدد دینے کے بجائے اس کا سبب بنتی ہے۔

اے ایف پی کے مطابق رواں سال کے دوران لیرا ڈالر کے مقابلے 40 فیصد سے زیادہ قدر کھو چکا ہے اور سالانہ افراط زر کی شرح تقریباً 20 فیصد تک پہنچ گئی ہے جو کہ حکومت کے ہدف سے چار گنا زیادہ ہے۔

جنوری میں ترکی میں کم از کم ماہانہ اجرت تقریباً 380 ڈالر تھی اور منگل کے بعد اب یہ 2825 لیرا یا 224 ڈالر ہے۔

مقامی میڈیا کے مطابق منگل کو لیرا کی قیمت میں کمی کے بعد اردوغان نے مرکزی بینک کے گورنر صاحب کاوجیوغلو سے ملاقات کی تھی لیکن اس حوالےسے مزید تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں۔

پرانی پالیسی بحال کرنے کا مطالبہ

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق بینک کے سابق ڈپٹی گورنر سمیع تومین جنہیں گذشتہ ماہ صدر اردوغان نے اصلاحاتی پالیسیوں کے تحت برطرف کر دیا تھا، نے لیرا کی قدر کو برقرار رکھنے کے لیے فوری طور پر پہلے والی پالیسیز پہ واپس جانے پر زور دیا ہے۔

ایک ٹویٹ میں ان کا کہنا تھا: ’ایسے غیرمعقول تجربے کو فوری طور پر چھوڑ دینا چاہیے جس کی کامیابی کا کوئی امکان نہیں ہے۔ ہمیں ان پالیسیز کی جانب واپس جانا ہو گا جو لیرا کی قدر اور ترک عوام کے استحکام کو محفوظ رکھتی ہیں۔‘

جریدے بلوم برگ کے مطابق ترک حزب اختلاف کے رہنما کمال کلیج داروغلو جن کی جماعت نے 2019 کے مقامی انتخابات میں انقرہ اور استنبول میں فتح حاصل کی تھی، نے منگل کو صدر اردوغان کو ’ترک جمہوریہ کے لیے ایک بنیادی قومی سکیورٹی کا مسئلہ‘ قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا:  ’آپ نے ترک لیرا کو ایک عدم استحکام کی شکار کرنسی میں تبدیل کر دیا ہے۔ آپ نے ہماری معاشی آزادی کو فروخت کے لیے پیش کر دیا ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا