’یہ عدلیہ کو ہراساں کرنے اور دباؤ ڈالنے کا سیزن ہے‘

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے باعث کوئی بھی کسی کی آڈیو بنا سکتا ہے اور عدالت کو اس کی تحقیقات کے لیے کہہ سکتا ہے مگر اس طرح عدالت میں زیر التوا کیسز پر اثر پڑتا ہے۔

سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی مبینہ آڈیو ریکارڈنگ کی تحقیقات کے لیے کمیشن تشکیل دینے کی درخواست پر آج سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی (اے ایف پی/ فائل)

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے باعث کوئی بھی کسی کی آڈیو بنا سکتا ہے اور عدالت کو اس کی تحقیقات کے لیے کہہ سکتا ہے مگر اس طرح عدالت میں زیر التوا کیسز پر اثر پڑتا ہے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے یہ ریمارکس بدھ کو سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی مبینہ آڈیو ریکارڈنگ کی تحقیقات کے لیے کمیشن تشکیل دینے کی درخواست پر سماعت کے دوران دیے۔

سماعت میں عدالت نے معاونت کے لیے اٹارنی جنرل کو بھی طلب کر رکھا تھا۔

چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ وہ بتائیں کہ عدالت تحقیقات کے لیے کس کو ہدایات جاری کرے؟

جس پر اٹارنی جنرل خالد جاوید نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ عدلیہ کو ہراساں کرنے اور دباؤ ڈالنے کا سیزن ہے۔ کبھی کوئی آڈیو، کبھی کوئی دستاویز ریلیز کیا جاتا ہے۔ یہ پراکسی جنگ ہے صرف ایک شخص کے لیے بار بار ویڈیوز آ رہی ہیں۔‘

اٹارنی جنرل نے مزید کہا کہ ایک سزا کے خلاف اپیل چل رہی ہے جس کے لیے ’پوری عدلیہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی ہے۔‘

انہوں نے کہا درخواست آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت دائر کی گئی ہے۔ ایسا تاثر نہیں ملنا چاہیے کہ درخواست گزار کسی اور کا کیس لڑ رہے ہیں، ’کبھی کبھی ہمیں پتہ نہیں ہوتا ہمیں کوئی اور استعمال کر رہا ہے۔‘

’صرف ایک وزیراعظم کی پراکسی‘

اٹارنی جنرل نے معاونت کرتے ہوئے مزید کہا: ’درخواست گزار نے 2017 کے واقعات کا ذکر کیا ہے۔ ایک اور وزیراعظم تھا جسے مبہم عدالتی حکم پر پھانسی بھی دی گئی۔ جلا وطن کرنے کی سہولت ایک وزیراعظم کو دی جاتی ہے تو بھٹو کو کیوں نہیں؟‘

انہوں نے کہا کہ ’پتہ لگنا چاہیے کہ چیف جسٹس سجاد علی شاہ کو کیوں ہٹایا گیا؟ رقم سے بھرے ہوئے سوٹ کیس کسے جاتے رہے؟‘

اٹارنی جنرل نے کہا: ’جو بھی زندہ لوگ ہیں ان سب کا احتساب کر لیتے ہیں۔ صرف ایک وزیراعظم کے لیے پراکسی بن کر کیوں لوگ عدالت آ رہے ہیں؟‘

انہوں نے عدالت میں کہا کہ ہزاروں لوگوں کو نوکری سے نکال دیا گیا ان کی کوئی ویڈیو نہیں آئی۔ سینکڑوں لوگوں کی زمینوں پر قبضہ ہو جاتا ہے اس کی کوئی ویڈیو نہیں آئی۔

’وکلا ڈسٹرکٹ کورٹ کے ججز کے کپڑے پھاڑ دیتے ہیں پھر ایک مذمت جاری کر دی جاتی ہے۔ بار ممبرز نے ہی سپریم کورٹ میں کھڑے ہو کر چیف جسٹس کے خلاف نعرے لگائے۔‘

اس موقع پر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ’بارز کی عدلیہ کی آزادی کے لیے بڑی جدوجہد ہے۔‘ انہوں نے کہا اب عدالت کو سندھ ہائی کورٹ بار کے صدر صلاح الدین کو بھی سن لینا چاہیے۔

سندھ ہائی کورٹ بار کے صدر، جو درخواست گزار بھی ہیں، انہوں نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل ہر کیس کا ذمہ دار بار ایسوسی ایشنز کو ٹھہرا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا: ’وزیراعظم عمران خان کے عدلیہ اور ججز کے خلاف بیانات نکال کر دیکھ لیں۔ یہ توجہ ہٹانے کے لیے کہا جاتا ہے کہ 70 سال کا احتساب کریں یا کسی کا نہ کریں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

چیف جسٹس نے پھر درخواست گزار سے سوال کیا کہ کیا ثاقب نثار کی آڈیو کسی مستند ذریعے سے آئی ہے۔

چیف جسٹس نے دوران سماعت سندھ ہائی کورٹ بار کے صدر سے کہا کہ ان کے لیے وہ کچھ لائے ہیں۔

چیف جسٹس نے اپنے خلاف سوشل میڈیا پر پراپیگنڈہ کی کاپیاں دکھاتے ہوئے کہا: ’میری تصویر پھیلائی جاتی ہے کہ یہ کسی ن لیگی کے ساتھ باہر پھر رہے ہیں۔ کیا اب اس پر تحقیقات کروانے لگیں؟‘

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ اگر ’ہم آڈیو تحقیقات کی درخواست قابل سماعت بھی قرار دیں تو کیا ہوگا؟ درخواست گزار نے جواب دیا کہ میرا موقف یہ ہے کہ عدالتوں کو متنازعہ کیا جا رہا ہے، اور عدلیہ تحقیقات کروا کر یہ سلسلہ روک سکتی ہے۔‘

اس موقع پر اٹارنی جنرل نے مداخلت کرتے ہوئے کہا: ’میں یہی کہہ رہا ہوں ساری چیزیں گھوم پھر کرایک اپیل تک جاتی ہیں۔ صرف ایک کیس کے لیے یہ پراکسی وار لڑی جارہی ہے۔'

درخواست گزار صلاح الدین ایڈوکیٹ  نے جواباً کہا: ’اٹارنی جنرل حکومت سے کہہ کر ماضی کا جو احتساب کرنا ہے چاہتے ہیں کر لیں۔ اس کیس سے ماضی کے کیسز جوڑنے کی ضرورت کیوں پڑ رہی ہے؟ بیان حلفی کا کیس اسی عدالت میں زیر التوا ہے توآڈیو لیک کا معاملہ بھی قابل سماعت ہو سکتا ہے۔‘

اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ بیان حلفی کا معاملہ الگ ہے، بیان حلفی دینے والے خود عدالت آئے ہیں۔

انہوں نے کہا، ’آپ جس آڈیو کی بات کر رہے ہیں اس پر آپ کو بھی یقین نہیں کہ ٹھیک ہے یا نہیں۔ معاملے پر کمیشن تو اس وقت بنے جب کوئی گراونڈ موجود ہو۔'

سندھ ہائی کورٹ بار کے صدر نے کہا وزیراعظم عمران خان کے عدلیہ اور ججز کے خلاف بیانات بھی نکال کردیکھ لیں۔ اوردرخواست کے بارے میں کہا: ’عوام کا آزاد، غیر جانبدار عدلیہ پر اعتماد بحال کرنا ضروری ہے۔'

آج کی سماعت کے بعدعدالت نے مزید دلائل کے لیےسماعت 24 دسمبر تک ملتوی کر دی۔

درخواست کا متن کیا ہے؟

پاکستان کے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بارے میں ایک سابق چیف جج رانا شمیم نے گزشتہ ماہ چند الزامات لگائے تھے جس کے بعد حال ہی میں ان کی ایک آڈیو لیک ہوگئی تھی جس میں بظاہر ان پر الزامات کے ثبوت موجود ہیں۔ لیکن ثاقب نثار کا موقف ہے کہ وہ آڈیو جعلی ہے اور ان پر لگائے گئے الزامات درست نہیں ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جب بھی اسلام آباد ہائی کورٹ بلائے گی وہ سماعت میں پیش ہونگے۔

اس واقعے کے تناظر میں سندھ ہائی کورٹ بار کے صدر صلاح الدین نے درخواست دائر کر رکھی ہے جس میں موقف اپنایا گیا ہے کہ سابق چیف جسٹس پاکستان کی مبینہ آڈیو ریکارڈنگ نے عدلیہ کے وقار کو نقصان پہنچایا ہے۔ مبینہ آڈیو سےتاثر ملتا ہے کہ عدلیہ بیرونی قوتوں کے پریشر میں ہے۔ عوام کا آزاد، غیر جانبدار عدلیہ پر اعتماد بحال کرنا ضروری ہے۔

جس کے لیے اچھی شہرت کے حامل افراد پر مشتمل تحقیقاتی کمیشن تشکیل دیا جائے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان