پاکستان سیاحوں کی جنت کیوں نہیں بن سکا؟

پاکستان کے قدرتی دامن میں برفیلے پہاڑ، چوڑے دریا، زرخیز میدان، وسیع صحرا اور گہرے سمندر سمٹے ہوئے ہیں۔ اس کے باوجود سیاحت کی صنعت کبھی پوری طرح سے پنپ نہیں سکی۔

کراچی میں ایک سیاح 31 دسمبر 2021 کو ساحلِ سمندر پر سیلفی لے رہا ہے (اے ایف پی)

یہ تحریر کالم نگار کی زبانی سننے کے لیے نیچے کلک کریں

 

دنیا کے کئی ممالک نے سیاحت کو صنعتی پیمانے پر فروغ دے کر اسے زرِ مبادلہ حاصل کرنے کا بڑا ذریعہ بنا لیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں بھی حکومتی سطح پر 2025 تک سیاحت کے شعبے میں قابلِ ذکر ترقی کرنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

سیّاحوں کو جو چیزیں اپنی جانب کھینچتی ہیں ان میں قدرتی حسین مناظر، تاریخی عمارتیں اور علاقے، نایاب اشیا، قدیم روایتی تہوار، مذہبی اور روحانی مقامات اور نامورشخصیات کی آخری آرام گاہیں اور کسی حد تک مشہور پسندیدہ شخصیات سے وابستہ علاقوں کی سیر وغیرہ شامل ہیں۔

خوش قسمتی سے پاکستان کا شمار ان ملکوں میں ہوتا ہے جو دنیا بھر کے سیاحوں کو اپنی جانب کھینچنے کے وہ سارے لوازمات رکھتا ہے جن کا ذکر ابھی کیا گیا ہے۔

اس کے قدرتی دامن میں برفیلے پہاڑ، چوڑے دریا، زرخیز میدان، وسیع صحرا اور گہرے سمندر سمٹے ہوئے ہیں۔ اس کے باوجود سیاحتی صنعت کبھی پوری طرح سے پنپ نہیں سکی۔

پاکستان میں سیاحت کے فروغ میں آخر کیا رکاوٹیں رہی ہیں جو اسے صنعت بننے سے روکتی رہی ہیں، یہ جاننے کےلیے کچھ وجوہات پر غور لازمی ہے۔

جن خواہشات کو ذہن میں رکھ کر ایک سیاح کسی علاقے کا انتخاب کرتا ہے وہاں ان اہم چیزوں کی دستیابی ضرور دیکھتا ہے:

  • وہ علاقہ کتنا محفوظ ہے
  • وہاں تک پہنچنے اور گھومنے پھرنے میں کتنی آسانیاں ہیں
  • مقامی طور پر کیا کیا سہولیات ہیں بشمول گائیڈ اور لوگ سیاحوں کی طرف کس حد تک دوستانہ رویہ رکھتے ہیں
  • علاقے میں ذرائع آمد و رفت کے کیا انتظامات ہیں اور حفظانِ صحت کی صورتِ حال کس حد تک تسلی بخش ہے
  • غیر ملکی کرنسی کی مقامی کرنسی میں تبدیلی کے مراکز مناسب جگہوں پر موجود ہیں
  • ایمرجنسی کی صورت میں ابتدائی طبی امداد اور ریسکیو کا نظام کتنا فعال ہے

پاکستان میں بلا شبہ وہ تمام عناصر موجود ہیں جو کسی غیر ملکی سیاح کے لیے کشش کا باعث بن سکتے ہیں۔ اگر کوئی اونچی برفیلی چوٹیوں کو چھونا چاہتا ہے تو آٹھ ہزار میٹر سے بلند پانچ پہاڑ جو eight thousanders کہلاتے ہیں، چیلنج کرتے ہیں کہ آؤ ہمیں سر کرو۔ ایک دو نہیں بلکہ دنیا کے آٹھ ہزار میٹر بلند کل 14 پہاڑوں میں سے پانچ پاکستان میں شان سے ایستادہ ہیں۔

دنیا کے تین بلند ترین پہاڑی سلسلے ہمالیہ، ہندو کش اور قراقرم پاکستان میں ملتے ہیں۔ دنیا کی دوسری بڑی بلند ترین چوٹی کے ٹو یہیں پائی جاتی ہے۔ قدرتی حسن کے شیدائیوں کے لیے جھیل سیف الملوک، دیو سائی، شیندور، کالام، سکردو، شنگریلا، کیلاش، سوات، مالم جبّہ اور ایسی کتنی ہی اور جگہیں کشش سے بھر پور ہیں۔

صحرائی طلسم سے لبریز چولستان اور تھر قدرت نے ہمیں ہی بخشے ہیں۔ انسانی عقل کو دنگ کر دینے والے قلعہ دراوڑ اور رانی کوٹ یہیں ہیں۔

پانچ ہزار سال قدیم، ہڑپّہ، موہن جودڑو اور مہرگڑھ کے آثار یہیں ہیں۔

سکندر یونانی کے ساتھیوں کی اولاد ہونے کا دعویٰ کرنے والے نیلگوں اور سبز مائل آنکھوں والے وادیِ کیلاش کے خوبصورت مہمان نواز لوگ یہیں ملتے ہیں-

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دنیا کا سب سے بلند پولو گراؤنڈ شیندور یہاں ہے۔

دنیا کی دوسری بڑی نمک کی کان کھیوڑہ اسی ملک میں ہے اور صدیوں کے طلسمی رنگ اپنے غاروں میں سمیٹے ہوئے ہے۔ یہاں کی سیر زندگی بھر یاد رہ جانے والا تجربہ بن جاتی ہے۔

روحانی منزلوں کے متلاشی مسافروں کے لیے صوفیوں کی کتنی ہی آخری آرام گاہیں، داتا گنج بخش، مادھو لال حسین، بابا گرو نانک، رحمان بابا، میاں محمد بخش، شاہ رکن الدین، شاہ عبداللطیف بھٹائی اور عبداللہ شاہ غازی، سب یہیں ہیں۔

دنیا بھر میں انوکھے سمجھے جانے والے چوکھنڈی اور مکلی کے قبرستان یہیں ہیں۔ کہتے ہیں کہ دنیا میں کل ڈھائی قلندر ہیں تو ان میں سے ایک، لال شہباز قلندر یہیں سہون شریف میں ابدی نیند سو رہے ہیں۔

انسانی محبت کو الہامی درجے تک لے جاتی رومانوی داستانیں ہیر رانجھا، سوہنی مہیوال، مرزا صاحباں، سسّی پنوں کے کردار یہیں کے ہیں۔ چناب کے کنارے سوہنی کا شہر گجرات، مائی ہیر کا مزار، اپنے وقت کا شاہکار شہر، بھمبور کے آثار اور ٹلّہ جوگیاں میں دل والوں کے لیے منفرد کشش ہے۔

مینوں پار لنگاہ دے وے گھڑیا
منتاں تیریاں کردی
ہیر آکھیا جوگیا جھوٹ بولیں
تے کون رٹھڑے یار مناوندا اے
نی سسّیے بے خبرے تیرا لٹیا ای شہر بھمبور

اپنے وقت کا باغی بلھے شاہ جس کے گیت ملکوں ملکوں گاۓ جاتے ہیں، یہیں قصور شہر میں دائمی پڑاؤ ڈالے ہوئے ہے۔

بلھے شاہ اساں مرنا ناہیں
گور پِیا کوئی ہور

جہلم میں کٹاس راج، قلعہ روہتاس متجسس روحوں کے منتظر رہتے ہیں۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان 1947 میں معرضِ وجود میں آیا لیکن ایک حقیقت اس سے بھی پرانی ہے کہ اس دھرتی پہ ہر قدم پھیلا ہوا تہذیبی رنگ ہزاروں سال سے موجود ہے لہذا عالمِ تاریخ میں اس کی جڑیں کہیں گہری اور مضبوط ہیں۔

پاکستان میں سیاحتی مقامات کی کمی نہیں۔

لاہور میں بادشاہی مسجد، شاہی قلعہ، شالا مار باغ، رنجیت سنگھ کی مڑی، جنوب میں تقریباً ایک ہزار کلو میٹر لمبی ساحلی پٹی کے علاوہ گہرے سمندر کی دو بندر گاہیں کراچی اور گوادر یہیں ہیں۔ ان سمندر کی لہروں پر بڑے جہاز اور چھوٹی کشتیاں یکساں تیرتی پھرتی ہیں لیکن کراچی سے دبئی تک کے کروز کا بھی نہیں سوچا جاتا۔

اس کے علاوہ پاکستان میں مذہبی سیاحت کے امکانات بھی بےتحاشا ہیں۔ ایک طرف کٹاس راج ہے جسے ہندو اپنے متبرک ترین مقامات میں سے ایک سمجھتے ہیں تو دوسری جانب سکھوں کے لیے مقدس ترین مقام کرتارپورہ ہے۔

اس کے علاوہ بدھ مت کے پیروکاروں کی دلچسپی کے لیے بھی ملک میں جگہ جگہ پرکشش مقامات کی کوئی کمی نہیں۔ 

انسانی تاریخ میں قدیم ترین درس گاہوں میں سے ایک ٹیکسلا میں ہے جو اسی ملک میں ہے۔ گندھارا اور بدھ مت کی کہانیاں ملک میں جگہ جگہ پر کندہ ہیں۔

اونچے شمالی پہاڑوں سے نیچے مارگلہ کی پہاڑیوں کے دامن میں واقع جدید شہر اسلام آباد جو پاکستان کا دارالحکومت بھی ہے، اس کے پہاڑی دامن میں ایک قدیم بستی سیَد پور واقع ہے جس میں ایک جانب مندر اور دوسری جانب گوردوارہ ملتا ہے جہاں اب تک لاکھوں انسانوں نے سر جھکائے ہوں گے۔

سوال ایک ہی ہے کہ آخر ان سارے بیش بہا خزانوں کے ہوتے ہوے بھی یہ ملک سیاحوں کی جنت کیوں نہیں بن سکا؟

جواب بہت سے ہیں۔ ایک تو یہ کہ امن و امان کی صورتِ حال میں بہتری آنے کے باوجود کرونا وائرس کی یلغار نے دنیا بھر میں سیاحت کے پر کاٹ ڈالے ہیں اور پاکستان بھی اس کا شکار ہوا ہے لیکن ان وقتی رکاوٹوں سے ہٹ کرمستقل بنیادوں پر دیکھا جائے تو کچھ بڑی وجوہات سامنے آتی ہیں:

ایک تو یہ کہ آج کی دنیا تشہیر (مارکٹنگ) کی دنیا ہے۔ کسی جگہ کی خوبصورتی کے پراڈکٹ کو بیچنے کے لیے اس کی مناسب تشہیر بین الاقوامی معیار کے مطابق کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اپنے امیج کو بہتر کرنے اور اپنی سہولیات کی موجودگی کا اظہار کرنے کے مواقع تلاش کرنے پڑتے ہیں۔ سکیورٹی اور غیر معمولی حالات میں مناسب انتظامات کا یقین دلانا پڑتا ہے۔

(اب مری میں حادثے کے بعد یہ کام زیادہ مشکل ہو گیا ہے جس کے اثرات زائل کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔)

اب یہ تو خبر نہیں کہ امیج بلڈنگ کے لیے پاکستان کے دنیا بھر میں قائم سفارت خانے کس حد تک کوشش کرتے ہیں لیکن یہ خواہش ضرور ہے کہ کاش یہ کوششیں کامیاب ہو کر رنگ بھی لائیں۔

اندرونی طور پر ایک بڑی وجہ نسبتاًخطرناک پہاڑی راستوں کو محفوظ بنانا ہے۔ شمالی علاقوں کے کچھ حصوں میں یہ کام بہت توجہ مانگتا ہے۔

اس کے علاوہ مقامی لوگوں کا روّیہ سیاحوں سے اگرچہ دوستانہ ہے لیکن صفائی کی عمومی صورتِ حال بعض تاریخی مقامات پر بھی غیر تسلی بخش ہے جس کو بہتر بنائے جانے کیوں ضروری نہیں سمجھا جاتا۔

آخر میں بس یہی عرض ہے کہ حکومتی سطح کے علاوہ ’ملت کے مقدر کا ستارہ‘ یعنی ہر شہری اپنے اپنے انفرادی رنگ میں بھی مجموعی امیج بہتر بنانے اور صفائی رکھنے کی ذمہ داری ادا کرے تو دنیا بھر کے زیادہ سے زیادہ سیاح اس منفرد سرزمین کے حسن سے فیض یاب ہو سکتے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر