میانمار نسل کشی: روہنگیا کا فیس بک پر 150 ارب ڈالر ہرجانے کا دعوی

تقریباً 10 ہزار روہنگیا پناہ گزینوں کی ایما پر پیر کو سان فرانسسکو میں دائر کیے گئے مقدمے کے مطابق ملک کی مظلوم اقلیت کی نسل کشی کے بارے میں بتائے جانے کے بعد فیس بک نے کئی سال تک میانمار میں نفرت انگیز تقاریر پھیلانے کی اجازت دیے رکھی۔

امریکہ اور برطانیہ میں مقیم روہنگیا پناہ گزینوں نے فیس بک پر الزام لگایا ہے کہ اس نے روہنگیا برادری کے خلاف نفرت انگیز تقاریر  اور خطرناک غلط معلومات پھیلانے کا موقع فراہم کیا (اے ایف پی/ فائل فوٹو)

امریکہ اور برطانیہ میں مقیم روہنگیا پناہ گزین فیس بک کے خلاف 150 ارب ڈالرز (113 ارب پاؤنڈز) سے زیادہ ہرجانے کا دعویٰ کر رہے ہیں۔

انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر الزام لگایا ہے کہ اس نے روہنگیا برادری کے خلاف نفرت انگیز تقاریر اور خطرناک غلط معلومات پھیلانے کا موقع فراہم کیا۔

امریکہ میں مقیم، ایک اندازے کے مطابق 10 ہزار روہنگیا پناہ گزینوں کی ایما پر پیر کو سان فرانسسکو میں دائر کیے گئے مقدمے کے مطابق ملک کی مظلوم اقلیت کی نسل کشی کے بارے میں بتائے جانے کے بعد فیس بک نے کئی سال تک میانمار میں نفرت انگیز تقاریر پھیلانے کی اجازت دیے رکھی۔

روہنگیا پناہ گزین اپنی برادری کے خلاف تشدد کو فروغ دینے پر سوشل میڈیا کمپنی کے خلاف ’بطور معاوضہ 150 ارب ڈالر سے زیادہ کی رقم اور بطور سزا ہرجانے کا دعویٰ کر رہے ہیں جس کی رقم کا تعین مقدمے کی کارروائی میں کیا جائے گا۔‘

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق برطانیہ میں بھی وکلا نے مربوط اقدام کے تحت فیس بک کے لندن آفس کو نوٹس بھیج دیا ہے۔

ان حالات میں جب میانمار میں روہنگیا برادری کو طویل عرصے تک ستایا گیا، مقدمے میں کہا گیا ہے کہ 2011 میں فیس بک نے ملک میں آنے کے بعد ’روہنگیا مخالف نفرت پر مبنی تقاریر، غلط معلومات اور تشدد پر اکسانے کے عمل کو بڑے پیمانے پر پھیلانے میں کردار ادا کیا۔‘

مقدمے میں کہا گیا ہے کہ اس دہائی کے دوران انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اور تشدد کے اکا دکا ہونے والے واقعات دہشت گردی اور بڑے پیمانے پر نسل کشی میں تبدیل ہو گئے۔

روہنگیا پناہ گزینوں نے فیس بک پر الزام لگایا ہے کہ اس نے ’جنوب مشرقی ایشیا کے چھوٹے سے ملک کی مارکیٹ میں قدم جمانے کے لیے روہنگیا افراد کی زندگیوں کی تجارت پر رضامندی ظاہر کی۔‘

مقدمے کے مطابق فیس بک کے میسنجر کو بھی ایسے ہی لیکن مسلمان اور بدھ برادریوں کو متضاد پیغامات بھجوانے کے لیے استعمال کیا گیا، جس سے ستمبر 2017 کے اوائل میں علاقے میں برادریوں کے درمیان تشدد کو ہوا ملی۔

اس مقدمے میں روئٹرز کی رپورٹ کردہ 2013 کے اوائل کی فیس پوسٹس کا ذکر کیا گیا ہے جن میں کہا گیا: ’ہمیں ان کے خلاف اس انداز میں لڑائی کرنا ہو گی جس طرح ہٹلر نے یہودیوں کے خلاف کی، ’ڈیم کالارز‘ (روہنگیا لوگوں کے لیے استعمال کی جانے والی تحقیر آمیز اصطلاح)۔‘

اسی طرح 2018 کی ایک پوسٹ میں ایک کشتی کی تصویر دکھائی گئی جو روہنگیا پناہ گزینوں سے بھری ہوئی ہے۔ پوسٹ میں لکھا گیا کہ ’تیل ڈالو اور آگ لگا دو تاکہ وہ خدا سے زیادہ جلدی مل سکیں۔‘

مقدمے کے مطابق سب سے زیادہ خطرناک کارروائیوں میں سے ایک کا آغاز 2017 میں ہوا جب ’فوج کے خفیہ ادارے نے مسلمان اور بدھ دونوں گروپوں کے لیے فیس بک پر افواہیں پھیلائیں کہ دوسرے فریق کی جانب سے حملہ ناگزیر ہے۔‘

آن لائن پھیلائی گئی غلط معلومات کے نتیجے میں ستمبر 2018 تک 10 ہزار سے زیادہ لوگوں کو قتل کر دیا گیا اور کم از کم سات لاکھ 25 ہزار روہنگیا ہمسایہ ملک بنگلہ دیش فرار ہو گئے۔

اقوام متحدہ کے میانمار سے متعلق حقائق معلوم کرنے والے آزاد بین الاقوامی مشن نے رپورٹ کیا کہ میانمار کی نسل کشی کی مہم کے دوران شمالی ریاست رخائن میں 40 فیصد سے زیادہ دیہات جزوی یا مکمل طور پر تباہ کر دیے گئے۔

مشن نے خاص طور پر کہا کہ میانمار فوج کی نسل کشی کی کارروائیوں میں فیس بک نے کردار ادا کیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مقدمے میں کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کے مشن نے ان دستاویزات، فیس بک پوسٹس اور آڈیو ویژول مواد کا جائزہ لیا جنہوں نے روہنگیا برادری کے بارے میں رائے عامہ ہموار کرنے میں مدد دی۔

مشن نے تصدیق کی ہے کہ ’احتیاط سے تیار کی گئی نفرت انگیز مہم‘ نے میانمار کی آبادی میں مسلمانوں کے بارے میں منفی تاثر پیدا کیا ہے۔‘

مقدمے کے مطابق: ’اس بیانیے نے 2012  اور 2013 میں ریاست رخائن اور دوسرے علاقوں میں مسلمانوں کے خلاف تشدد کے لیے سازگار ماحول تیار کیا۔ عام لوگوں نے اس تشدد کی سختی سے مخالفت کرنے سے گریز کیا۔ اس بیانیے نے ریاست رخائن میں روہنگیا اور کمن برادریوں کے خلاف جابرانہ اقدامات کو ہوا دی اور بعد میں 2016 اور 2017 میں ریاست کی قیادت میں تشدد کی لہروں کا سبب بنا۔‘

انسٹی ٹیوٹ فار وار اینڈ پیس رپورٹنگ سے تعلق رکھنے والے تجزیہ کار ایلن ڈیوس کا ذکر کرتے ہوئے مقدمے میں کہا گیا ہے کہ نسلی کشی شروع ہونے سے پہلے کے مہینوں میں فیس بک پوسٹس ’زیادہ منظم، گھناؤنی اور زیادہ فوجی نوعیت کی ہو گئیں۔‘ اور میانمار کی فوج نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کی پوسٹس کو ’صفائی کی کارروائیاں‘کہہ کر جائز قرار دینے کے لیے جواز کے طور پر استعمال کیا۔

مقدمے میں لگائے گئے الزامات اس دعوے کے گرد گھومتے ہیں کہ میانمار کے حالات فیس بک کے علم میں تھے لیکن اس نے پلیٹ فارم کو کی گئی نفرت پر مبنی تقاریر کے خلاف شکایات کو نظرانداز کیا۔

مقدمے میں کہا گیا ہے کہ فیس بک کے ایلگوردمز نے روہنگیا برادری کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کو بڑھاوا دیا۔ سوشل میڈیا کی بڑی کمپنی مقامی نگرانوں اور حقائق کی جانچ پڑتال کرنے والوں پر توجہ دینے میں ناکام رہی۔

روہنگیا پناہ گزینوں کا کہنا ہے کہ نفرت پر مبنی تقاریر کے بارے میں فیس بک کا ردعمل ’انتہائی غیرمؤثر‘ تھا۔

انہوں نے کہا کہ 2014 میں فیس بک کا مواد دیکھنے والے صرف ایک شخص تھے جو برمی زبان بولتے تھے اور وہ ڈبلن میں مقامی ٹھیکے دار تھے جب کہ برمی بولنے والے دوسرے شخص نے محض 2015 کے اوائل میں کام شروع کیا۔ ان حالات کے ساتھ پلیٹ فارم بالکل تیار نہیں تھا۔

فیس بک کی وِسل بلوؤر فرانسس ہاؤگن، جنہوں نے اکتوبر میں امریکی کانگریس کے لیے گواہی دی تھی، نے دعویٰ کیا ہے کہ فیس بک نے منافع کو لوگوں کی فلاح و بہبود پر ترجیح دی۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کمپنی مختلف ممالک جن میں ایتھوپیا اور میانمار شامل ہیں، میں نسلی تشدد کو روکنے کے لیے کافی اقدامات نہیں کر رہی۔

انہوں نے کہا کہ غلط معلومات کے مقابلے کے لیے کمپنی کے اخراجات میں سے محض ایک چھوٹا سا حصہ علاقائی زبان میں نفرت پر مبنی تقاریر کو روکنے کے لیے رکھا گیا ہے۔

تاہم ان الزامات کا جواب دیتے ہوئے فیس بک نے کہا ہے کہ اس نے ’جامع‘حکمت عملی اپنا رکھی ہے جس کے تحت مقامی زبان بولنے اور تھرڈ پارٹی کے حقائق کی جانچ پڑتال کرنے والوں سے کام لیا جاتا ہے۔

دی انڈپینڈنٹ نے روہنگیا برادری کے مقدمے میں لگائے گئے الزامات کے بارے میں تبصرے کے لیے فیس بک کے ساتھ رابطہ کیا ہے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا