365 دن، شوکت ترین، افغان پالیسی اور 2022

ایسے وقت جب خود اپنی معیشت کے لالے پڑے ہیں ہم افغانستان کی بھی پانچ ارب روپے سے مدد کرنے جا رہے ہیں۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ اس امداد سے افغانوں کو فرق پڑے نہ پڑے، دونوں ممالک کو لالے پڑ جائیں گے جو متوازی عالمی معیشت کی جانب ایک اچھا قدم ہوگا۔

نیے سال کی آمد پر کوسوو و میں برقی قمقموں سے لکھا 2022 (اے ایف پی)

سال 2021 ’نوکریوں کے سیلاب اور معیشت کی بہتری‘ کا سال بتایا گیا تھا لیکن سال کے اختتام سے ایک دن پہلے مالی سال کا دوسرا بجٹ باضابطہ طور پر پیش کر دیا گیا یعنی بقول وزیر ’خالی‘ خزانہ شوکت ترین دو ارب روپے کا ضروری ٹیکہ لگا دیا گیا۔

ان 365 دنوں میں عالمی معاشی صورت حال نے تو جو کرنا تھا کیا ہم نے خود بھی جس جس طرح کے معاشی ناچ اور کرتب کیے دوش بےچارے آنگن کو ہی دیا۔ کبھی لگژری آئٹم کی درآمد کے لیے دروازے ایسے کھولے جیسے آٹے کی بوری کا منہ کھولتے ہیں، دھڑام سے سب کچھ  ناتواں جھولی میں آ گرا، پھر کبھی ڈالر کو ایسی کھلی چھٹی دی کہ اس کی اڑان سے ہماری دوربینیں بھی اس پر نظر رکھنے میں ناکام رہیں، منہ ہی تکتے رہ گئے۔

شوکت ترین اور ان کی ٹیم کے لیے اگلا سال کانٹوں کا بستر ثابت ہوگا۔ اس میں کیا کسی کو کوئی شک ہے؟ لیکن گذشتہ برس کی آخری اخباری کانفرنس میں ان کے مفلر کا رنگ کافی معنی خیز تھا۔ وہی تحریک انصاف کی نیّا کو 2023 کے عام انتخابات میں یا تو آر لگائیں گے یا پار، قومی خزانے پر الیکشن کے سال کا دباؤ مزید مشکلات پیدا کرے گا، تنخواہیں بڑھانی پڑیں گی ورنہ ووٹ تو کیا کسی نے خالی جیب کے ساتھ گالی بھی نہیں دینی۔

وہ تو بہتر ہو منقسم حزب اختلاف کا کہ وہ تمام سال اپنے آپ کو میڈیا تک بڑی کامیابی سے محدود رکھنے میں کامیاب رہی۔ اخباری بیانات اور ٹی وی لائیوز کے علاوہ انہوں نے کیا کیا ان 365 دنوں میں؟

ایک بڑے نیوز چینل نے ماہرین فلکیات کے حوالے سے کہا کہ سال کے آغاز میں چونکہ وینس اپنے مدار سے پیچھے ہٹے گا اس لیے آپ کو مالی مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ آپ اپنی زندگی میں بہتری کی ہر ممکن کوشش کریں گے لیکن خود کو ناکام محسوس کریں گے۔ یہ وقت مئی تک برقرار رہے گا پھر کچھ بہتری کی آشا ہے۔ ترین صاحب باقی چھوڑیں اس وینس کا کوئی بندوبست کریں، کسی طرح اسے پیچھے ہٹنے ہی نہ دیں۔

ایک ایسے وقت جب خود اپنی معیشت کے لالے پڑے ہیں ہم افغانستان کی بھی پانچ ارب روپے سے مدد کرنے جا رہے ہیں۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ اس امداد کی تقسیم سے افغانوں کو فرق پڑے نہ پڑے دونوں ممالک کو لالے پڑ جائیں گے جو متوازی عالمی معیشت کی جانب ایک اچھا قدم ہوگا۔

حکمراں جماعت کے لیے یہ سال اور بھی کئی پہلوؤں کی وجہ سے مشکل ہوگا۔ الیکشن کمیشن میں پھنسے ان کے دو کیس کافی اہم ہیں۔ کمیشن نے چار جنوری سے فارن فنڈنگ کے بظاہر نہ ختم ہونے والے مقدمے کی سرعام مطلب ’کھلی‘ سماعت کرے گا، اب اس میں سے کچھ نکلتا ہے یا نہیں، یہ اہم ہوگا۔

دوسرا اہم مقدمہ 30 پیشیوں کے بعد فیصل واوڈا کی نااہلی کا ہے۔ الیکشن کمیشن نے اپنا فیصلہ 23 دسمبر 2021 کو محفوظ کرکے نئے سال کو سیاسی طور پر دلچسپ بنانے اور ٹاک شوز کو تازہ مواد مہیا کرنے کا بندوبست کر دیا ہے۔ 

سیاست دان کا تو بظاہر کام ہے عوام کے ساتھ مذاق کرنا اور وہ یہ فرض انتہائی تندہی سے تین سو پینسٹھ دن ادا کرتے ہیں۔ کبھی لانگ مارچ اور کبھی استعفوں کا مذاق تو کبھی سیاست دانوں کے ’ایکراس دی بورڈ‘ احتساب کا کئی سالوں سے چل رہا مذاق۔ یہ سب کچھ اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ 2021 میں تو ہوتا رہا لیکن 2022 بھی کوئی زیادہ مختلف دکھائی نہیں دیتا۔

عوام کو تجسس میں مبتلا اور دیگر غلط سوچوں سے دور رکھنے کے لیے مسلم لیگ نواز کے قائد میاں نواز شریف کی جنوری میں آمد کے مذاق کا اہتمام گذشتہ ماہ ہی اچھے طریقے سے کر دیا گیا تھا۔ اب اگلے بارہ ماہ قوم اسی شش و پنج میں رہے گی کہ وہ آ رہے ہیں کہ نہیں آ رہے۔ آنا تو ان کا ضروری ہوگیا ہے کیونکہ عام انتخابات کے کاونٹ ڈاؤن کا بھی اسی سال آغاز ہونا ہے۔ اب یہ ان کے لیے ضروری ہے کہ واپس آ کر اپنی جماعت کو ’اخلاقی برتری‘ دلانے کی کوشش کریں۔ ان کا آنا تو ٹھر گیا ہے لیکن وہ آ کر ٹھہریں گے کہاں، یہ ابھی واضح نہیں۔

ہمسایہ ملک افغانستان سے متعلق بڑا سوال یہی ہوگا کہ نئے حکمرانوں کو اس سال بین الاقوامی طور پر تسلیم کیا جائے گا یا نہیں؟ روس جیسے ملک کہہ رہے ہیں کہ یہ بات ابھی قبل از وقت ہے۔ رابطے تو سب نے براہ راست قائم کر رکھے ہیں لیکن تسلیم کیے جانے پر بظاہر کسی کو جلدی نہیں۔ طالبان خشک سالی کے خاتمے کے لیے نماز استسقاء  ادا کر رہے ہیں لیکن تسلیم کیے جانے کے سلسلے میں بارش کا پہلا قطرہ کیا اس برس گر پائے گا؟ باقی اشرف غنی سے ہم ساتھ لے جانے والے ڈالروں کا حساب آخری دم تک مانگتے رہیں گے چاہے یہ سچ ہو یا جھوٹ۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سال نو میں اور بھی بہت چیلنج درپیش رہیں گے۔ کرونا کا انسانوں کے ساتھ مذاق بھی سنگین سے سنگین تر ہوتا جا رہا ہے لیکن اس سے بڑا مذاق بعض لوگوں کا اسے ابھی تک اس حقیقت کو نہ ماننا بھی ہے۔ امید ہونی چاہیے کہ نئے سال میں یہ دونوں مذاق اختتام کو پہنچیں ورنہ امریکی ریاست کیلیفورنیا کے اس شخص کی مثال بہترین ہے جس نے جولائی 2021 میں سوشل میڈیا پر کوویڈ 19 ویکسین کا مذاق اڑایا تھا لیکن اسی وائرس سے ایک ماہ تک جاری رہنے والی جنگ کے بعد زندگی کی بازی ہار گیا۔

اومیکرون دعا ہے کہ آخری قسم ثابت ہو لیکن یہ مصیبت آسانی سے انسان کا پیچھا چھوڑنے والی نہیں دکھائی دیتی۔ چینیوں سے یہاں گزارش ہے کہ چمگادرڑوں سے جتنا ہوسکے دور رہیں، کرونا سے نمٹتے نمٹتے کہیں کوئی دوسرا رونا نہ آ جائے۔

مشہور امریکی مصنفہ اور ہدایت کار زورا نیل ہرسٹن نے ایک بار کہا تھا کہ ’بعض سال سوال اٹھاتے ہیں اور بعض برس جواب دیتے ہیں۔‘ پاکستان میں تو سوال اکثر اٹھتے ہیں لیکن جواب کم ہی ملتے ہیں۔ آیندہ سال بھی یہی کچھ شاید ہو۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ