جو بچھڑ گئے: ’تاریخ کی اندھیر نگری میں حقیقت کی جستجو کا پہلا قدم‘

سقوط ڈھاکہ پہ بہت کچھ لکھا گیا ہے لیکن اس کو ڈرامے کی صورت میں کبھی پیش نہیں کیا گیا۔ یہ تاریخ کے وہ حقا ئق ہیں جن پہ بات کر نا اتنا دشوار ہے کہ ہر موڑ پہ نیا موڑ ہے اور ہر موڑ کی الگ منزل ہے۔

ڈراما سیریئل ’جو بچھڑ گئے‘ کی آخری قسط نشر ہو گئی ہے۔ گویا ناظر کے اندر لگی جنگ بھی تھم گئی ہے۔

ڈراما کرنل زیڈ آئی فرخ کے تاریخی ناول ’بچھڑ گئے‘ (سانحہ، مشرقی پاکستان کی تجزیاتی خودنوشت) پہ مبنی تھا۔

تجزیاتی خود نوشت میں ظاہر ہے کہانی بہت مدھم آنچ پہ ہوتی ہےاور ڈراما کہانی مکمل مانگتا ہے۔ اس لیے یہ ایک مشکل کام تھا۔

سقوط ڈھاکہ پہ بہت کچھ لکھا گیا ہے لیکن اس کو ڈرامے کی صورت میں کبھی پیش نہیں کیا گیا۔ یہ تاریخ کے وہ حقائق ہیں جن پہ بات کرنا اتنا دشوار ہے کہ ہر موڑ پہ نیا موڑ ہے اور ہر موڑ کی الگ منزل ہے۔

انسان بھٹک جاتا ہے۔ یہ تاریخ اپنے اندر اتنی گہری ’متھ‘ ہے کہ بے شمار تحقیق کے بعد بھی ہم کسی منطقی نکتے پہ نہیں پہنچ پاتے جس نکتے پہ پہنچتے ہیں وہ بات کہنے کے لیے پہاڑوں اور سمندروں جیسی ہمت چاہیے۔

بحرحال جو ہوا اچھا نہیں ہوا۔ دکھ درد کی، انسانیت کی تذلیل کی ایک شرمناک تاریخ ہے جو ہمیں اتنا ضرور بتاتی ہے کہ دشمن پہلے آپ کو اندر سے کمزور کرتا ہے پھر باہر سے حملہ آور ہوتا ہے۔

ڈراما چوں کہ تاریخی ناول سے ماخوذ ہے اس لیے گویا اس کا مرکزی خیال اور کردار ہی ڈرامے کا حصہ ہیں۔ ان کے گرد کہانی بننا سکرپٹ رائٹر علی معین کے کاندھوں پہ تھا۔

جس طرح کہانی، تاریخ، سقوط ڈھاکہ اور ڈراما دشوار تھا اسی طرح اس ڈرامے پہ لکھتے ہوئے میرے ہاتھ بھی کانپ رہے ہیں کہ ڈراما دیکھتے ہوئے جس سولی پہ ایک ناظر کی طرح ہم بھی چڑھے ہیں وہ ناقابل بیان ہے۔

اتنا تو احساس ہو گیا تھا کہ یہ ایک ناول پہ مبنی ہوتے ہوئے بھی بہت سے شاخسانے رکھتا ہے۔ اتنے سوال تھے کہ ہمیں مصنف سے رابطہ کرنا پڑا جو سود مند ثابت ہوا۔

علی معین صاحب نے بتایا: ’یہ ڈراما لکھنے کے لیے تحیقیق بے شمار کرنی پڑی۔ تاریخ سے جھوٹ الگ کرنا تھا۔ لیکن ڈرامے کا کوئی بھی کردار اور واقعہ ایسا نہیں جو حقیقت پہ مبنی نہ ہو اور ’اگر فرحین عالم نہ ہوتیں تو شاید میں یہ کام نہ کر پاتا۔‘

انہوں نے اس حوالے سے تحقیق میں ’میرا بہت ساتھ دیا، بہت مدد کی۔‘

علی معین کے مطابق: ’پہلی بار 14 اقساط لکھیں جس سے میں خود ہی مطمئن نہیں ہوا اور پھاڑ دیں۔ اس کے بعد یہ اقساط نئے سرے سے لکھیں جو ڈرامے کی صورت میں آپ دیکھ رہے ہیں۔‘

اگرچہ مرکزی خیال ناول کا ہے لیکن بہت سی کتب سے اور بے شمار تحقیق سے بھی ان کرداروں کو بننے کے لیے مواد لیا گیا ہے۔ ان کتب میں جہاں آرا اختر کہ کتاب ’71 کے وہ دن‘ اورشرمیلا بوس کی کتاب ’ریکوننگ‘ خوصاً قابل ذکر ہیں۔

یہ تحقیق ڈرامے میں دکھائی دیتی ہے نہ صرف مصنف بلکہ پوری ٹیم مبارک باد کی مستحق ہے جس نے درد کی اس شہہ رگ پہ ہاتھ رکھا ہے جو شاہراہ عام نہیں اور جب بات خواص تک آ جاتی ہے تو کہا جاتا ہے اونٹوں سے یاری لگاو تو دروازے اونچے رکھنے پڑتے ہیں۔ یونہی حوصلے بھی بڑے کرنے پڑتے ہیں۔

لسانی تعصب، مہاجر تعصب، زمینی تعصب، تاریخی گھٹن، تاریخی مکاری پہ جس انداز سے بات کی گئی ہے وہ سوال چھوڑ ہی نہیں جاتی، سوال پیدا بھی کر دیتی ہے۔

 کرنل فرخ اور پانچ کپتان دوستوں کے گرد جیسے پورے بنگال کے حالات کا سیاسی اور عسکری منظر نامہ پیش کیا گیا ہے وہ ہماری تاریخ کی اندھیر نگری میں حقیقت کی جستجو کا پہلا قدم ہی معلوم ہوتا ہے جو 50 سال بعد اٹھایا گیا ہے۔

ابھی بھی وقت ہے ہم اسے بطور قوم بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں کہ آستینوں میں ہی سانپ نکل آئیں تو ہمیں باہر کے دشمن کی ضرورت نہیں پڑتی اور ہمیں ناکامی سے کوئی نہیں بچا سکتا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بیورکریسی کے کردار سے لے کر عسکری کردار اور اس میں چھپے آستین کے سانپ کس طرح قوموں کو تباہ کر دیتے ہیں، اس میں صاف شفاف دکھایا کیا گیا ہے۔ انسان جہاں سے سوچ بھی نہیں سکتا دشمن وہاں سے رستہ بنوا لیتا ہے۔

المیہ مشرقی پاکستان میں یہی ہوا تھا کہ ہمارے اندر بطور قوم تفریق پیدا کر دی گئی لیکن اس تفریق سے فائدہ کسی اور کی انا کو ملنا تھا۔

کچھ تجزیہ نگا رکہتے ہیں کہ 65 کی آگ ابھی کینہ پرور میں لگی ہوئی تھی جس کا بدلہ اس نے 71 میں لیا لیکن یہ واقعہ المیہ کیسے بنا ڈراما اس کی تفصیل پیش کرتے تحریک پاکستان تک نکل جاتا ہے جس کا جواز تاریخ کی کتابوں میں مبہم سا ملتا بھی ہے۔

ایسے ایسے مظالم ڈھائے گئے کہ تقسیم ہند کا لہو یاد آجاتا ہے جو ظلم کرنا تب رہ گیا تھا وہ اب کر لیا گیا۔ جب بیویوں کو ان کے شوہروں کے گلے کاٹ کر ان کا خون پینے پہ مجبور کیا گیا۔ جب سمجھنے والے ہجوم کی نفسیات سمجھ گئے تھے اور اس سے کام بھی خوب لیا گیا کہ سانپ بھی مرجائے لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔

انقلاب کے لیے لڑنے والے خود اپنی جان تب گنوا بیٹھے جب ان کو اندازہ ہوا کہ یہ انقلاب نہیں ہے بغاوت ہو چکی ہے اور یرغمال کے پاس بے بسی اور موت کے سوا کوئی رستہ ہی نہیں بچتا۔ ایسی بے بسی آخری تین چار اقساط میں ناظر کو بے بس کر دیتی ہے۔

رومی کو اندازہ نہیں تھا کہ تاریخ کس کروٹ بیٹھ جائے گی۔ وہ حقوق کی جنگ لڑنے چلا تھا جس میں وہ سوچ، زندگی، خاندان سب ہار گیا۔

سونیا اس کو سمجھاتی رہی کہ یہ راہیں بغاوت کی ہیں انقلاب کی نہیں۔ وردی بتاتی رہی کہ بغاوت سے ذمہ داری کس طرح مجبوری بنتی ہے۔

انقلاب اور بغاوت کے فرق کو ڈراما بھرپور انداز سے پیش کرتا ہے۔ سیاسی انائیں اورڈھٹائی کس طرح نسلوں اور قوموں کو پچھتاوے تک لے جاتے ہیں کہانی میں یہ دردصاف دکھائی دیتا ہے۔

مکالمہ بہت جاندار اور باوقار ہے ’کیا تحریک پاکستان ویلڈ تھی؟‘ مکالمہ ایک لمحے میں سکتہ طاری کر دیتا ہے۔

جذباتیت پہ کنٹرول کرنا سیکھنا ہو تو ڈرامے میں جابجا اس کا درس رویوں سے ملتا ہے۔ رومانوی مناظر کو بھی عطر و مشک سے نہیں سنوارا گیا بلکہ بہت با وقار طور پیش کیے گئے ہیں۔

اس کو جواز یہ نہیں دیا جا سکتا کہ بات آج سے 50 سال قبل کی ہے با ظرف و با کردار و تعیلم یافتہ کرداروں کے رویوں میں صدیوں کا فرق بھی خود بول پڑتا ہے۔

ہلکے ظرف والے اس دور میں بھی کبھی استاد کی صورت یونیورسٹی کی سرگرمیاں کنڑول کر رہے ہیں تو کبھی فیکٹری کا کنٹرول ہاتھ میں لے رہے ہیں۔ کبھی ہجوم کو مشتعل ہونے کا درس دے دیتے ہیں تو کبھی چاقوؤں سے قتل و غارت گری کا پیغام دے دیتے ہیں۔ کبھی انوار احمد کے گھر سے اس کی بیوی کی سہیلی سرکاری کاغذات لے کر فرار ہو جاتی ہے تو کبھی کینٹ میں ہی موجود رکھوالے جاکر دشمنوں سے مل جاتے ہیں۔

وہ جو ایک متھ نما جملہ سنتے ہم بڑے ہوئے ہیں۔ ’مغربی پاکستان والوں نے گولی چلا دی، یا فوج نے بندوقوں کے منہ کھول دیے‘ اس کا جواب کسی حد تک ہی سہی ڈرامے میں موجود ہے۔

مشرقی اور مغربی پاکستان کا مکالمہ جو اس دور میں ہوا ہو گا اس ڈرامے کے کرداروں کے توسط سے اتنی ہی تنکی وتلخی کے ساتھ موجود ہے۔ ادارے، کیسے کام کرتے ہیں، ان پہ کیا دباؤ ہوتا ہے؟ یہ ڈراما بخوبی پیش کرتا ہے۔

مکتی باہنیوں کی تخریبی کارروائیاں کس کس طرح بڑھتی چلی گئیں۔ حالات کس طرح بد گمانیوں سے بڑھ کر علیحدگی تک پہنچ گئے اور کس طرح تقسیم ہند کے وقت ہی الگ ہونے والوں کو یہ اندازہ تھا یہ وقت آئے گا۔ کس طرح مہاجروں اور مغربی پاکستانیوں کو مار دیا گیا جس میں مغربی پاکستان کی فوج بھی شامل تھی۔

بات لسانیات سے شروع ہوتی ہے جب کسی بھی ملک میں قومی زبان کی تاریخ مبہم پڑھائی جائے گی تو اس ملک میں لسانی تحریک پنپنا جواز فراہم کرتی ہے۔

زبان کی طاقت کا اندازہ اس واقعے سے ہوتا ہے جو ’جو بچھڑ گئے‘ میں ہے۔ ڈرامے میں نہ تاریخ میں اس بات پہ توجہ دی گئی کہ قومی زبان کا اپنا رتبہ و مرتبہ ہے اور رہے گا۔

یہ ملک میں رابطے کی اولین زبان ہے جس زبان میں ملک کے صدر اور وزیر اعِظم حلف اٹھاتے ہیں تو پھر اردو کا کسی دوسری زبان سے تعصب کیسا؟ آج بھی یہ نکتہ سمجھنے کے قابل ہے، آج بھی ہمیں یہ سوچنا ہے۔

حیرت اس بات کی ہے ڈرامے میں سانحہ مشرقی پاکستان کے وقت اور بعد میں ملک کا حساس ترین طبقہ خاموش یا مصلحت زدہ کیوں دکھائی دیتا ہے؟

ڈراما تو فوج کے ہتھیار ڈال دینے پہ ہی ختم ہو جاتا ہے لیکن اسے آگے ایک اور المیہ ہے وہ فوجی جو لاپتہ ہو گئے تھے اور برسوں ان کے گھرانوں کو یہ علم نہیں تھا کہ وہ کہاں ہیں۔

یہ فوجی بھارتی فوج کی تحویل میں رہے اور سفارتی حالات بہتر ہونے کے بعد ان فوجیوں کی زندگی کا ایک نیا باب شروع ہوا جب وہ معاہدے کے تحت وطن واپس آئے۔

کرنل فرخ بھی انہی لاپتہ فوجیوں میں شامل تھے۔ 71 کے قیدی فوجیوں کے گھرانوں سے ملنے کا جب جب اتفاق ہوا تو حیرت یہ ہوا کرتی تھی کہ ہم نے غازی و شہیدوں کے خاندانوں کو تو مان کرتے دیکھا ہوا ہے لیکن ان کی اولادیں اور خاندان کس مان سے بتاتے ہیں کہ وہ 71 کی جنگ کے قیدی فوجی کی اولاد ہیں۔

اس کی وجہ آج سمجھ آتی ہے اس ڈرامے، اس تحقیق کے بعد سمجھ آتی ہے۔ کرنل فرخ کے اعصاب بہت مضبوط ہیں انہوں نے ناول لکھ لیا ورنہ ہم جن فوجیوں سے ملے ان کی آنکھیں، چہرے اور سوچ سمندر سے گہری اور لبوں پہ خاموشی پائی اور وہ دنیا کو حیرت سے دیکھتے اس دنیا سے چلے گئے یا حیرت سے ہی حیات ہیں۔

ڈرامے کا اختتام بہت با وقار ہے۔ کوئی کردار عسکری ادارے سے نہیں تھا لیکن کہیں بھی تکنیکی کمی یا جھول نہیں ملتا۔ جو ایک دو جگہوں پہ ایسا ہوا تو اگلے ہی سین میں اس کو فطرت اور ادارے سے ملا کر اس کا جواز سوال سے قبل پیش کر دیا گیا۔

زبان، میک اپ، لباس، لوکیشن، برتن، ہر شے پہ خاص توجہ دی گئی، بہت محنت دکھائی دی۔ جی سی یونیورسٹی کو ڈھاکہ یونیورسٹی کی جگہ دکھایا گیا۔ جس سے منظر نامہ حقیقت کے بہت قریب محسوس ہوا۔

’جو بچھڑ گئے‘ کا درد وہاں بھی زندہ ہے اور یہاں بھی ہے۔ ڈرامے میں بھی ایک پرچم تلے محبت بانٹنے والے خون کی چھینٹوں میں بھی محبت بانٹتے رہے۔ وہ زندہ رہے یا نہیں بے بس تھے۔

یہاں تک آئے ہیں چھینٹے لہو کی بارش کے

وہ رن پڑا ہے کہیں دوسرے کنارے پر

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ