سیاسی خاندانوں میں مختلف جماعتوں کی نمائندگی انہونی نہیں

سیاسی پنڈتوں کے مطابق سیاست میں بیک وقت ایک ہی خاندان سے مخالف سیاسی جماعتوں کے ارکان کا آمنے سامنے آنا تو کوئی انہونی نہیں ہے۔ یہ موروثی سیاست کی کڑی ہے۔

مسلم لیگ ق کے سیاسی گھرانے سے تعلق رکھنے والے بھائی چوہدری شجاعت حسین اور چوہدی وجاہت حسین  نو جون 2007 کو پارلیمنٹ آرہے ہیں۔ (تصویر: اے ایف پی)

ان دنوں پاکستان کے ایک معروف سیاسی خاندان میں اختلافات کھل کر سامنے آ رہے ہیں۔ خاندان کے بڑے ایک دوسرے کے خلاف بیانات دے رہے ہیں اور الزام تراشی کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

مسلم لیگ ق کے رہنما اور سابق رکن قومی اسمبلی چوہدری وجاہت حسین کے اپنے بڑے بھائی اور سابق وزیراعظم چوہدری شجاعت کے خلاف بیان سامنے آیا ہے۔

شجاعت حسین نے بھی اپنے چھوٹے بھائی کے بیان پر ٹویٹ کیا۔ خاندان کے بڑوں سے پہلے چھوٹے بھی مخالفانہ بیان دے چکے ہیں۔

ملکی تاریخ میں یہ پہلا موقع نہیں ہے کسی سیاسی خاندان میں ایسے اختلافات ہوئے ہوں۔

پاکستان میں اثر انداز ہونے والی موروثی سیاست میں ایسی کئی نظیریں ہیں۔ حتیٰ کہ باپ بیٹا مخالف جماعتوں سے سامنے آئے تو ماں بیٹی بھی اس سیاسی کشیدگی کی زد میں آئیں۔

اختلافات کا شکار مسلم لیگ ق اس وقت نرالی صورت حال کا سامنا کر رہی ہے۔ یہ جماعت بیک وقت حکومت اور اپوزیشن میں ہے۔ مسلم لیگ ق کے قومی اسمبلی میں کل چار منتخب ارکان ہیں جن میں دو حکومت اور دو اپوزیشن میں ہیں۔

سالک حسین اور طارق بشیر چیمہ حکومت میں ہیں اور سالک کے دو کزن یعنی مونس الٰہی اور حسین الہی اپوزیشن بینچز پر بیٹھے ہیں۔

ماضی میں ایسی صورت حال اس وقت سامنے آئی جب سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو لاہور میں ایک قرار داد منظور ہونے پر پارٹی کی سربراہ بن گئیں اور اس طرح ان کی والدہ اور ذوالفقار علی بھٹو کی بیوہ کو پارٹی کی چیئرپرسن شب سے ہٹا دیا گیا۔

اس سے پہلے نصرت بھٹو پارٹی کی سربراہ اور بے نظیر بھٹو شریک چیئرپرسن تھیں۔

بھٹو خاندان میں اس وقت دراڑ سامنے آئی جب میر مرتضیٰ بھٹو نے صوبائی اسمبلی کا انتخاب لڑا جب ان کی بہن ملک کی وزیراعظم تھیں۔ مرتضیٰ بھٹو نے اپنی سیاسی جماعت پیپلز پارٹی ( شہید بھٹو) سے انتخاب میں حصہ لیا جبکہ بے نظیر پیپلز پارٹی کی سربراہ تھیں۔ بیگم نصرت بھٹو نے اپنے بیٹے کی انتخابی مہم چلائی۔

سابق فوجی حکمران جنرل ایوب خان ملک کے صدر رہے تھے جبکہ ان کے بھائی خان سردار بہادر خان اپوزیشن کے نمایاں رہنماؤں میں شمار ہوتے تھے۔

جنوبی پنجاب کے سیاسی خاندان کھوسہ فیملی کو بھی اسی طرح کی کشیدگی کا سامنا رہا جب سابق گورنر پنجاب سردار ذوالفقار علی کھوسہ کے مدمقابل اُن کا بیٹا امیدوار بن گیا تھا۔

2013 کے انتخابات میں سردار ذوالفقار علی کھوسہ صوبائی اسمبلی کے حلقے کے لیے امید وار تھے، اسی نشست پر ان کے بیٹے سردار سیف کھوسہ پیپلزپارٹی کے امیدوار کے طور اپنے باپ کے سامنے آئے تھے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سابق سپیکر قومی اسمبلی سید فخر امام اور ان کے بیٹے نے ایک دوسرے کے مقابلے میں تو انتخاب نہیں لڑا البتہ دو مختلف سیاسی جماعتوں کے امیدوار کے طور پر عام انتخابات میں اترے تھے۔

سید فخر امام اپنے آبائی علاقے خانیوال سے مسلم لیگ ن کے امید وار رہے اور ان کا بیٹے عابد حسین نے اپنی والدہ کی جھنگ کی آبائی نسشت پر قسمت آزمائی تھی۔

سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی جب تحریک انصاف میں شامل ہوئے تو ان کے بھائی مرید قریشی نے پیپلز پارٹی کا ساتھ دیا تھا۔

سندھ سے سابق میجر جنرل غلام عمر کے دو بیٹے بھی سیاست میں متحرک ہیں۔ اسد عمر سابق حکمران جماعت کے وزیر رہے جبکہ ان کے بھائی زبیر عمر مسلم لیگ ن کے دور میں گورنر سندھ رہ چکے ہیں اور آج بھی مسلم لیگ ن کے نمایاں رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں۔

پنجاب اور سندھ کی طرح خیبر پختونخوا میں لکی مروت کے ایک سیاسی خاندان کے تینوں بھائی تین سیاسی جماعتوں میں رہے۔ ان بھائیوں میں سلیم سیف اللہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ق کی طرف سے انتخابی سیاست میں متحرک رہے۔

گجرات کے ایک اور سیاسی خاندان کے بھائی نے سیاست میں حصہ لیا لیکن اُن کی سیاسی جماعتیں الگ الگ رہیں۔ سابق وزیر دفاع چوہدری احمد مختار پیپلزپارٹی کے چوٹی کے رہنماؤں میں سے ایک تھے جبکہ ان کے بڑے بھائی چوہدری احمد سعید نے مسلم لیگ ن میں شمولیت اختیار کی تھی۔

اس وقت اختلافات کا شکار مسلم لیگ ق کے رہنما طارق بشیر چیمہ بھی اُن بھائیوں کی فہرست میں شامل ہیں جنہوں نے الگ الگ سیاسی جماعتوں سے سیاست کی۔ چیمہ بردارن کی سیاست پیپلز پارٹی سے شروع ہوئی لیکن وقت کے ساتھ جہاں سیاسی جماعتیں تبدیل کیں وہ دونوں بھائی بھی ایک دوسرے کے سیاسی مخالف بن گئے۔

طارق بشیر چیمہ مسلم لیگ ق سے رکن قومی اسمبلی اور وزیر بنے تو ان کے بھائی طاہر بشیر چیمہ نے مسلم لیگ ن کے پیلٹ فارم سے سیاست کی اور اسی جماعت کے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔ تاہم 2018 میں مسلم لیگ ن کو خیر باد کہہ دیا تھا۔

جنوبی پنجاب سے ہی مظفر گڑھ کا سیاسی گھرانا، کھر خاندان ایک ہونے کے باوجود دو سیاسی جماعتوں میں رہا۔ سابق گورنر اور وزیر اعلیٰ پنجاب غلام مصطفیٰ کھر پیپلز پارٹی میں رہے پھر ان کی راہیں جدا ہوئیں تو مسلم لیگ ف میں شامل ہو گئے۔

ان کے بھائی غلام ربانی کھر، بھتیجے رضا ربانی اور بھتیجی پیپلز پارٹی کا حصہ ہیں۔ حنا ربانی کھر اس وقت وزیر مملکت برائے خارجہ امور ہیں۔

سابق گورنر پنجاب نواب آف کالا باغ امیر محمد خان کی پوتیوں نے ایک ہی سیاسی جماعت مسلم لیگ ق سے سیاست میں حصہ لیا اور ایک ہی وقت میں رکن قومی اسمبلی بنیں۔

بعد میں سمیرا ملک مسلم لیگ ن میں چلی گئیں اور ان کی بہن عائلہ ملک تحریک انصاف میں شامل ہوگئیں۔

مسلم لیگ ن کے پرویز ملک جس وقت رکن قومی اسمبلی تھے تو ان کی بہن یاسمین رحمٰن پیپلز پارٹی کی جانب سے مخصوص نشست پر رکن قومی اسمبلی رہیں۔

اس طرح پرویز ملک کی اہلیہ شائستہ پرویز اور ان کی نند یاسمین رحمٰن بھی ایک ساتھ رکن بنیں۔

سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کی بھاوج غنوی بھٹو بھی اپنی نند کی طرح سیاست میں تو ہیں لیکن نند اور بھاوج کی سیاسی جماعتیں الگ الگ رہیں۔

سیاسی پنڈتوں کے مطابق پاکستان میں موروثی سیاست کی وجہ سے بیک وقت ایک خاندان سے اور مخالف سیاسی جماعتوں سے ارکان کا آمنے سامنے آنا نہ تو کوئی انہونی ہے اور نہ ہی کوئی نئی روایت ہے۔ یہ موروثی سیاست کی کڑی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ