بیٹی اگلے گھر جانی ہے، کیا باپ اس ڈر سے پیار نہیں دکھا پاتے؟

ہم لوگ بچوں کے لاڈ اٹھاتے ہیں لیکن ان سے فاصلہ کیا واقعی اس خوف سے رکھتے ہیں؟ ایسا بھی تو ہوسکتا ہے کہ ہمیں اپنا سارا پیار دکھانے کا ٹائم نہ ملے اور ہم وقت سے پہلے گزر جائیں؟

بیٹیوں کو جمتے ساتھ پتہ ہوتا ہے یار، انہوں نے کسی گھر میں بھی ہمیشہ نہیں رہنا، باپ کا گھر، میاں کا گھر،  اولاد کا گھر۔ ان میں صبر بھرا ہی ہوتا ہے (فائل تصویر: پکسابے)

’اکثر باپوں کی طرح میں نے کبھی اپنی بیٹی کو سینے پر نہیں سلایا، نہ ہی گلے لگایا تاکہ اگر میں نہ رہوں یا وہ مجھ سے الگ ہو تو مجھے کم سے کم مِس کرے۔‘

ہم لوگ بچوں کے لاڈ اٹھاتے ہیں لیکن ان سے فاصلہ کیا واقعی اس خوف سے رکھتے ہیں؟ ایسا بھی تو ہو سکتا ہے کہ ہمیں اپنا سارا پیار دکھانے کا ٹائم نہ ملے اور ہم وقت سے پہلے گزر جائیں؟ حالات ایسے نہ رہیں یا اولاد پڑھائی کے لیے دوسرے شہر چلی جائے یا ہمارا تبادلہ کسی دوسرے شہر ہو جائے، تب کیا ہوگا؟

جتنا آپ خود اپنے ماں باپ سے اٹیچ تھے، عین اسی طرح ہر بچہ ہوتا ہے، کیا آپ کو پسند نہیں تھا کہ آپ کے والد آپ سے بے تحاشا پیار کرتے لیکن اس ساری شفقت کا اظہار بھی کرتے رہتے؟ کیا گھر سے ملنے والی ایک شاباش آپ کے اندر طوفانی قسم کا جوش نہیں بھرتی تھی؟ یاد کریں وہ ایک بار ابا جی سکول کے رزلٹ پر مسکرائے تھے اور آپ کی عیدیں ہو گئی تھیں۔ سوچیں، جب ڈیکوریشن پیس ٹوٹا تھا اور والد صاحب نے اماں کو روکتے ہوئے کہا تھا کہ مت ڈانٹو، بچہ ہے، کیا احساس تھا اس وقت؟ یا جب آپ کو سگریٹ پیتے دیکھ کے ابا جی ایسے گزر گئے تھے جیسے کچھ دیکھا ہی نہیں۔

مجھے تو یہ بھی یاد ہے کہ ابو اپنی پلیٹ سے اچھی بوٹیاں میری پلیٹ میں ڈال دیتے تھے کیوں کہ گوشت بہرحال حساب سے پکتا تھا۔

تو اس سارے پیار محبت اور شفقت کے ساتھ ساتھ اگر والد صاحب لوگ اس کا ڈائریکٹ اظہار کر بھی دیں تو کیا برا ہے؟

یہ جو بالکل پہلا جملہ تھا اس بلاگ کا، یہ میرے ابا نے لکھا۔ یہ ان کا ایک خط تھا جو انہوں نے میری بہن کے نام لکھا، تب، جب اس کی شادی ہو گئی اور وہ سات سمندر پار چلی گئی۔

میں حد سے زیادہ چپکو بچہ تھا، گھستا تھا اماں ابا کے پاس، دادی کے پاس، پھپھو کے پاس، کہانیاں سنتا تھا، میٹھی چیزیں کھاتا تھا، ضدیں کرتا تھا، منواتا بھی تھا لیکن ہاں، باوجود بےتحاشا فری ہونے کے، ابا کا یہ والا فاصلہ پہلے میرے ساتھ بھی ہوتا تھا، اب نہیں ہے۔ زندگی کا اس سے زیادہ شکریہ ممکن نہیں۔ خدا انہیں سلامت رکھے۔

سوال یہ ہے کہ یہ فاصلہ کیوں ہو؟ بچہ ماں باپ کے لمس میں ایک دم محفوظ تصور کرتا ہے خود کو۔ ہم جتنے بڑے گھوڑے ہو جائیں، دور رہیں ماں باپ سے لیکن وہ جو بچپن کی یاد ہوتی ہے ماں کے دوپٹے سے کھیلنے کی، ابا کا بڑا چشمہ پہننے کی، ان کے جوتے پیروں میں اڑا کر چلنے کی، وہ سب کیوں تنگ کرتی ہیں؟ اس لیے کہ ان سے بھی لمس جڑا ہوتا ہے۔ تو یہ پیار اگر اتنا اہم ہے، تو ہم بیٹیوں کو اس سے محروم کیوں رکھتے ہیں؟

دوسرے گھر جائے گی تو کیا ہوگا؟ اسے لاڈ پیار کی عادت ہوگی؟ خود اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھ لیں، کسی کی بیٹی کو گھر میں لا کر کتنے کوئی سکھ دے دیے آپ نے؟

کوئی ایک سننے والا، پڑھنے والا ہو، جو چوڑے میں آئے اور کہے کہ ہاں میں آج مطمئن ہوں۔ میں نے اپنی بیوی کو زندگی میں کبھی کوئی دکھ نہیں دیا! ہے کوئی ایک؟ جو کہہ دے کہ میں نے اپنی کسی دوست کو، فی میل کولیگ کو، کسی بھی رشتے میں موجود عورت کو زندگی میں کبھی تکلیف نہیں دی؟ ہے کوئی؟

تو دوسرے گھر جا کر، دوسرے رشتے میں بندھ کر، زندگی کی ٹھوکریں کھانے میں آزاد ہو کر، یہ تو سب بچیوں کے ساتھ ہونا ہوتا ہے۔ یا تو قسم کھا لیں کہ پرائی بچی کو حتی الامکان رنج نہیں پہنچانا یا پھر کم از کم اپنی اولاد جب تک اپنے پاس ہے، اپنے ساتھ ہے، اپنے گھر میں ہے اس کے اتنے لاڈ اٹھا لیں، اسے اتنا رجا دیں کہ وہ کبھی تنگ ہو بھی تو اس کے پاس زندگی کی بہترین یادیں ہوں، جو اس کے اپنے گھر کی ہوں۔

رونا تو بظاہر مقدر ہے۔ عورت کو آنسو قدرت نے شاید وافر بخشے ہیں لیکن ماں باپ کے گھر میں بھی اگر وہ روتی رہے، یعنی جس وقت آپ کے اختیار میں بہت کچھ ہے اور تب اسے آپ وہ سب نہ دے سکیں تو یرا جی، جمیا کیوں سئی؟

دکھوں کی تربیت الحمداللہ زندگی قدم قدم پہ دیتی ہے۔ عورت کا دل مرد سے کئی سو گنا مضبوط ہوتا ہے، اگر اس میں گھر کا پیار اور اعتبار کی آنچ شامل کر دیں تو یقین کریں بیٹیاں دنیا فتح کرنے کا حوصلہ رکھتی ہیں۔

بیٹی کی فرمائش وسائل سے باہر ہے تو اسے پیار سے سمجھا دیں، وہ چوں نہیں کرے گی۔ بیٹیوں میں صبر کا مادہ وافر ہوتا ہے، بیٹا تو میں خود ہوں، مجھے پتہ ہے بیٹے کیسے ڈی آئی جی ہوتے ہیں!

تو کل ملا کر یہ کہ ابا جی کا اپنا فلسفہ بالکل ٹھیک تھا، شاید میری بہن کے جیسے لاڈ انہوں نے اٹھائے وہ ہمارے زمانے میں کوئی ابا نہیں اٹھاتا ہوگا لیکن ابا جی مرشدو، بیٹی بھی باپ کے پاس بیٹھنا چاہتی ہے، اسے ڈھیر سارے قصے سنانا چاہتی ہے، اسے اپنا آئیڈیل مانا کرتی ہے۔ آئیڈیل ابا اتنے فاصلے پر رہے تو بیٹی کو وہ شفقت دوبارہ کون دے سکے گا؟ اپنے باپ کی چھتر چھایا سے نکل گئی تو پھر خدا جانے کہاں رہے کیسی رہے!

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

باپو، پڑھا لکھا دو بچیوں کو، ہنر سکھا دو یار کوئی، اچھا برا وقت آتا جاتا رہتا ہے، خالی گھرداری میں رکھو گے تو کل کو محتاجی نہ ہو کسی دوسرے کی۔ دیکھو ہونا وہی ہے جو قسمت نے لکھ دیا مگر کوشش تو کر لو یار۔ یہ سب بھی لاڈ پیار میں ہی آتا ہے۔ ان پہ اعتبار کرو، انہیں بتاؤ کہ میری بیٹی، روح کی جنس کوئی نہیں ہوتی، جو روح تم میں ہے، وہی مجھ میں ہے، یہ سارے رولے وجود کے ہیں، جسم مٹی ہوا نہیں اور سارا وجود رب سوہنے دے حوالے۔

اور جب بچے پڑھ لکھ جائیں تو ان کے بابا لوگ ویسے بھی زیادہ اٹن شن رہتے ہیں، اب بچوں کو اپنے حقوق کی پڑ جاتی ہے، ان کی پرائیویسی، ان کی سیلف سٹیم، ان کے موڈ سوئنگز، یہ سب کچھ بھی پیکج کا حصہ ہوتے ہیں۔ تو بابا لوگو، اوئے سوہنیو، یہ سب بھی کدھر کوئی اگلے گھر والا ناز نخرہ اٹھائے گا؟ کر لو یار لاڈ پیار کرلو بیٹیوں سے۔

اتنا ترلا منت کرلیا اب تو بھائی خود کو الوک ناتھ فیل کر رہا ہے، جو ہر فلم میں لڑکی کے باپ بنے ہوتے ہیں۔

تو پھر ان جملوں کے بعد ابو جی نے لکھا: ’میں نے ایسا اس لیے کیا تاکہ یہ سب باتیں یاد کرکے اسے دکھ نہ ہو۔ اسے اتنا پیار نہ دوں کہ اس کی زندگی کا حصہ ہی بن جاؤں اور وہ ميرے بغیر رہنے کا تصور بھی نہ کرسکے۔‘

ابو جی، بیٹیوں کو جمتے ساتھ پتہ ہوتا ہے یار، انہوں نے کسی گھر میں بھی ہمیشہ نہیں رہنا، باپ کا گھر، میاں کا گھر، اولاد کا گھر۔ ان میں صبر بھرا ہی ہوتا ہے۔ مولا آپ کو حیاتی دے، کیا کروں، میں بھی آپ کی پوتی کا باپ ہوں۔۔۔

تو بھائی لوگ، کل ملا کر بس یہ کوشش کریں بیٹیوں کو اپنا زور بازو ٹرائے کرنے میں مدد دیں، ان کا بازو بنیں، دنیا بڑی آگے نکل گئی ہے، بڑے راستے ہیں، باقی پھر اللہ نبی وارث!

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ