پنجاب: اسمبلی کے بعد اب 20 حلقے سیاسی میدان جنگ

پنجاب کے ایوان میں حکومت اور اپوزیشن کی نشستیں کم و بیش برابر ہیں جس کی وجہ سے ضمنی انتخابات اور بھی اہم ہیں کیونکہ انہی کے ذریعے کسی ایک فریق کے اراکین کی تعداد واضح اکثریت میں بدل سکتی ہے۔

راولپنڈی میں 25 جولائی 2018 کو ایک پولنگ سٹیشن میں پریزائیڈنگ آفیسر شہری کو ووٹ ڈالنے کا طریقہ بتا رہے ہیں (اے ایف پی)

پنجاب میں عام انتخابات سے پہلے صوبائی اسمبلی کی 20 نشستوں پر ضمنی انتخاب کا معرکہ حکومت اور اپوزیشن کے لیے چیلنج بنا ہوا ہے اور ان دنوں دونوں طرف سے کامیابی کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا جا رہا ہے۔

 پنجاب کے ایوان میں حکومت اور اپوزیشن کی نشستیں کم و بیش برابر ہیں جس کی وجہ سے ضمنی انتخابات اور بھی اہم ہیں کیونکہ انہی کے ذریعے کسی ایک فریق کے اراکین کی تعداد واضح اکثریت میں بدل سکتی ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ وہ 15 سے 16 نشستوں پر کامیابی حاصل کریں گے جبکہ اپوزیشن 12 سے 13 نشستوں پر کامیابی کے یقین کا اظہار کر رہی ہے۔ تاہم کون کتنی نشستوں پر کامیاب ہوگا اس کا حتمی فیصلہ 17 جولائی کو ہوگا۔

بیانیے اور کارکردگی کا مقابلہ

یہ ضمنی انتخابات اب اسمبلی کی خالی سیٹوں کر بھرنے کے ساتھ ساتھ ساتھ بیانیے اور کارکردگی کی جنگ بھی دکھائی دیتے ہیں۔

سابق حکمران جماعت پی ٹی آئی نے اپنے ہیوی ویٹس کے ساتھ ساتھ اس بار کچھ نئے چہروں کو بھی میدان میں اترا ہے، جبکہ حکومتی اتحاد نے ایسے امیدواروں کو ٹکٹ دی ہے جو پچھلے انتخابات میں کامیاب ہو کر ہی اسمبلی میں پہنچے تھے۔

پی ٹی آئی وفاق کی طرح پنجاب میں بھی حکومت تبدیلی کو امریکی سازش سے منسوب کرتی ہے۔ جماعت کے سیکرٹری جنرل اسد عمر کہہ چکے ہیں کہ اگر پنجاب میں انہیں زیادہ نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی تو صوبائی اسمبلی تحلیل کر دی جائے گی کیونکہ پی ٹی آئی ملک بھر میں جلد از جلد نئے انتخابات کا مطالبہ کر چکی ہے۔

اس حوالے سے رابطہ کرنے پر پی ٹی آئی پنجاب کی رہنما مسرت جمشید نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ اس بار ان کی پارٹی نے منحرف الیکٹیبل اراکین کا حالیہ تنازع مدنظر رکھتے ہوئے پارٹی کے وفادار ساتھیوں کو ٹکٹیں تقسیم کی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی 12 سے 13 نشستوں پر کامیابی حاصل کرے گی کیونکہ موجودہ حکومت نے ’مہنگائی کا طوفان برپا کر دیا ہے، غریب کا زندہ رہنا مشکل ہوچکا ہے اور پھر موجودہ حکمرانوں کے خلاف کرپشن کیسز بھی ابھی عدالتوں میں چل رہے ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا: ’جس طرح ہماری حکومت کو سازش کے تحت رخصت کیا گیا اس سے بھی عوام میں شدید ردعمل پایا جاتا ہے جس کا اظہار وہ جلسوں میں شریک ہو کر کرتے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ عوام وفاداریاں بدلنے والے منحرف اراکین کو ووٹ نہیں دیں گے۔ ’ہمارا بیانیہ گھر گھر پہنچ چکا ہے لہذا ہمارے امیدواروں کو نہیں پارٹی کے قائد عمران خان کے نظریے اور بیانیے کو ووٹ ڈلے گا۔‘

 

اپوزیشن لیڈر سبطین خان نے کہا کہ پارٹی نے ٹکٹ اچھے امیدواروں کو دیا ہے اور عمران خان کا بیانیہ کامیاب ہوگا۔

دوسری جانب مسلم لیگ ن کی رہنما عظمیٰ بخاری نے کہا کہ لوگ سابقہ صوبائی حکومت میں ’بدعنوانی اور بری گورننس سے لوگ متنفر ہو چکے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ عوام مسلم لیگ ن کی حکومت چاہتے ہیں اور اس کی قیادت کی کارکردگی پر بھروسہ کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا: ’ویسے تو ہماری پوزیشن سب حلقوں میں بہتر ہے مگر 20 میں سے 15 سے16  نشستوں پر ہمارے امیدواروں کی کامیابی یقینی ہے۔‘

ان کے بقول پی ٹی آئی کے منحرف ارکان آزاد حیثیت سے پچھلے انتخابات میں جیتے تھے، تو اس بار بھی امکان ہے کہ وہ ن لیگ کے ٹکٹ پر بھی کامیاب ہوں گے۔

کون کس کے مدمقابل؟

پنجاب اسمبلی کی 20 نشستوں پر انتخابات میں مسلم لیگ ن، پی ٹی آئی اور تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے امیدواروں سمیت آزاد امیدوار بھی میدان میں ہیں۔

حکومتی حکمت عملی کے مطابق انہی امیدواروں یا ان کے رشتہ داروں کو ٹکٹ جاری ہوئے ہیں جنہوں نے پی ٹی آئی سے انحراف کر کے پی ڈی ایم امیدوار حمزہ شہباز کو وزارت اعلیٰ کا ووٹ دیا تھا اور الیکشن کمیشن نے فلور کراسنگ پر انہیں ڈی سیٹ کیا تھا۔ دوسری جانب پی ٹی آئی نے بھی اپنے پرانے یا ہیوی ویٹ امیدواروں کو میدان میں اتارا ہے۔

پی پی 7 راولپنڈی میں پی ٹی آئی کے منحرف سابق رکن اسمبلی راجہ صغیر ن لیگ کے ٹکٹ پر الیکشن لڑ رہے ہیں جبکہ ان کے مدمقابل پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر لیفٹیننٹ کرنل (ر) شبیر اعوان ہوں گے، جنہوں نے  2011 میں پارٹی میں شمولیت اختیار کی تھی۔

پی پی 83 خوشاب میں پی ٹی آئی کے منحرف رکن ملک غلام رسول کے بھائی امیر حیدر سنگھا ن لیگ کے ٹکٹ پر جبکہ ان کے مدمقابل ایم این اے عمر اسلم کے چھوٹے بھائی حسن اسلم سیاسی اکھاڑے میں اتریں گے۔ حسن اسلم پہلی بار انتخابی سیاست کا حصہ بننے جا رہے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پی پی 90 بھکر میں تحریک انصاف کے منحرف رکن اسمبلی سعید اکبر خان نوانی ن لیگ کے ٹکٹ پر الیکشن لڑ رہے ہیں۔ ان کا مقابلے میں پی ٹی آئی نے ن لیگ کے سابق جنرل سیکرٹری عرفان اللہ نیازی کو ٹکٹ جاری کیا ہے۔ عرفان اللہ نیازی کے بڑے بھائی مرحوم نجیب اللہ خان اور دوسرے بھائی انعام اللہ خان دونوں ن لیگ کے کے ایم پی اے رہ چکے ہیں۔

پی پی97 فیصل آباد میں سابق صوبائی وزیر محمد اجمل چیمہ ن لیگ کے ٹکٹ پر الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں، جبکہ ان کے مدمقابل سابق سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری محمد افضل ساہی کے صاحبزادے علی افضل ساہی ایک بار پھر پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر انتخاب لڑیں گے۔

پی پی 125 جھنگ میں پی ٹی آئی کے منحرف امیدوار فیصل حیات جبوانہ مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر الیکشن لڑ رہے ہیں۔ تحریک انصاف نے یہاں 2018 انتخابات کے ٹکٹ ہولڈر میاں محمد اعظم چیلہ کو ایک بار پھر انتخابی ٹکٹ جاری کیا ہے۔

پی پی127 جھنگ میں منحرف سابق رکن صوبائی اسمبلی مہر محمد اسلم بھروانہ کو مسلم لیگ ن نے ٹکٹ جاری کیا ہے، جبکہ پی ٹی آئی نے 2018  انتخابات کے ٹکٹ ہولڈر مہر محمد نواز بھروانہ کو ہی ن لیگ کے مدمقابل اتارا ہے۔

پی پی 140 شیخوپورہ میں پی ٹی آئی کے منحرف رکن میاں خالد محمود ن لیگ کے ٹکٹ پر الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں جبکہ ان کے مدمقابل تحریک انصاف کے خرم شہزاد ورک ہیں، جو وکلا کی سیاست میں سرگرم اور ضلعی بار کے صدر ہیں۔

پی پی 158 لاہور میں عبد العلیم خان نے گذشتہ انتخابات میں پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر کامیابی حاصل کی تھی مگر ان کے حمایت یافتہ امیدوار کو ن لیگ ٹکٹ جاری کرے گی جبکہ پی ٹی آئی نے میاں محمود الرشید کے داماد اکرم عثمان کو ٹکٹ جاری کر دیا ہے۔

پی پی 167 لاہور میں تحریک انصاف کے منحرف رکن نذیر احمد چوہان مسلم لیگ ن کے امیدوار ہیں جبکہ ان کے مدمقابل پی ٹی آئی کے شبیر گجر ہوں گے۔

پی پی 168 لاہور میں پی ٹی آئی کے منحرف رکن ملک اسد علی کھوکھر مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر الیکشن لڑیں گے جبکہ تحریک انصاف نے ملک نواز اعوان کو ٹکٹ جاری کیا ہے۔

پی پی 170  لاہور میں مسلم لیگ ن نے ترین گروپ کے نامزد امیدوار عون چوہدری کے بھائی محمد امین ذوالقرنین کو ٹکٹ جاری کیا ہے اور ان کے مدمقابل تحریک انصاف نے ابھی تک کسی امیدوار کا نام فائنل نہیں کیا۔

پی پی 202 ساہیوال میں پی ٹی آئی کے منحرف سابق رکن پنجاب اسمبلی ملک نعمان لنگڑیال ن لیگ کے ٹکٹ پر الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں جبکہ ان کے مدمقابل تحریک انصاف نے میجر(ر) غلام سرور کو ٹکٹ دیا ہے۔

پی پی 217 ملتان میں پی ٹی آئی کے منحرف ایم پی اے محمد سلیمان نعیم ضمنی انتخاب میں پیپلز پارٹی اور پی ڈی ایم کے مشترکہ امیدوار کے طور پر الیکشن لڑ رہے ہیں ۔ان کے مدمقابل سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے بیٹے ایم این اے زین قریشی پی ٹی آئی کے امیدوار ہیں۔

پی پی 224  لودھراں میں تحریک انصاف کے منحرف رکن صوبائی اسمبلی زوار حسین وڑائچ، مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں جبکہ ان کے مدمقابل تحریک انصاف نے ن لیگ کے 2018 کے انتخاب کے ٹکٹ ہولڈر عامر اقبال شاہ کو ٹکٹ جاری کیا ہے۔

پی پی 228  لودھراں میں منحرف رکن اسمبلی نذیر احمد بلوچ ن لیگ کے ٹکٹ پر انتخابی میدان میں اتریں گے۔

پی پی 237 بہاولنگر میں منحرف سابق رکن اسمبلی فدا حسین مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں جبکہ ان کے مدمقابل پی ٹی آئی کے آفتاب محمود، سردار محمد اقبال اور سید افتاب رضا کے ناموں پر مشاورت جاری ہے۔

پی پی 272 مظفر گڑھ میں رکن قومی اسمبلی باسط سلطان بخاری کی اہلیہ زہرہ باسط سلطان بخاری مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر الیکشن میں حصہ لے رہی ہیں۔ ان کے مدمقابل سابق رکن قومی اسمبلی محمد معظم علی جتوئی پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر امیدوار ہوں گے۔

 پی پی 273 مظفر گڑھ میں منحرف سابق رکن اسمبلی محمد سبطین رضا مسلم لیگ ن کے امیدوار ہوں گے، جبکہ ان کے مدمقابل تحریک انصاف کے امیدوار یاسر عرفات خان جتوئی ہوں گے۔

پی پی 288 ڈیرہ غازی خان میں مسلم لیگ ن کے سابق ضلعی ناظم اور موجودہ ایم این اے امجد فاروق خان کھوسہ کے صاحبزادے عبد القادر خان کھوسہ مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر جبکہ ان کے مدمقابل پی ٹی آئی کے امیدوار سیف الدین کھوسہ ہوں گے۔

ٹی ایل پی نے بھی ضمنی انتخابات میں چھ نشستوں پر امیدواروں کو ٹکٹ جاری کیا ہے۔

جماعت کے شمالی پنجاب کے  ناظم اعلیٰ علامہ غلام عباس فیضی کے مطابق پی پی 7 سے رانا منصور اور پی پی 140 سے جاوید اقبال کو جاری کیے گئے ہیں۔ پی پی 158 سے بلال شیخ، پی پی 167 سےحسنین احمد شہزاد، پی پی 168 سے امجد عباسی، پی پی 170 سے ٹی ایل پی ضلع لاہور کے امیر علامہ جمیل احمد شرقپوری کو ٹکٹ جاری ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب اسمبلی کے چھ حلقوں کے لیے 47 امیدواروں نے درخواستیں جمع کروائیں۔ مجلس شوریٰ کے اراکین نے تمام امیدواروں کے انٹرویو کیے جس کے بعد پارٹی ٹکٹ کا اعلان کیا گیا ہے جبکہ باقی سیٹوں پر امیدواروں کا اعلان بھی جلد کردیا جائے گا۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست