کیا سیاحت کے لیے فطرت کا قتل ضروری ہے؟

ناران کو دیکھ کر دل کی دھڑکن رک گئی۔ دور دور تک خیمے، ڈیزل کی بدبو، گندگی نے ہمارا استقبال کیا۔ جس کو پانچ مرلے ملے اس نے جیسا تیسا ہوٹل کھڑا کر لیا۔

ضلع مانسہرہ میں وادی ناران کا ایک منظر۔  علاقے میں جہاں سیاحت میں اضافہ ہوا ہے وہیں آلودگی بھی بڑھ رہی ہے (اے ایف پی فائل)

یہ کوئی آج سے دس سال قبل کی بات ہے جب پہلی بار ناران گیا۔ خوبصورتی ایسی کہ انسان کا دل چاہے کہ سیمینٹ سے بنے گھروں اور شہروں کو چھوڑیں اور ادھر ہی مستقل سکونت اختیار کر لیں۔

جھیل سیف الملوک کا چکر لگا تو ایک ایسی جھیل دیکھی جو اپنی اصل حالت میں تھی اور ماحول ایسا کہ سانس لینے کا مزہ آئے۔

اس سے آگے نکلے تو بابوسر ٹاپ پہنچے۔ چند کھوکھے جہاں چائے اور پکوڑے مل رہے تھے۔ چاروں طرف نظر دوڑاؤ تو برف سے ڈھکی چوٹیاں جو  واقعتاً سوئٹزرلینڈ سے کم نہیں تھیں۔

واپس آئے تو سارے دوستوں رشتہ داروں کو مشورہ دیا بلکہ پرزور اصرار کیا کہ ضرور ناران کا چکر لگایا جائے۔ پانچ چھ سال گزر گئے تو ایک بار دوبارہ پلان بنا کہ ناران کا چکر لگایا جائے اور شہر کی گہما گہمی اور شور شرابے سے دور جایا جائے۔

جیسے ہی ناران سامنے آیا تو جیسے دل کی دھڑکن رک گئی۔ اس بار دھڑکن کسی اور وجہ سے رکی تھی۔ دور دور تک خیمے، ڈیزل کی بدبو، گندگی نے ہمارا استقبال کیا۔ جس کو پانچ مرلے ملے اس نے جیسا تیسا ہوٹل کھڑا کر لیا۔

جھیل سیف الملوک جو صاف شفاف تھی کہ اس میں آس پاس برف سے ڈھکے پہاڑوں کا عکس نظر آتا تھا اس میں گندگی نظر آنے لگی۔ ڈیزل سے چلنے والی مشہور وِلی جیپیں جو پہلے جھیل سے دور رک جایا کرتی تھیں اس بار جھیل کے قریب پارک ہونے لگیں۔

دوسری جانب بابوسر ٹاپ پر سیمینٹ کے سٹرکچر کھڑے تھے۔ وہ ٹاپ جہاں آپ کہیں بھی کھڑے ہو جائیں اور آپ پہاڑوں کے نظارے لے سکتے تھے اب آپ کو ایسی جگہ ڈھونڈنی پڑتی ہے جہاں سے آپ کو پہاڑوں کا نظارہ مل سکے۔

اب یہ تو تھی ناران کی کہانی اب چلتے ہیں گلگت بلتستان کے ہنزہ کی جانب۔ عطا آباد جھیل کو ہی دیکھ لیں۔ صاف شفاف جھیل جہاں دور دور سے لوگ آتے ہیں۔ اور پھر ایک عالیشان، امرا کے لیے ہوٹل کھول دیا گیا۔ ایک رات کا کرایہ 25 سے 35 ہزار روپے۔

سیاحت کے لیے تو اچھی بات ہے لیکن پھر تصاویر آنی شروع ہو گئیں جن میں دکھایا گیا کہ کیسے اس ہوٹل سے نکلنے والی گندگی نے جھیل میں ایک کالی لکیر پھیلا دی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

میں نے عطا آباد کو بننے دیکھا اور بعد میں ایک دو بار اس وقت بھی دیکھا جب آپ اس جھیل پر جا کر کشتی کی سیر کریں اور انجوائے کریں۔ لیکن جھیل میں گندگی نے دل توڑ دیا ہے۔ 

چلیں یہ تو سیاحت کی بات ہوئی۔ اب بات کرتے ہیں گلگت بلتستان حکومت کی۔

ٹوؤر ڈی خنجراب سائیکل ریس کی افتتاحی تقریب تھی۔ تمام سائیکلسٹ ذہنی طور پر تیار ہو رہے تھے اور تقاریر کا سلسلہ جاری تھا۔ اور اس میں اعلان کیا گیا کہ سائیکل ریس کے ساتھ ساتھ ماؤنٹین بائیک ریس کا بھی انعقاد کیا جائے گا۔

بہت خوب یہ تو بڑے مزے کی ہو گی۔ لیکن اگلے ہی لمحے اعلان کیا گیا کہ یہ ماؤنٹین بائیک ریس کے ٹو بیس کیمپ پر اختتام پذیر ہو گی۔ کیا؟ ہیلو بھائی ماحولیات کا سوچا ہے؟ اس ماؤنٹین بائیک ریس سے ماحولیات پر کیا اثر پڑے گا؟

پاکستان کی موجودہ حکومت نے سیاحت پر توجہ مرکوز کی ہوئی ہے جو کہ خوش آئند ہے۔ پاکستان میں سیاحت کی صنعت میں سیاسی اور سکیورٹی وجوہات کی بنا اتار چڑھاؤ آتا رہا ہے۔

سنہ 2016 میں سفر اور سیاحت کی صنعت کا جی ڈی پی میں 6.9 فیصد حصہ تھا یعنی 19.4 ارب ڈالر تھا جو کہ ایک اندازے کے مطابق 2027 تک سفر اور سیاحت کا جی ڈی پی میں حصہ 7.2 فیصد تک بڑھنے کا امکان ہے۔

اور کیوں نہ بڑھے۔ دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی اور کئی آٹھ ہزار میٹر بلند چوٹیوں کا یہ ملک ہے، بے بہا آثار قدیمہ کی جگہیں، دریا، ایک طرف چولستان کا ریگستان ہے تو دوسری جانب  سرفرنگا کا سرد ریگستان۔

سیاحت معاشی ترقی کے لیے بہت اہم ہے کیونکہ اس سے ذر مبادلہ ملک میں آتا ہے، روزگار کے مواقعے پیدا ہوتے ہیں۔ لیکن اگر اس کی صحیح طور پر بگرانی نہ کی جائے تو اس کے منفی اثرات بھی ہوتے ہیں جیسے کہ ماحول کی آلودگی، مقامی تہذیب کا خاتمہ وغیرہ۔

لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاحت کی صنعت میں ڈیولیپمنٹ ایسے کی جائے جو sustainable یعنی پائیدار ہو۔ وسائل کا استعمال اس طریقے کیا جائے کہ اس علاقے کی قدرتی خوبصورتی اور حیاتیاتی تنوع برقرار رہے۔ مقامی آبادی کے سماجی اور تہذیبی روایات برقرار رہیں۔ اور سب سے اہم کہ سیاحت سے فائدہ مقامی آبادی تک بھی منتقل ہو نہ کہ صرف بڑے کاروبار ہی فائدہ اٹھائیں۔ اس سے مقامی مفلسی کا خاتمہ ہو گا اور مقامی آبادی اس کو زیادہ سے زیادہ فروغ دینے میں حصہ لے گی۔

ہمارے لیے جو پروموشن کا بہترین طریقہ ہے وہ مقامی افراد کے لیے نہیں ہوتا۔ 2019 میں ٹوؤر ڈی خنجراب کے لیے گیا تو ایک رکشہ خنجراب پاس پر پہنچا ہوا۔ مقامی افراد اس پروموشن سے بالکل خوش نہیں تھے اور ان کا کہنا بجا تھا کہ اس قسم کی ’حرکتوں‘ سے ماحول خراب ہو رہا ہے۔

نتھیا گلی میں سیاحت کو فروغ دینے کی ضرورت ہے لیکن کیا صوبائی حکومت نے یہ سوچا کہ کیا ضروری ہے کہ سیاحت کے فروغ کے لیے بڑے بڑے ہوٹل ہی تعمیر کیے جائیں۔ کیا چھوٹے لیکن بہترین سہولیات کے ساتھ ہوٹل مقصد پورا نہیں کر سکتے۔ چھوٹے کاروباروں کی حکومت مدد کرے اور باقاعدہ گائیڈ لائنز دے جس کے تحت چھوٹے ہوٹل یا کاٹیجز تعمیر کیے جائیں۔ کیا درختوں اور قدرتی مناظر کو قتل کر کے بڑے بڑے ہوٹل بنانا ضروری ہے؟

ماحولیات اور پائیدار سیاحت کے فروغ کے لیے ایک خود مختار ماحولیاتی کمیشن ہو جو سیاحتی ڈیویلیمپنٹ کا جائزہ لے اور اس کی اجازت دے۔

لیکن سیاحت کو پائیدار بنانا صرف کنٹرول کرنے اور منفی اثرات کو قابو کرنا ہی نہیں ہے۔ سیاحت مقامی آبادی کے لیے ایک شاندار موقع ہے جس سے ان کو معاشی اور سماجی فائدہ ہو گا اور ماحول کی حفاظت کے لیے آگاہی بھی کی جا سکتی ہے۔ سیاحتی صنعت کو معاشی ترقی اور ماحولیاتی حفاظت کو ایک دوسرے کی مخالف کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے۔ اگلے آنے والے سالوں میں پاکستان میں سیاحت کو بہت فروغ ملے گا جس سے معاشی ترقی اور روزگار میں تو اضافہ یقینی ہے لیکن ساتھ ہی ماحول اور مقامی آبادی کو ممکنہ خطرات کا بھی سامنا ہو گا اگر اقدامات نہ اٹھائے گئے۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ