چینی نیا سال کیسے مناتے ہیں؟

چین میں آج سے نیا سال منایا جا رہا ہے، مگر اس سال بھی بہت سے چینی اپنے خاندانوں سے الگ ہی اس تہوار کو منائیں گے۔

یکم فروری یعنی آج سے چین میں نئے قمری سال کا آغاز ہو رہا ہے۔ نئے قمری سال کا جشن چین سمیت ایشیا کے کئی ممالک میں منایا جاتا ہے تاہم، یہ چین کی نسبت سے زیادہ مشہور ہے۔ اس لیے اسے نیا چینی سال بھی کہا جاتا ہے جو کہ کچھ چینی کرونا وبا میں اکلیے ہی منائیں گے۔

چینیوں کے لیے یہ سال کا سب سے بڑا اور اہم تہوار ہے۔ وہ ہر سال نئے سال کے آغاز سے قبل اپنے آبائی گھروں کو لوٹتے ہیں اور نئے سال سے ایک شام قبل اپنے خاندان اور رشتے داروں کے ہمراہ ڈمپلنگ کھاتے ہوئے اور چینی شراب پیتے ہوئے نئے سال کا استقبال کرتے ہیں۔

لیکن کرونا کی عالمی وبا کی وجہ سے بہت سے چینی پچھلے دو سالوں سے اس تہوار کو اپنے خاندان کے ساتھ منانے کے لیے گھر نہیں جا سکے ہیں۔

ڈاکٹر مئی کھوی ان میں سے ایک ہیں۔ ڈاکٹر کھوی چین کے دارالحکومت بیجنگ میں قائم پیکنگ یونین میڈیکل کالج ہسپتال میں بطور ڈاکٹر کام کر رہے ہیں۔ ان کا تعلق چین کے مغربی صوبے ہوبئی کے ایک چھوٹے سے شہر اَن شی سے ہے۔

ڈاکٹر کھوی کرونا کی وبا کے آغاز سے بیجنگ میں موجود ہیں۔ انہیں ان کے ہسپتال کی طرف سے بیجنگ سے باہر جانے کی اجازت نہیں ہے۔

ان کے بہت سے دوست چھٹیاں ہوتے ہی اپنے آبائی گھروں کو چلے گئے تھے، مگر وہ اپنے ہسپتال کی پالیسی کی وجہ سے اپنی چھٹیاں بیجنگ میں ہی گزاریں گے۔

ڈاکٹر کھوی کے لیے یہ سال کا اداس ترین وقت ہے۔ اگر کرونا کی وبا نہ آئی ہوتی یا ختم ہو چکی ہوتی تو وہ اس وقت اپنے آبائی گھر میں اپنے والدین، بھائی اور دیگر رشتے داروں کے ساتھ نئے سال کا جشن منا رہے ہوتے۔

ان کا کہنا تھا: ’میں کرونا کی وبا کی وجہ سے گھر نہیں جا سکتا۔ میں اکیلے بیجنگ میں رہوں گا۔ میں پہلے اپنا گھر صاف کروں گا، پھر کچھ خریداری کروں گا اور پھر کچھ کھانے کے لیے بناؤں گا۔ اگر میرے پاس وقت ہوا تو میں کچھ پیپر پڑھوں گا اور پھر باہر سیر کرنے جاؤں گا۔‘

ڈاکٹر کھوی کی طرح بہت سے چینی نئے قمری سال کا آغاز اکیلے کریں گے۔ چین میں وبا کی وجہ سے لوگوں کی آزادانہ نقل و حرکت پر ابھی تک پابندیاں عائد ہیں۔ بیجنگ میں چار فروری سے شروع ہونے والے سرمائی اولمپکس کی وجہ سے بھی زیادہ سخت قوانین لاگو ہیں۔

ڈاکٹر کھوی کو روزانہ اپنا نیوکلئیک ایسڈ ٹیسٹ کروانا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ انہیں دن میں تین بار ایک ایپ میں اپنا درجہ حرارت اور اپنی لوکیشن کا اندراج بھی کرنا پڑتا ہے۔ اندراج نہ کرنے کی صورت میں انہیں دو سو سے پانچ سو یوآن تک کا جرمانہ ادا کرنا پڑ سکتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ڈاکٹر کھوی نے اپنے فون پر ہر وقت کے اندراج کے لیے تین الارم لگا رکھے ہیں۔ ان کا الارم جب بجتا ہے، وہ فون کھولتے ہیں اور ایپ میں اپنی لوکیشن اور درجہ حرارت درج کرتے ہیں۔

چیتے کا سال

قمری سالوں کو چینی برج کے بارہ جانوروں کی مناسبت سے جانا جاتا ہے۔ ہر سال ایک جانور کا سال ہوتا ہے۔ یہ چیتے کا سال ہے۔ پچھلا سال بیل کا تھا۔

چینی عقائد کے مطابق ہر سال پر اس سے منسوب جانور کی خصوصیات کا گہرا اثر ہوتا ہے۔ اس سال میں پیدا ہونے والے بچے اس سال سے منسوب جانور کی خصوصیات رکھتے ہیں۔

ڈاکٹر کھوی 1987 میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ خرگوش کا سال تھا۔ خرگوش کے سال میں پیدا ہونے والے لوگوں کے بارے میں سمجھا جاتا ہے کہ وہ رحم دل، مشہور اور نفیس ہوتے ہیں۔

ڈاکٹر کھوی چینی برج اور اس سے جڑے عقائد پر یقین نہیں رکھتے۔ اس لیے جب ان سے پوچھا گیا کہ چیتے کے سال میں پیدا ہونے والے لوگوں کی کیا خصوصیات ہوتی ہیں تو انہوں نے کہا کہ وہ اس بارے میں زیادہ نہیں جانتے۔

تاہم، چینیوں کا ماننا ہے کہ چیتے کے سال میں پیدا ہونے والے لوگ چیتے کی طرح نڈر اور ہوشیار ہوتے ہیں۔

ہر سال پانچ عناصر دھات، پانی، لکڑی، آگ اور زمین میں سے ایک کے ساتھ بھی منسلک ہوتا ہے۔

اس سال کا عنصر پانی ہے۔ چیتے اور پانی کے مرکب میں پیدا ہونے والوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ گھریلو ہوتے ہیں اور اپنے قریبی رشتوں کو نبھانے میں کمال رکھتے ہیں۔

چینی نئے سال پر کیا کرتے ہیں؟

نئے سال کے قریب چین میں عوامی جگہوں کو سرخ رنگ کی لالٹینوں اور دیوار پر لٹکانے والی دیگر سجاوٹی اشیا سے سجایا جاتا ہے۔

اس وقت بازاروں اور شاپنگ مالز میں ہر طرف سرخ سجاوٹی اشیا نظر آتی ہیں۔ کپڑوں، جوتوں، جرابوں، اور زیرِ جامہ سمیت ہر چیز سرخ رنگ میں خریداروں کے لیے رکھی ہوتی ہیں۔

چینی نئے سال کے موقع پر اپنے لباس اور جوتوں میں کم از کم ایک سرخ چیز کا استعمال ضرور کرتے ہیں۔ ان کے مطابق اس موقع پر سرخ رنگ پہننا ان کے لیے آنے والے سال میں خوش قسمتی لے کر آئے گا۔

چینی نئے سال کے آغاز سے قبل اپنے گھروں کی تفصیلی صفائی کرتے ہیں۔ گھر کے دروازے کے باہر سرخ رنگ کے بینر لٹکاتے ہیں جن پر گھر میں داخل ہونے والوں کے لیے نیک تمنائیں لکھی ہوتی ہیں۔

چائنہ میڈیا گروپ نئے قمری سال سے ایک شام قبل ایک تفریحی پروگرام نشر کرتا ہے جسے انگریزی زبان میں سپرنگ گالا اور چینی زبان میں چُھن وان کہا جاتا ہے۔ یہ دنیا میں سب سے زیادہ دیکھا جانے والا تفریحی پروگرام ہے۔

چینی اس شام اپنے گھر والوں کے ساتھ مل کر ڈمپلنگز بناتے ہوئے چُھن وان دیکھتے ہیں۔

ملک کے مشہور ستارے اس پراگرام میں حصہ لیتے ہیں اور اپنی صلاحیتوں سے لوگوں کو محظوظ کرتے ہیں۔

اس پراگرام میں ہر سال چائنہ میڈیا گروپ اپنی نئی ٹیکنالوجی کا طاقت ور اظہار کرتا ہے۔

سرخ لفافے اور سرخ تحائف

چینی اس موقع پر ایک دوسرے کو مختلف تحائف دیتے ہیں۔ نئے سال کے قریب ہر کمپنی سرخ رنگ کے گفٹ پیک بناتی ہے۔ لوگ اپنی مرضی کے گفٹ پیک خرید کر اپنے دوستوں اور عزیزوں کو نئے قمری سال کے تحفے کے طور پر دیتے ہیں۔

بچوں کے لیے پیسوں سے بھرے ہوئے سرخ لفافوں کا انتظام کیا جاتا ہے۔ انٹرنیٹ عام ہونے کے بعد یہ رسم بھی ورچوئل ہو گئی ہے۔  چینی میسجنگ ایپ وی چیٹ پر ہانگ باؤ کے نام سے ایک آپشن موجود ہے جس کے ذریعے لوگ ایک دوسرے کو پیسوں سے بھرے سرخ رنگ کے ورچوئل لفافے بھیج سکتے ہیں۔

ڈاکٹر کھوی اپنے گھر والوں کے ساتھ نئے قمری سال کی خوشیاں تو نہیں منا سکتے ورنہ وہ اپنے گھر والوں اور رشتے داروں کے لیے بڑے بڑے سرخ ڈبوں والے گفٹ پیک خریدتے۔ تاہم، وہ اپنے والدین اوربھتیجوں کو وی چیٹ پر ہانگ بائو ضرور بھیجیں گے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا