18ویں ترمیم میں آرٹیکل 63 اے کیا سوچ کر شامل کیا گیا: چیف جسٹس

جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ ممکن ہے انحراف کرنا غلطی کے خلاف ہی ہو۔ کسی سے غلط کو غلط کہنے کا حق کیسے چھینا جا سکتا ہے۔

پیر کو ہونے والی سماعت میں اٹارنی جنرل نے دلائل جاری رکھے عدالت کی جانب سے اٹارنی جنرل کو ایک روز میں دلائل مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی (اے ایف پی)

چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے پیر کو کہا جمہوریت ہمارے آئین کا بنیادی جزو ہے اور جاننا یہ ہے کہ اٹھارویں ترمیم میں آرٹیکل 63 اے کیا سوچ کر شامل کیا گیا۔

 آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس پر آج سماعت ہوئی جس کے دوران چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ وکلا کو دلائل میں واضح کرنا ہوگا کہ  63 اے آخر ہے کیا اور اگر منحرف رکن کی نشست خالی ہوگی تو کیا ہو گا؟ جمہوریت کے لیے کیا اچھا ہے یہ سوچ کر دلائل دیں۔

پیر کو ہونے والی سماعت میں اٹارنی جنرل نے دلائل جاری رکھے عدالت کی جانب سے اٹارنی جنرل کو ایک روز میں دلائل مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی۔ عدالت کا یہ کہنا تھا کہ عدالت نے دیگر فریقین کو بھی سننا ہے۔

کمالیہ میں وزیراعظم کے جلسے میں ججز پہ ریمارکس دینے پر جسٹس مظہر عالم خیل نے ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے اٹارنی جنرل سے کہا: ’وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ججوں کو ساتھ ملایا جا رہا ہے۔ تو کیا آپ نے وزیراعظم کی بات کا نوٹس لیا؟ عدالتی ریمارکس کو کس طرح لیا جاتا ہے آپ اس کو بھی دیکھیں سوشل میڈیا کو بھی عدالتی ریمارکس پر اختیاط کرنی چاہیے۔‘

جسٹس جمال مندوخیل نےکہا: ’کیا وزیراعظم کو عدلیہ پر اعتماد نہیں ہے؟ وزیراعظم کو غیر ذمہ دارانہ بیانات کا دھیان رکھنا چاہیے۔‘

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عدالت اپنے تحریری دلائل سے استفادہ کرے گی۔ ’ابھی تک ہوا میں گھوڑے چل رہے ہیں۔ پارلیمان نے آج تک آرٹیکل 63 اے کی نااہلی کی مدت کیوں مقرر نہیں کی۔ جاننا ہے کہ اٹھارویں ترمیم میں آرٹیکل 63 اے کیا سوچ کر شامل کی گیا۔‘

ن لیگ کے وکیل مخدوم علی خان نے عدالت سے کہا: ’لازمی نہیں کہ جمہوریت آلودہ کرنے والے اپوزیشن سے ہی نکلیں۔‘

جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ جمہوریت لوگوں سے اور لوگوں کے لیے ہوتی ہے، دیکھنا ہے کہ حکومت بچانی ہے یا پارٹی۔ عوام کا فائدہ کس میں ہے عدالت نے یہ دیکھنا ہے۔

اٹارنی جنرل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ارٹیکل 63 اے کو الگ نہیں پڑھا جاسکتا تو اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ عدالتی فیصلے میں انتخابات کی ساکھ اور تقدس کی بات کی گئی ہے۔

اٹارنی جنرل نے دلائل دیے کہ پارٹی ٹکٹ پر کامیاب ہونے والی جماعتیں ڈسپلن کے پابند ہوتے ہیں۔ کوئی پارٹی کے ساتھ نہیں چل سکتا تو مستعفی ہوسکتا ہے۔ ’پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ دینے والا تاحیات نااہل ہونا چاہیے۔'

جسٹس اعجاز الحسن نے استفسار کیا کہ آرٹیکل 63 اے کو 62 ون ایف کے ساتھ کیسے جوڑیں گے۔ ’کیا کسی فورم پر رشوت لینا ثابت کیا جانا ضروری نہیں۔ رشوت لینا ثابت ہونے پر 62 ون ایف لگ سکتا ہے۔‘

اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرٹیکل 63 اے کی خلاف ورزی قانونی طور پر بددیانتی ہے۔ قانونی بددیانتی پر آرٹیکل 62 ون ایف کا اطلاق ہو گا۔

اس پر جسٹس اعجاز الحسن نے استفسار کیا کہ منحرف رکن اگر کسی کا اعتماد توڑ رہا ہے تو خیانت کس کے ساتھ ہو گی۔ تو اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ سب سے پہلے خیانت حلقے کی عوام کے ساتھ ہو گی ۔ ووٹر اپنا ووٹ ڈال کر واپس نہیں لے سکتا۔

جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ کیا مستعفی ہونے پر کوئی سزا ہے۔ اٹارنی جنرل نے جواب دیا، ’کوئی مستعفی نہیں ہورہا یہی تو مسئلہ ہے۔' جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا 63 اے کے نتیجے میں سیٹ خالی ہونا کافی نہیں۔ اس موقع پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے اگر پندرہ بیس لوگ مستعفی ہو جائیں تو بات پھر بھی وہی ہو گی۔ یعنی اکثریت نہیں رہے گی۔

جسٹس اعجاز الحسن نے کہا کہ پارٹی سے انحراف از خود مشکوک عمل ہے۔' اٹارنی جنرل نے کہا کہ کہ پارٹی پالیسی کے خلاف ورزی کے نتائج بھگتنا ہوتے ہیں۔ آرٹیکل 63 اے میں لکھا ہے کہ رکنیت ختم ہو جائے گی۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ نااہلی کی مدت کا تعین کروانا چاہتے ہیں۔ آرٹیکل 62 ون ایف کے لیے عدالتی فیصلہ ضروری ہے۔ آرٹیکل 63 میں نااہلی دو سے پانچ سال تک ہے۔

جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا، ’جس فیصلے کا آپ نے حوالہ دیا الیکشن سے پہلے کا ہے۔ الیکشن سے پہلے کا قانون بعد میں کیسے لاگو کر دیں۔'

اٹارنی جنرل نے کہا کہ الیکشن قوانین آئین سے بالاتر نہیں ہو سکتے۔

جسٹس جمال خان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا: ’پارٹی سربراہ ڈیکلریشن دے تو الیکشن کمیشن کو فیصلہ کرنے دیں۔ قانون میں طریقہ واضح کردیا ہے تو کیا چاہتے ہیں؟ ہو سکتا ہے کسی کا سچ میں ضمیر جاگ گیا ہو۔‘

انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ سپریم کورٹ میں آئے گا تو دیکھا جائے گا۔ جو بھی ہے پارلیمان کو فیصلہ کرنے دینا چاہیے۔

اٹارنی جنرل نے واضح کیا کہ اسمبلی اجلاس میں کیا ہو رہا ہے اس کا عدالتی کارروائی پر فرق نہیں پڑنا چاہیے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جسٹس اعجاز الحسن نے کہا کہ اس نقطے پر مطمئن کریں کہ منحرف ہونے سے سسٹم کو خطرہ ہوگا اور سنگین جرم ہے۔ انہوں نے مزید کہا، ’پارلیمانی جماعت اپنے لیڈر کے خلاف عدم اعتماد کر سکتی ہے۔ پارٹی خود عدم اعتماد کرے تو کسی کے خلاف کاروائی نہیں ہوسکتی۔ پارلیمانی پارٹی وزیراعظم تبدیل کرنے کا فیصلہ کرے تو پارٹی سربراہ بادشاہ نہیں ہوگا۔‘

جسٹس اعجاز نے مزید کہا: ’جمہوریت ایک ندی ہے جسے بے وفائیاں آلودہ کرتی ہیں۔ بے وفائی اور منحرف ہونے کا مثبت مطلب کسی ڈکشنری میں نہیں لکھا۔‘

اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ اٹھارویں ترمیم میں ہارس ٹریڈنگ روکنے کے لیے 63 اے شامل کیا گیا۔ آرٹیکل 63 اے میں کسی ثبوت کی ضرورت نہیں ہوتی۔ پارٹی سے بےوفائی کو مثبت رنگ نہیں دیا جا سکتا۔

جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ ممکن ہے انحراف کرنا غلطی کے خلاف ہی ہو۔ کسی سے غلط کو غلط کہنے کا حق کیسے چھینا جا سکتا ہے۔

عدالت نے مزید دلائل کے سماعت منگل دن ایک بجے تک ملتوی کر دی۔

آج کی سماعت میں دن ایک بجکر بیس منٹ پر شروع ہوئی کمرہ عدالت میں رش معمول سے کم تھا گو کہ تمام نشتیں پُر تھیں لیکن سیاسی رہنما آج تشریف نہیں لائے۔

حکومتی وزرا فواد چوہدری اور حماد اظہر 15 منٹ کے لیے عدالت آئے اور چلے گئے۔ جبکہ احسن اقبال بھی دو بجے عدالت آئے اور آدھے گھنٹے بعد وہ بھی چلے گئے۔ گذشتہ سماعت کے مقابلے میں آج کی سماعت میں سیاسی رہنماؤں کی عدم دلچسپی دیکھنے میں آئی۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان