دو ٹاور، دو شہر اور دو مختلف رویے

کراچی کے نسلہ ٹاؤر اور اسلام آباد کی ہائی رائز بلڈنگ کے بارے میں ارباب اختیار کے دو مختلف ردعمل حیران کن ہیں۔

اگر نسلہ ٹاور اسلام آباد میں ہوتا تو مکینوں کی معاشرتی وقعت سے قطع نظر اس کے ڈھانچے کو ہاتھ لگانا جان جوکھوں کا کام ہوتا (تصویر: امر گرڑو)

کراچی کے نسلہ ٹاور کی ایک رہائشی، اخباری اطلاعات کے مطابق اپنے گھر کے کھو جانے کے بعد مایوسی کے ہاتھوں اللہ کو پیاری ہو گئیں۔ پینسٹھ سالہ شمیم عثمان کے بارے میں ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیویلپمنٹ نے تین دن پہلے یہ اطلاع جاری کی کہ اس خاتون کی موت چھت چھن جانے کی وجہ سے ہوئی۔

نسلہ ٹاور عدالت عظمی کے سربراہ محترم چیف جسٹس گلزار احمد کی انصاف پسندی کی زد میں آ کر زمین بوس کیا جا رہا ہے۔ معزز جج تمام غیرقانونی قبضوں اور تعمیرات کو ہٹا کر ریاستی زمین کے ٹکڑوں کو آزاد کروانا چاہتے ہیں۔ نسلہ ٹاور اس عظیم جہاد کا ایک بڑا مینار ثابت ہوا اور یہ تاویل کہ یہاں پر چھوٹے اور درمیانے طبقے کے خاندان مقیم ہیں اور انصاف کیے جانے پر ان کی زندگیاں ابتر ہو جائیں گی، کار آمد ثابت نہ ہوئیں۔

یہ جاننا مشکل ہے کہ مرحومہ کیا واقعی نفسیاتی دھچکے کی وجہ سے اللہ کو پیاری ہوئیں یا اس کی کوئی اور وجہ ہے لیکن تعمیراتی حلقے اسے بہرحال اسی معاملے کے ساتھ جوڑ رہے ہیں۔ ذرائع ابلاغ کے کئی تجزیہ نگاروں نے یہ بحث چھیڑ دی ہے کہ اگر نسلہ ٹاور اُمرا کا مسکن ہوتا تو شاید اس کی قسمت کچھ مختلف ہوتی۔

بطور مثال وہ عدالت عظمی کی بغل میں اس دیو قامت عمارت کا ذکر کرتے ہیں جس کو سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے کیپیٹل ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کی طرف سے باوزن مقدمے کے باوجود قانونی بنیادوں پر کھڑا رہنے دیا۔ پھر پتہ چلا کہ یہاں پر محترم وزیر اعظم سمیت تقریبا ہر اہم شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے کسی نہ کسی شخص نے سرمایہ کاری کی ہوئی ہے۔ اس طرح دو ٹاور اور انصاف کی دو مختلف کہانیوں نے جنم لیا۔

ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ اگر نسلہ ٹاور اسلام آباد میں ہوتا تو مکینوں کی معاشرتی وقعت سے قطع نظر اس کے ڈھانچے کو ہاتھ لگانا جان جوکھوں کا کام ہوتا۔ کہنے کو اسلام آباد ایک چھوٹا سا شہر ہے لیکن یہاں کی زمین سونا اگلتی ہے۔

سندھ، پنجاب کے وسیع و عریض زمینی ٹکڑے آپ کو ارب پتی تو بنا سکتے ہیں لیکن ان کے جھمیلے بڑے ہیں۔ اگر آپ نے صاف ستھری طاقت کے ساتھ پرتعش زندگی کا مزہ اٹھانا ہے تو اسلام آباد کا رخ کرنا ہوگا۔ یہاں پر جو مزہ ہے وہ کہیں اور نہیں۔ چھوٹا سا کام کر کے آپ مال کی مسلسل بارش سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔

یہاں کا ایک کنال اندرون سندھ کے غالبا چھ گاؤں کی قیمت کے برابر ہے۔ کراچی کی کمرشل زمینیں قیمت میں اسلام آباد کے برابر ہوں گی لیکن جو سکون و اطمینان دینے والے حسین نظارے اس شہر میں میسر ہیں وہ دوسرے شہروں میں نہیں ہیں، اور کام بھی آسان ہیں۔ بس ایک آدھ فائل آگے پیچھے کرنی ہوتی ہے اور پھر’ستے خیراں۔‘

پچھلے دنوں اسلام آباد ہائی وے پر سفر کرتے ہوئے اس کے داخلی پلوں پر نظر پڑی تو پتہ چلا کہ وہاں کا رنگ سبز ہو گیا ہے۔ شہر میں داخل ہونے والے خوش آمدیدی پیغام ’اسلام آباد دا بیوٹی فل‘ کے بالکل برابر میں ایک اور ادارے کا بڑا نمائشی بورڈ لگا ہوا تھا۔ سڑک کی دوسری طرف ایسا ہی ایک اور بورڈ نمایاں طور پر سبز پٹی میں گڑھا نظر آیا۔

ذرا غور کیا تو اس ادارے کے اشتہار ہر طرف آویزاں نظر آئے۔ کچھ ایسا تصور ملا کہ جیسے یہ پل، اس کے گرد پھیلا ہوا سبزہ، تمام تر کام سی ڈی اے نہیں اسی ادارے نے  بنایا یا اگایا ہے۔ تشہیر کے زاویے سے دیکھیں تو یہ جگہ کوہ نور ہیرے کی طرح ہے۔ آپ اس کو آتے جاتے دیکھنے پر مجبور ہیں۔

ویسے تو شہر کے ہر موڑ پر آپ کو کاروباری کمپنیوں کے بورڈ آویزاں نظر آئیں گے لیکن اس طرح کی بےلگام اور بےمثال تشہیر پر نظر کم ہی پڑتی ہے۔

اسلام آباد کے ایک اور متنازعہ ٹاور کی آسمان سے چھوتی ہوئی بلندیوں کو بھی مختلف کمپنیوں کی تشہیر کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اسلام آباد کو چلانے والے اداروں اور رہائشیوں کو بہرحال اس اربوں روپے کے کاروبار سے ایک دھیلے کا فائدہ نہیں ہو رہا کیوں کہ تشہیر کے حقوق کا معاملہ عدالتی فائلوں میں پھنسا ہوا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اسلام آباد ہائی وے پر زمینیں بیچنے اور خریدنے والوں کی اشتہار بازی  کے بارے میں جب میں نے انتظامیہ سے استفسار کیا تو انہوں نے بتایا کہ یہ پانچ سالہ معاہدے کے تحت کیا گیا ہے۔ میں نے پوچھا کہ اس کے بدلے میں شہر کو کیا ملا؟ جواب آیا کہ اس کمپنی نے سڑک کے اطراف 40 لاکھ کی تزئین و آرائش کا کام کیا ہے۔

میں نے حیران ہو کر اس آرائش کے شواہد کے بارے میں جاننا چاہا تو بتایا گیا کہ یہ جو سبزہ آپ کو نظر آ رہا ہے یہ اسی کمپنی نے ایک ذمہ دار کاروباری گروپ کی حیثیت سے سرانجام دیا ہے۔ اس کے بعد اس معاہدے کے کرنے والوں کی عقل پر دنگ رہنے کے علاوہ میرے پاس اور کوئی چارہ نہیں تھا۔

اسلام آباد کو سبز کرنے والے ویسے ہی لوگ ہیں جیسے سمندر میں گلاس انڈیل کر پانیوں میں اضافہ کرنے والے۔ اس شہر کو کسی کمپنی کے لگائے ہوئے چند پودوں کی ضرورت نہیں۔ یہاں پر گھٹلی پھینکیں تو درخت بن جاتا ہے۔ ستم ظریفی کی ہے کہ وہ کمپنیاں جو سبزے کو کاٹ کر سیمنٹ اور لوہے کے تابوت نما ٹاور بناتی ہیں یا ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے نام  پر  ماحولیات کا بیڑہ غرق کرتی ہیں، خود کو سبز رنگ میں لپیٹ کر اس شہر کے باسیوں سے اپنی طرف سے کی جانے والی اس خصوصی خدمت کا معاوضہ کروڑوں روپے کی مفت تشہیر سے حاصل کرتی ہیں۔

یہ صرف ایک مثال ہے۔ اسلام آباد کی ہر دوسری سڑک پر آپ کو غیرقانونی تعمیرات کی کوئی نہ کوئی مثال ملے گی۔ حالت یہ ہے کہ اگر کسی بڑے صاحب کا مکان کسی عوامی پارک کے سامنے بنے تو اس کی تعمیر سے پہلے اس پارک کی قسمت کو بدل دیا جاتا ہے تاکہ صاحب اور اس کے بچے صبح اٹھ کر عوام کے نام پر لگائے گئے وسائل کے اس بہترین استعمال سے خود کو تروتازہ کر سکیں۔

اس شہر کی سڑکیں، فٹ پاتھ، چوک، پل، جھیلیں سب قبضے میں ہیں۔ جس سے ان کو چھڑوایا نہیں جا سکتا۔ اگلی مرتبہ اگر نسلہ ٹاور بنانے والے اسلام آباد کو منتخب کر لیں تو ضمانت دی جا سکتی ہے کہ ان کو کوئی ہاتھ نہیں لگائے گا۔

نوٹ: یہ تحریر مصنف کی رائے پر مبنی ہے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ