کیا کراچی کی پچ بھی راولپنڈی جیسی ہوگی؟

پچ کیسی ہوگی اور کیا نتیجہ نکلے گا یا کچھ نہیں بدلے گا۔ ان سارے سوالات کے جواب کے لیے بس کچھ گھنٹوں کی بات ہے جیسے ہی گیند اور بلے کا سامنا ہوگا تو پہلی ملاقات ہی پانچ دن کے قیام کا اندازہ لگا لے گی۔

10 مارچ 2022 کی اس تصویر میں پاکستانی کپتان بابر اعظم اور وکٹ کیپر بلے باز محمد رضوان کراچی نیشنل سٹیڈیم کی پچ کا معائنہ کر رہے ہیں(اے ایف پی)

پاکستان آسٹریلیا سیریز کا دوسرا ٹیسٹ میچ شروع ہونے میں اب کچھ ہی وقت رہ گیا ہے اور دونوں ٹیموں نے دو روز کی پریکٹس کے بعد اپنی فائنل الیون تقریباً طے کرلی ہے۔

لیکن دونوں کپتان پچ کے رویے اور برتاؤ کے لیے زیادہ پریشان نہیں ہیں کیوں کہ ایک روز قبل نظرآنے والی پچ جس پر کہیں کہیں سبز گھاس تھی اب رخصت ہوچکی ہے۔

گراؤنڈ کیوریٹر نے گھاس کو ایسے صاف کردیا ہے جیسے کبھی وجود ہی نہیں تھا۔

جب دو روز پہلے پچ کی پہلی تصویر سامنے آئی تھی تو فاسٹ بولرز پر امید تھے کہ پچ سے کچھ مدد ملے گی لیکن شاید ان کے ارمانوں پر اوس پڑچکی ہے۔

نیشنل سٹیڈیم کی پچ ماضی میں فاسٹ بولرز اور سپنرز کو مدد دیتی رہی ہے۔ فاسٹ بولرز کی ساری امیدیں ریورس سوئنگ سے وابستہ ہوتی ہیں جو اس ٹیسٹ میں انتہائی ممکنات میں شامل ہے۔ کیوں کہ کراچی میں 33 ڈگری درجہ حرارت میں جب ہلکی سمندری ہوا چلے گی توبولرز کے لیے پرانی گیند سے ریورس سوئنگ کرنا بہت آسان ہوگا۔

پچ خشک ہونے کی وجہ سے گیند بریک کرے گی۔ اس لیے پاکستان شاید زاہد محمود کو ٹیسٹ ڈیبیو کرائے گا۔

زاہد محمود کلائی کی مدد سے لیگ بریک کرتے ہیں جس کے لیے یہ ایک آئیڈیل پچ ہے تاہم اس کا دارومدار پچ کی سطح پر بھی ہوگا۔

پاکستان نے اپنا آخری ٹیسٹ میچ گذشتہ سال جنوبی افریقہ کے خلاف کھیلا تھا۔ جس میں نعمان علی اور یاسر شاہ کی بولنگ کی مدد سے پاکستان نے جنوبی افریقہ کو باآسانی شکست دے دی تھی۔

 اگر پچ کا رویہ پہلے کی طرح ہوا تو پاکستانی سپنرز آسٹریلیا کی بساط بھی لپیٹ سکتے ہیں۔

ٹیم کیا ہوگی؟

پاکستان اپنی ٹیم میں بنیادی طور پر کوئی تبدیلی نہیں کرنا چاہتا لیکن فہیم اشرف کی کرونا سے صحتیابی کے بعد ان کی واپسی یقینی ہے۔

جبکہ ساجد خان کی جگہ زاہد محمود کی شرکت بھی خارج از امکان نہیں ہے تاہم اس کے لیے فیصلہ شاید آخری وقت میں ہی کیا جائے۔

آسٹریلیا کے کپتان پیٹ کمنز نے اپنی پریس کانفرنس میں واضح کردیا تھا کہ جوش ہیزل ووڈ کی جگہ مچل سویپسن کو کھلایا جائے گا۔

مچل سویپسن اپنے ٹیسٹ کیریئر کا آغاز کریں گے باقی بیٹنگ اور بولنگ میں کسی تبدیلی کی توقع نہیں ہے اور وہی ٹیم ہوگی جس نے راولپنڈی میں میچ کھیلا تھا۔

کراچی میں گرمی میں شدت نے امکان بڑھا دیا ہے کہ تماشائیوں کی تعداد کم رہے کیوں کہ سخت سکیورٹی مراحل سے گزر کرنشستوں تک پہنچنا اپنی جگہ خود ایک ٹیسٹ میچ ہے اور کراچی کے شائقین میں اس سیریز کے تناظر کسی قسم کی گرم جوشی دکھائی نہیں دے رہی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کراچی ٹیسٹ اس لحاظ سے بہت اہمیت کا حامل ہے کہ آئی سی سی نے راولپنڈی کی پچ پر اپنے تحفظات ظاہر کرتے ہوئے اس کوخرابی کے ایک درجہ پر فائز کردیا ہے۔

اگر ایسے پانچ اعزاز کسی ٹیسٹ سینٹر کو مل جائیں تو وہ ایک سال کے لیے پابندی کا شکارہوجاتا ہے۔

آئی سی سی کے اس اعلامیے نے پی سی بی کو خفت کا شکار کردیا ہے اور پی سی بی نے بجائے کسی بحث کے اسے قبول کرلیا ہے۔

کراچی ٹیسٹ کی پچ اس خفت کو مٹا سکتی ہے اگر پچ بولرز اور بلے بازوں کو یکساں موقع مہیا کرے اور کسی ایک کے حق میں سرنگوں نہ ہوجائے۔

پچ کیسی ہوگی اور کیا نتیجہ نکلے گا یا کچھ نہیں بدلے گا۔ ان سارے سوالات کے جواب کے لیے بس کچھ گھنٹوں کی بات ہے جیسے ہی گیند اور بلے کا آپس میں سامنا ہوگا تو پہلی ملاقات ہی پانچ دن کے قیام کا اندازہ لگا لے گی۔

کراچی سمندر کی ہواؤں اور روشنیوں کے شہر کے لیے تو معروف ہے لیکن ایک اور خوبی اس کے دامن میں پنہاں ہے کہ یہاں جب بھی میچ ہوتے ہیں تو عموماً نتائج سے بھرپور ہوتے ہیں۔

شاید اگلے پانچ دن بھی کچھ فیصلہ کن جنگ کے منظر پیش کریں۔

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ