نوبیل انعام یافتہ یزیدی خاتون کی تقریب منسوخ، سکول بورڈ پر تنقید

کینیڈا کے ایک سکول بورڈ نے داعش سے بچ نکلنے والی نادیہ مراد کی طلبہ کے ساتھ ایک تقریب منسوخ کردی جس کے بارے میں بورڈ کو خدشہ تھا کہ اس سے ’اسلامو فوبیا کو فروغ‘ ملے گا۔

سماجی کارکن نادیہ مراد 2019 میں پیرس میں ایک ایونٹ پر۔نادیہ 2014 میں داعش کی قید سے فرار ہونے میں کامیاب ہوئیں (اے ایف پی)

داعش کے اغوا اور جنسی استحصال کا سامنا کرنے والی نوبیل انعام یافتہ عراقی یزیدی خاتون نادیہ مراد کی ایک تقریب منسوخ کرنے پر کینیڈا کے سب سے بڑے سکول بورڈ کو تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ 

العربیہ اردو نے امریکی اخبار نیویارک پوسٹ کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا کہ ٹورانٹو ڈسٹرکٹ سکول بورڈ (ٹی ڈی ایس بی) سے منسلک ایک بُک کلب کی تقریب میں فروری میں 28  سالہ نادیہ مراد نے بورڈ کے چھ سو طلبہ کے ساتھ بیٹھک میں آئندہ سال فروری میں اپنی کتاب ’دا لاسٹ گرل: مائی سٹوری ان کیپٹیوٹی‘ کے بارے میں بات کرنا تھی، تاہم سکول بورڈ نے اس تقریب کو منسوخ کردیا کیونکہ اسے خدشہ تھا کہ اس سے مسلم طلبہ کے جذبات ’مجروح‘ ہو سکتے ہیں۔ 

معروف عراقی سماجی کارکن نادیہ مراد اقوام متحدہ کی خیر سگالی سفیر ہیں اور 2018 میں امن کا نوبیل انعام حاصل کر چکی ہیں۔ بُک کلب کی تقریب میں وہ داعش کے ہاتھوں نسل کشی اور جنسی تشدد کے بارے میں بات کرنے والی تھیں۔ 

دا پرنٹ کے مطابق سکول بورڈ نے نادیہ مراد کے دورے کو یہ کہتے ہوئے معطل کر دیا کہ وہ طلبہ کو تقریب میں شرکت کی اجازت نہیں دیں گے کیونکہ یہ کتاب مسلمانوں کے جذبات ’مجروح‘ کر سکتی ہے اور ’اسلامو فوبیا کو فروغ‘ دے گی۔

دا پرنٹ کے مطابق سکول ڈسٹرکٹ کی ایک رکن تانیہ لی نے یہ بُک کلب 2017 میں شروع کیا تھا، جس میں 13 سے 18 سال کی عمر کی لڑکیوں کو مدعو کیا جاتا ہے اور پڑھنے کے لیے کتاب دی جاتی ہے جس کے بعد وہ مصنف کے ساتھ ورچوئل بات چیت بھی کر سکتی ہیں۔ 

یہ پہلا موقع تھا کہ تانیہ لی کے کلب کی کوئی تقریب منسوخ ہوئی ہو اور وہ بورڈ کے فیصلے پر برہم ہیں۔ دا ٹیلی گراف کے مطابق  انہوں نے سکول بورڈ کی رکن ہیلن فشر سے کہا: ’داعش ایک دہشت گرد تنظیم ہے۔ اس کا عام مسلمانوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ٹورانٹو سکول بورڈ کو یہ فرق سمجھنے کی ضرورت ہے۔‘

دیگر کینیڈین لکھاریوں اور اخباروں نے بورڈ کے فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ 

ٹورانٹو میں رہنے والی مصنفہ ناؤمی بک نے لکھا: ’یہ کیس لکھاریوں سے متعلق لگتا ہے، خواتین جنہوں نے غیر معمولی کام کیے ہیں، جن کی زندگیاں نوجوانوں کے لیے متاثر کن ہوں۔ ان کی کتابوں کو مسترد کرنا پیچیدگیوں کو مسترد کرنا اور دنیا کی پیچیدگیوں کو مسترد کرنے جیسا ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

نادیہ مراد نے اپنی کتاب میں بتایا ہے کہ کس طرح انہیں گھر سے لے جایا گیا اور پھر غلاموں کے بازار میں بیچ دیا گیا جس کے بعد وہ داعش کے چنگل سے کیسے فرار ہوئیں۔

نادیہ بتاتی ہیں کہ شمالی عراق کے علاقے دورہوک میں پناہ گزین کیمپ میں پہنچنے سے پہلے کس طرح ان کا ریپ کیا گیا اور تشدد کیا گیا۔

ایکسپریس نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق نادیہ مراد 1993 میں شمالی عراق میں کوہِ سنجار کے علاقے کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئیں جو صوبہ ’نینوا‘ میں واقع ہے۔

نادیہ کا گھرانہ کاشت کاری کرتا تھا۔ وہ 19 برس کی تھیں اور کالج میں تعلیم حاصل کررہی تھی جب 2014 میں داعش کے جنگجوؤں نے ان کے گاؤں پر چڑھائی کردی۔ 

نادیہ جس علاقے سے تعلق رکھتی ہے وہاں دولاکھ 30 ہزار یزیدی آباد تھے، جنہیں داعش ’کافر‘ تصور کرتی ہے۔ 2014 میں داعش نے 3400 یزیدیوں کو گرفتار کرلیا، جن میں سے زیادہ تر خواتین اور لڑکیاں تھیں۔ زیر حراست مردوں کو لڑائی پر مجبور کیا گیا اور انکار کرنے والوں کو قتل کردیا گیا۔

نادیہ کے مطابق 15 اگست 2014 کو جنگجوؤں نے ہر فرد کو گاؤں کے باہر سکول میں جمع ہونے کا حکم دیا۔ سکول میں جنگجوؤں نے مردوں اور عورتوں کو الگ الگ جمع کیا۔ نادیہ اور کچھ دیگر خواتین کو سکول کی دوسری منزل پر جانے کے لیے کہا گیا۔ بعد میں نادیہ اور اس جیسی دیگر کم عمر اور جوان لڑکیوں یا پُرکشش خواتین کو موصل شہر لے جایا گیا جہاں تین دن بعد انہیں مختلف جنگجوؤں میں تقسیم کردیاگیا۔

بالآخر نادیہ  نومبر2014 میں اس روز فرار ہونے میں کامیاب ہوگئیں جب گھر میں رہنے والے جنگجوؤں میں سے ایک جاتے ہوئے گھر کو تالہ لگانا بھول گئے۔ وہاں سے انہوں نے سیدھے ایک مسلمان گھرانے میں جاکر پناہ لے لی۔ یہی خاندان نادیہ کے کام آیا، اس نے نادیہ کے لیے جعلی شناختی دستاویزات تیارکروائیں۔ یوں وہ داعش کے علاقے سے نکلنے میں کامیاب ہوکر ایک پناہ گزین کیمپ میں پہنچیں جہاں سے وہ ایک امدادی تنظیم کے ذریعے جرمنی پہنچ گئیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین