سی پی آر: وہ طبی طریقہ کار جو بظاہر ’مردے‘ کو زندہ کر سکتا ہے

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے افراد کو اگر فوری طور پر پانی سے نکالا جائے تو ان کو ’سی پی آر‘ یعنی کارڈئیوپلمونری ریسسیٹیشن سے بچایا جاسکتا ہے۔

14 مارچ2022 کی اس تصویر میں بھارتی شہر چنئی کے ایک ہسپتال میں ڈاکٹر ایک خاتون کو سی پی آر ٹریننگ دیتے ہوئے(اے ایف پی)

موسم گرما کے آغاز سے جیسے ہی دریاؤں اور نہروں پر جانے والوں کا ہجوم بڑھ چکا ہے اس کے ساتھ ساتھ حادثات کی خبریں بھی آنے لگی ہیں۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، پشاور میں لیڈی ریڈنگ ہسپتال کی ایک نرس مریم عنبرین بھی دریائے سوات میں اس وقت حادثے کا شکار ہوئیں، جب وہ سیلفی بنا رہی تھیں اور ان کا پاؤں پھسل گیا۔ اگرچہ قریب موجود لوگوں نے ان کو فوری طور پر دریا سے نکال لیا تھا، لیکن ابھی تک کی خبروں کے مطابق ’تب تک وہ دم توڑ چکی تھیں۔‘

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے افراد کو اگر فوری طور پر پانی سے نکالا جائے تو ان کو ’سی پی آر‘ یعنی کارڈئیوپلمونری ریسسیٹیشن سے بچایا جاسکتا ہے۔

پشاور میں لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے ڈاکٹر زاہد احمد جو کہ سی پی آر کے ماہر ہیں، نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’نرس مریم عنبرین کو نکالنے میں کافی دیر لگی تھی، یہی وجہ ہے کہ تب تک ان کی موت ہوچکی تھی۔‘

تاہم انہوں نے کہا کہ ’جن افراد کو چار منٹ کے اندر پانی سے نکال دیا جاتا ہے، ان کے سی پی آر سے بچنے کے امکانات روشن ہوتے ہیں۔‘

’اگرچہ یہ لوگ ’کلینیکلی‘ یا بظاہر فوت ہوچکے ہوتے ہیں، لیکن سی پی آر سے ان کو دوبارہ زندگی کی طرف لایا جاسکتا ہے۔‘

ضلعی 1122 ریسکیو آفیسر شارق ریاض خٹک نے بھی اس موضوع پر بات کرتے ہوئے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’اگرچہ سی پی آر حادثے کے فوراً بعد مستعمل ہوتا ہے، جب متاثرہ شخص کا دل ودماغ دونوں زندہ ہوتے ہیں۔‘

تاہم انہوں نے کہا کہ ’کئی کیسز میں ایسا بھی ہوا ہے کہ حادثے کے دس پندرہ منٹ بعد بھی سی پی آر سے لوگوں کی جانیں بچائی گئی ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’اگرچہ ریسکیو ایمبولینس میں ایک میڈیکل ٹیکنیشن ہمہ وقت موجود رہتا ہے تاہم سی پی آر کی افادیت اور ضرورت  کی وجہ سے ریسکیو کے تمام دفاتر میں ڈرائیور سے لے کے ڈائریکٹر جنرل کو سی پی آر سکھائی جاتی ہے۔‘

’لاہور ریسکیو اکیڈمی میں چھ ماہ کی تربیت میں  ہمیں تفصیلاًفرسٹ ایڈ اور سی پی آر کا طریقہ کار سکھایا جاتا ہے، جو ریسکیو اہلکار آگے عام عوام کو سکھاتے ہیں۔‘

متاثرہ شخص کی ’اے بی سی‘

ڈاکٹر زاہد احمد  نے سی پی ار کے لیے کیے جانے والے اقدامات بتاتے ہوئے کہا کہ پہلے مریض کو کسی محفوظ جگہ پر لٹا دیا جائےاور پھر اس کےکندھے تھپتھپاتے ہوئے بلند آواز میں ان کی خیریت پوچھ لیں ’کیا آپ ٹھیک ہیں۔؟‘

’فوراً 1122 کو کال ملائیں، بہتر ہوگا یہ کال ملانے کے لیے پاس کھڑے دوسرے لوگوں کی مدد حاصل کی جائے، اور وقت ضائع کیے بغیر متاثرہ شخص کی ’اے بی سی’ چیک کی جائے،جس سے مراد ’ائیروے‘، ’بریدنگ‘، ‘اور ’سرکولیشن‘ ہے۔

’اے بی سی‘ کا فارمولہ یاد رکھتے ہوئے سب سے پہلے مریض کا ائیروے صاف کرنے کے لیے اس کے سر کو تھوڑا پیچھے لے جاکر سانس کی نالی میں اگر کسی قسم کی رکاؤٹ ہو اس کو دور کیا جاتا ہے۔

پھر صرف دس سیکنڈ کے لیے مریض کی ناک اور منہ کے پاس گال اور کان لے جاکر سانس چیک کی جائے۔

تیسرا عمل سرکولیشن کا ہوتا ہے جس میں سینے پر جھٹکے دیے جاتے ہیں۔

سی پی آر کا طریقہ

ڈاکٹر زاہد احمد کے مطابق سی پی آر کمپریشن کے لیے پسلیوں کے درمیان سینے کی ہڈی پر دائیں ہاتھ کی ہتھیلی اس طرح رکھیں کہ اس رخ قلب کی جانب ہو، پھر اسی ہاتھ کے اوپر اپنا بایاں ہاتھ رکھیں، اور گنتی شروع کرکے تیس مرتبہ سینے میں دو انچ گہرائی کے حساب سے کہنیوں کو خم دیے بغیر جھٹکے دیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس کے بعد متاثرہ شخص کا سر تھوڑا سا پیچھے لے جاکر دوانگلیوں کی مدد سے اس کی ٹھوڑی کا رخ آسمان کی طرف کرکے منہ کے اوپر ململ کا کپڑا رکھ دیں اور دو مرتبہ مریض کے منہ پر منہ رکھتے ہوئے اتنے زور سے پھونک ماریں کہ مریض کے پھیپھڑے ہوا سے بھر جائیں۔ اس عمل کے بعد دوبارہ گنتی شروع کرکے تیس مرتبہ کمپریشنز دینا شروع کریں، یہاں تک کہ مریض لمبی سانس لے اور اس کی حرکت قلب بحال ہوجائے۔

ڈاکٹر زاہد کا کہنا ہے کہ کامیاب سی پی آر کے بعد بعض افراد میں الٹیاں، کنفیوژن یا بے ہوشی پائی جاسکتی ہے۔جبکہ مزید پیچیدگیوں میں ہلکا بخار، متلی، یا پھیپھڑوں میں سوجن کی شکایت شامل ہے۔

’عارضی طور پر ٹھیک ہونے کے بعد بھی اڑتالیس گھنٹوں تک مریض کی حالت خطرے میں رہتی ہے، لہذا ایسے مریضوں کو ٹھیک ہونے کے باوجود ہسپتال پہنچایا جائے۔‘

طبی ماہرین کے مطابق بچوں کے لیے سی پی آر کا عمل قدرے مختلف ہوتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ چھوٹے بچوں کو منہ سے آکسیجن دیتے وقت زیادہ زور سے پھونک نہیں مارنی چاہیے بلکہ ہلکی پھونک ہی کافی ہوتی ہے، جبکہ سینے پر جھٹکے دیتے وقت بھی دباؤ کم رکھا جائے۔

سی پی آر کے لیے تجاویز

طبی ماہرین کے مطابق سیر کی جگہوں پر جاتے وقت ایک فرسٹ ایڈ کٹ لازمی ساتھ لے کرجائیں اور اس میں ایک ململ کا کپڑا بھی ضرور رکھیں۔

ململ کا کپڑا نہ ہونے کی صورت میں اکثر مرد حضرات خواتین کی ماؤتھ ٹو ماؤتھ آکسیجینیشن کرنے سے کتراتے ہیں۔

سی پی آر کے دوران پسلیاں ٹوٹنے کا خدشہ رہتا ہے، تاہم پسلیاں ٹوٹنے کی آوازسن کر سینے پر جھٹکے دینے کا عمل نہیں روکنا چاہیے۔

ایمرجنسی کے وقت اگر سینے پر کمپریشنز یعنی جھٹکے دینے کے طریقہ کار پر شبہات ہوں، پھر بھی یہ عمل نہیں روکنا چاہیے، کہ کسی کے مرنے سے بہتر ہے کہ اس کو سینے پر غلط طریقے سے ہی جھٹکے دے کر بچایا جائے۔

بچوں کو ماؤتھ ٹو ماؤتھ آکسیجینیشن کے وقت زیادہ دباؤ سے آکسیجن نہیں دینی چاہیے ہلکی پھونک مارتے رہنا چاہیے۔

سی پی آر سے بچنے کے لیے پانی کے نزدیک جانے سے گریز کریں۔

زیادہ پڑھی جانے والی صحت