بھارت کی سالمیت اور حجاب

2024 میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں اگر بی جے پی مکمل اکثریت حاصل کرتی ہے تو وہ ہندو راشٹر کے قیام کا اعلان کرسکتی ہے، جس کے لیے حجاب پر پابندی سمیت مذہبی زمین ہموار کرنے کا عمل شروع کیا گیا ہے۔

حیدرآباد دکن میں 15 فروری 2022 کو مسلم ویمن ایسوسی ایشن  کی جانب سے  حجاب  پر پابندی کے معاملے پر احتجاج کیا جارہا ہے(فوٹو: اے ایف پی)

یہ تحریر کالم نگار کی زبانی سننے کے لیے کلک کریں۔

 


بھارت کی ایک ارب سے زائد آبادی کو بخوبی علم ہے کہ اتر پردیش اور دوسری چار ریاستوں میں اسمبلی انتخابات کے دوران کوئی ایسا تنازع شروع کروایا جا سکتا ہے جو ہندو ووٹروں میں مذہبی جنونیت ابھار کر ہندوتوا سوچ رکھنے والی پارٹی کی جیت کو یقینی بنا سکتا ہے۔

گاؤ کشی، تین طلاق، شہریت کے ترامیمی بل اور ’لو جہاد‘ کے بعد کسی کو شاید یہ توقع نہیں تھی کہ مسلم عورتوں کا حجاب پہننے کا معاملہ اس قدر سنگین بنا دیا جائے گا کہ شمال کے بعد جنوب میں جنونیت کی لہر ایک بار پھر اقلیت کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہوگی، جس کی گونج اب او آئی سی سمیت دوسرے عالمی اداروں میں بھی سنائی دینے لگی ہے۔

حیرانی اس بات پر ہے کہ مذہبی جنونیت شمال کے مقابلے میں جنوبی ریاستوں میں اس قدر انتہا کو پہنچی ہے کہ مسلم لڑکیوں کو کلاس میں حجاب پہن کر جانے سے روکا جا رہا ہے۔

بھارت کے آئین میں ہر شہری کو اپنے عقیدے کے مطابق زندگی گزارنے کا حق ہے۔ حالیہ چند برسوں میں مسلمانوں کی خوراک، رہن سہن، ثقافت، شادی و بیاہ اور حصول تعلیم پر پے در پے حملے ہو رہے ہیں اور انہیں ہندو سماج کے تحت زندگی گزارنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔

عورتوں کے لباس اور نقاب کو مسلم مخالف مربوط پالیسی کا ایک تسلسل قرار دیا جا رہا ہے، جو یونیفارم سول کوڈ مسلط کرنے سے پہلے ہندوؤں کو متحد کرنے کی ایک کوشش ہے۔

جنوبی بھارت کا اکثریتی طبقہ ہندو عقیدے پر ایمان رکھتا ہے مگر وہ انتہا پسند نہیں سمجھا جاتا اور نہ دوسرے عقیدے کے لوگوں کے لیے پریشانی کا باعث بنا ہے۔

بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد اس طبقے میں دوسرے مذاہب کے خلاف نفرت بھری سوچ پیدا کی جا رہی ہے، بالخصوص ان ریاستوں میں مسلم مخالف قوانین بھی بنائے جانے لگے ہیں جہاں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت قائم ہوئی ہے۔

یہی کارن ہے کہ جنوبی بھارت کے علاقے اڈیپی کا وہ تعلیمی ادارہ گذشتہ دو ماہ سے خبروں کی سرخیوں میں ہے جب سے جنوری کے اوائل میں چھ مسلم طلبہ نے اس وقت کلاسوں میں جانے سے انکار کیا جب کالج انتظامیہ نے انہیں حجاب کے بغیر کلاس میں جانے کا حکم صادر کیا تھا۔

ادارے کی انتظامیہ نے کہا کہ ریاستی حکومت نے کلاسوں میں حجاب پہننے پر پابندی عائد کی ہے، جس کا وہ اطلاق کر رہی ہے۔

طلبہ کا اس حکم کے خلاف احتجاج اور اس کے بعد دوسرے اداروں سے مسلم طلبہ کی شمولیت کے بعد یہ اس وقت ایک بڑی تحریک میں بدل گیا، جب 19 برس کی طلبہ مسکان خان نے تعاقب کرنے والے ان درجنوں ہندو طلبہ کے جے شری رام کے نعرے کے مقابلے میں اللہ اکبر کا نعرہ بلند کیا جو نارنجی رنگ کی شالیں پہن کر بی جے پی کے بھگوا رنگ کا پرچار کر رہے تھے۔

مسکان خان کی اللہ اکبر والی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی، اقلیتیں بی جے پی کی مسلم کش پالیسی کے خلاف کھل کر بولنے لگیں، اپوزیشن اور مذہبی جماعتیں پہلی بار بی جے پی کی پالیسیوں کے خلاف بیانات دینے لگے۔

بعض رہنماؤں نے یہاں تک کہہ دیا کہ بی جے پی مختلف برادریوں میں پھوٹ ڈال کر ووٹ بٹورنے کا کام کر رہی ہے کیونکہ اس نے ملک کی معیشت اور سیاسی نظام کو مفلوج کرکے چھوڑا ہے، جس پر وہ ہندوتوا کی لہر سے پردہ ڈالنا چاہتی ہے۔

کرناٹک میں جہاں ایک طرف بھگوا رنگ کی شالیں پہن کر طلبہ اور ہندو انتہا پسندوں کے جلوس دیکھے گئے، وہیں دوسری جانب نقاب پوش مسلمان عورتوں کے جلسے جلوس نکلنے لگے، جس کو دیکھتے ہوئے عدالت عالیہ کو ریاست کرناٹک میں تمام تعلیمی اداروں کو اس معاملے پر فیصلہ صادر کرنے تک بند کرنا پڑا-

مسلم طلبہ نے مذہبی آزادی پر روک لگانے کے سکول کے فیصلے کے خلاف کرناٹک کی ہائی کورٹ میں کیس دائر کیا۔ عدالت نے کیس کی سماعت کے دوران اس بات کو ظاہر کیا ہے کہ تعلیمی اداروں میں سب کو ایک جیسی وردی پہننا لازمی ہونا چاہیے اور مسلم طلبہ کو کلاسوں میں نقاب پہننے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

مسلم علما اور بعض سیاسی رہنما حجاب پہننے کے اس معاملے کو ہندوتوا کی ’ثقافتی قوم پرستی‘ یا کلچرل نیشنلزم کی پالیسی سے جوڑ رہے ہیں، جس کا خاکہ ہندوتوا کے رہنما ونایک سوارکر نے1947 سے کئی دہائی قبل تیار کیا تھا۔ انہوں نے لکھا ہے کہ کلچرل نیشنلزم ہندو راشٹر بنانے کی بنیاد ہونی چاہیے جس کو اپنانے سے بھارت کی تقریباً 20 فیصد اقلیتیں مذہب تبدیل کرنے، ہجرت کرنے یا یونیفارم سول کوڈ کے تحت چلنے کے لیے مجبور ہوسکتی ہیں۔

بعض مبصرین کا خیال ہے کہ 2024 میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں اگر بی جے پی مکمل اکثریت حاصل کرتی ہے تو وہ بلا جھجھک ہندو راشٹر کے قیام کا اعلان کرسکتی ہے۔ اسی لیے انتخابات جیتنے کے لیے مذہبی زمین کو ہموار کرنے کا عمل شروع کیا گیا ہے، جس کا آغاز حجاب پر پابندی اور لو جہاد قوانین سے کر دیا گیا ہے۔

اس وقت اتر پردیش میں جاری اسمبلی انتخابات میں بی جے پی اقتدار دوبارہ حاصل کرنے پر پورا زور لگا رہی ہے۔ ریاست میں پارلیمان کی 80 نشستیں ہیں، اسمبلی میں اکثریت حاصل کرنا اس بات کی ضمانت ہے کہ پارلیمان میں بھی اسی پارٹی کو کامیابی حاصل ہو سکتی ہے۔

یہ مثل مشہور ہے کہ جو اتر پردیش پر راج کرے گا وہی پارلیمان پر براجمان ہوگا۔

اتر پردیش کے انتہا پسند ہندو رہنما اور وزیراعلیٰ یوگی آدیتیہ ناتھ نے حجاب پر اپنا شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ملک میں شریعت کا قانون نہیں بلکہ ہندوستان کا قانون چلے گا۔‘

انہوں نے حجاب، جناح اور کشمیر کو انتخابی مہم کے موضوعات بنا کر ہندوتوا کی سوچ کو گہرا کرنے کی کافی کوشش کی جبکہ بی جے پی کے دوسرے رہنماؤں نے مسلمانوں کو وارننگ بھی دی ہے کہ بھارت میں رہنے والوں کو اسلامی قوانین کے بجائےبھارتی اکثریت کی تہذیب کے مطابق چلنا ہوگا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

خیال ہے کہ اس بار اتر پردیش کے انتخابی نتائج سب کو چونکا دیں گے، بالخصوص بی جے پی کے لیے وہ سیاسی منظرنامہ نہیں ہوگا جو پچھلے انتخابات کے دوران دیکھنے کو ملا تھا۔

گو کہ بھارت کی آبادی کے 14 فیصد مسلمان انتہائی ڈرے اور سہمے ہوئے ہیں مگر جس طرح ہندوتوا والے ہندوؤں میں مذہبی جنونیت پیدا کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں، اسی طرح سات دہائیوں تک سیکولرزم کے لحاف کے نیچے مستی میں سوئے ہوئے مسلمان بھی جاگ گئے ہیں۔ وہ اپنے مذہب، ثقافت یا حقوق کے حصول کے لیے ایک لمبی جدوجہد کے لیے خود کو تیار کرنے لگے ہیں۔

اس کا اندازہ بھارت میں مسلمانوں کے جلسے و جلوس، نجی میڈیا کے استعمال اور سوشل میڈیا پرعوام کو بیدار کرنے کے لیے اپنی سپیسز بنانے سے ظاہر ہوتا ہے۔

لیکن ایک بات کو ضرور ماننا ہوگا کہ ہندوتوا کے کروڑوں کارکن گذشتہ چند دہائیوں سے مذہبی جنونیت ابھارنے کا جو کام کرتے آرہے ہیں وہ کام 19 برس کی مسکان خان نے اللہ اکبر کا ایک نعرہ لگا کر تنہا کر دیا ہے۔ بھارت کے اندر اور باہر مسلمان عورتوں اور مردوں کو یہ ہمت ضرور دلائی کہ وہ غفلت اور خوف کو چھوڑ کر میدان میں آئیں اور اپنے حقوق کے حصول کے لیے جرت کا مظاہرہ کریں۔

اکثریت اور اقلیت کے بیچ اپنی شناخت قائم کرنے کے اس ٹکراؤ میں بھارت کا ایک چھوٹا سا لبرل طبقہ بھی موجود ہے، جو بھارتیہ جنتا پارٹی کی ہندوتوا پالیسیوں کو ملک کی وحدت اور سالمیت کے لیے ایک بڑا خطرہ تصور کر رہا ہے۔

ملک کے اطراف و اکناف میں ایسی موثر اور مضبوط آوازیں ابھرنے لگی ہیں، جوعالمی سیاست کے موجودہ تناظر میں بھی بھارت کی خارجہ پالیسی اور جنوبی ایشیا میں اس کی پوزیشن کو انتہائی ناقص اور غیر موثر قرار دے رہے ہیں۔

معروف ناول نگار ارُون دھتی رائے سمیت بیشتر دانشوروں نے ملک کے موجودہ حالات کے پیش نظر بھارت کے بکھرنے کی وارننگ بھی دی ہے۔

دیکھنا یہ ہے کہ کیا دانشور یا لبرل طبقہ اقلیت مخالف پالیسیوں کا توڑ کرنے یا بھارت کی سالمیت کو برقرار رکھنے کے لیے بی جے پی کے خلاف کوئی نئی حکمت عملی اپنانے کا رسک لے گا؟


نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ