ریٹائرمنٹ کے بعد کتنے ججوں نے سکیورٹی کا مطالبہ کیا؟

حال ہی میں چیف جسٹس پاکستان کے عہدے سے ریٹائر ہونے والے جسٹس گلزار احمد نے ریٹائرمنٹ سے چند دن قبل بذریعہ رجسٹرار وزارت داخلہ کو اضافی فول پروف سکیورٹی کے لیے خط لکھا ہے۔

پاکستانی ججوں کا ایک قافلہ یکم  جنوری 2014 کو اسلام آباد کی خصوصی عدالت کی عمارت سے سابق فوجی حکمران پرویز مشرف کے کیس کی سماعت کے بعد روانہ ہوتے ہوئے (فائل فوٹو:  اے ایف پی /فاروق نعیم)

حال ہی میں ریٹائر ہونے والے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس گلزار احمد نے ریٹائرمنٹ سے چند دن قبل بذریعہ رجسٹرار وزارت داخلہ کو اضافی فول پروف سکیورٹی کے لیے خط لکھا ہے۔

جسٹس گلزار احمد رواں ماہ دو فروری کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے ہیں، جس کے بعد جسٹس عمر عطا بندیال نے چیف جسٹس پاکستان کا عہدہ سنبھالا۔

اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو ریٹائرمنٹ کے بعد مراعات تو میسر ہوتی ہیں لیکن سابق چیف جسٹس گلزار احمد نے وزارت داخلہ کو لکھے گئے مراسلے میں موقف اپنایا کہ انہوں نے دہشت گردی اور ماورائے عدالت قتل سمیت کئی ہائی پروفائل مقدمات کے فیصلے کیے ہیں۔ اس کے علاوہ اقلیتوں کے حقوق، تجاوزات سمیت کئی حساس مقدمات کے فیصلے بھی کیے، اس لیے ریٹائرمنٹ کے بعد انہیں مکان اور سفر کے دوران وسیع تر قومی و عوامی مفاد میں پولیس اور رینجرز کی فول پروف سکیورٹی فراہم کی جائے۔

مزید کہا گیا کہ سابق چیف جسٹس گلزار احمد اور اہل خانہ کی پہلے والی سکیورٹی برقرار رکھی جائے۔

تاہم اسلام آباد ہائی کورٹ کے سابق جج شوکت صدیقی نے سابق چیف جسٹس گلزار احمد کو حاضر سروس جج جتنی سکیورٹی فراہم کرنے کو ’غلط روایت‘ قرار دیا۔

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں انہوں نے کہا: ’یہ بالکل غلط روایت ہے۔ آج گلزار احمد صاحب کو حاضر سروس چیف جسٹس جتنی سکیورٹی دی گئی تو آئندہ کے لیے مثال بن جائے گی اور اس طرح تو ریٹائرڈ چیف جسٹس حکومت کو بہت مہنگے پڑیں گے۔ یہ قومی خزانے پر اضافی بوجھ ہو گا۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ عام حالات میں ہر جج کو ایک جبکہ سابق چیف جسٹس کو تین سرکاری اہلکار دیے جاتے ہیں۔ ’گلزار صاحب نے تو اتنے سخت حساس فیصلے بھی نہیں کیے اور نہ ہی کسی ادارے سے ٹکر لی۔‘

سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے دوران سروس ہی فل کورٹ میں اپنے لیے بعد از ریٹائرمنٹ اضافی مراعات منظور کروا لی تھیں، جن میں ایڈیشنل پرائیویٹ سیکرٹری کا بھی مطالبہ کیا گیا تھا۔

دوسری جانب اپنے عہد میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے 2018 میں تمام وی آئی پی شخصیات، جن میں ریٹائرڈ افسران، سیاسی شخصیات اور ماتحت عدالتوں کے جج شامل تھے، سے پولیس سکیورٹی واپس لینے کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس سے قومی خزانے کو ایک ارب 38 کروڑ روپے کی بچت ہوگی۔

اسی طرح فروری 2021 میں جسٹس ریٹائرڈ عظمت سعید شیخ نے بھی اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد چیئرمین براڈ شیٹ کمیشن سربراہ کی حیثیت سے تعیناتی پر اضافی سکیورٹی کی درخواست کی تھی، جسے منظور کرتے ہوئے کابینہ ڈویژن کے جاری کردہ خط میں لکھا گیا تھا کہ سابق سپریم کورٹ جج کو دو پولیس گاڑیاں فراہم کی جائیں، جن میں سے ایک جیمر گاڑی ہوگی جس میں دو گن مین ہوں گے جبکہ دوسری گاڑی میں چار مسلح پولیس اہلکار ہوں گے۔

ماضی میں سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے بھی ریٹائرمنٹ کے فوراً بعد وزارت داخلہ میں درخواست دی تھی کہ انہیں سکیورٹی خدشات ہیں اس لیے انہیں بلٹ پروف گاڑی فراہم کی جائے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سابق چیف جسٹس افتخار احمد کے خط میں موقف یہ تھا کہ انہیں دھمکیاں موصول ہوئی ہیں اس لیے انہیں بلٹ پروف گاڑی کی ضرورت ہے، جس کے بعد کابینہ ڈویژن نے انہیں وزارت داخلہ کے کہنے پر بلٹ پروف گاڑی مہیا کر دی۔

تاہم مارچ 2018 میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کی سرکاری بلٹ پروف گاڑی رکھنے کے خلاف فیصلہ دیا تھا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ ریٹائر جج صرف آرڈر 1999 کے تحت ریٹائرمنٹ کی مختص کردہ مراعات ہی حاصل کر سکتے ہیں۔

وزارت قانون کے حکام کے مطابق 2014 میں فیڈرل شریعت کورٹ کے سابق چیف جسٹس آغا رفیق نے بھی اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد مرسڈیز واپس نہیں دی تھی۔ اس سے قبل انہوں نے حکومت سے گاڑی رکھنے کی اجازت طلب کی تھی لیکن منظوری نہ ہونے پر فل کورٹ اجلاس میں آرڈر پاس کیا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد چیف جسٹس مرسڈیز جبکہ باقی جج 1800 سی سی سرکاری گاڑیاں لیں گے۔ جس کے بعد اس وقت کے سیکرٹری قانون گاڑی واپس لینے کے لیے معاملہ حکومت کے علم میں لائے تھے۔

انڈپینڈنٹ اردو کو دستیاب ایک سرکاری دستاویز کے مطابق ریٹائرمنٹ کے بعد سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کے پاس کُل 14 ہاؤس گارڈ اور گن مین میسر ہیں جبکہ سابق چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی کے پاس ڈرائیوراور گن مین سمیت چار اہلکار ہیں۔

اسی طرح سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کے پاس صرف ایک ڈرائیور، سابق چیف جسٹس چیف جسٹس ناصر الملک کے پاس تین پولیس اہلکار، سابق چیف جسٹس گلگت بلتستان نواز عباسی کے پاس تین پولیس گارڈ، سابق جج سپریم کورٹ طارق پرویز کے پاس تین پولیس گارڈز جبکہ اس کے علاوہ باقی ریٹائرڈ ججوں کے پاس ایک سرکاری ڈرائیور/گن مین ہے۔

ریٹائر چیف جسٹس کو کیا مراعات حاصل ہوتی ہیں؟

صدارتی آرڈر 1997 کے مطابق ریٹائر جج کو تنخواہ کا 85 فیصد پینشن کے طور پر ملتا ہے۔ اس کے علاوہ گیٹ پر 24 گھنٹے ڈیوٹی دینے والا سکیورٹی محافظ بھی ریٹائر جج کو میسر ہو گا۔
ریٹائر ججز کو کم قیمت پر 1800 سی سی سرکاری گاڑی خریدنے کی سہولت بھی حاصل ہوتی ہے۔ دیگر مراعات میں تین ہزار فون کے بل کی مد میں، دو ہزار بجلی کے ماہانہ یونٹس، 25 ہیکٹو میٹرز یونٹس ماہانہ گیس کی فراہمی، 300 لیٹر ماہانہ پیٹرول اور پانی کی مفت فراہمی شامل ہے۔

2016 میں قوانین میں کچھ ترامیم کی گئی تھیں، جس کے تحت سرکاری ڈرائیور یا اردلی کی سہولت بھی دی جاتی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان