کیا 2060 تک کراچی ڈوب جائے گا؟

ماحولیات کے لیے کام کرنے والی تنظیم آئی یو سی این، وزارت برائے موسمی تبدیلی اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے ایمرجنسی فورس کی مشترکہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں ساحلی کٹاؤ کی بڑی وجہ ترقیاتی کاموں کی بدانتظامی ہے۔

23 سمتبر 2021 کی اس تصویر میں کراچی شہر کی سڑکوں پر موجود سیلابی پانی میں پھنسے شہریوں اور ٹریفک کو دیکھا جا سکتا ہے(اے ایف پی)

یہ آج کل کی بات نہیں ہے بلکہ سات سال قبل کی بات ہے جب پاکستان کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اوشنوگرافی کے سربراہ نے اس وقت کے ممبران قومی اسمبلی کو ایک بریفنگ میں کہا تھا کہ موسمی تبدیلی، بڑھتا ہوا درجہ حرارت اور ساحلی علاقوں پر غیر منظم تعمیرات کے نتیجے میں کراچی، ٹھٹھہ اور بدین سنہ 2060 تک سمندر میں ڈوب چکے ہوں گے۔

نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اوشنوگرافی نے صاف الفاظ میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے سائنس کے ممبران کو بتایا کہ بدین اور ٹھٹھہ تو 2050 تک ڈوب چکے ہوں گے لیکن دو کروڑ سے زائد آبادی کا شہر کراچی 2060 تک ڈوب جائے گا۔

قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ موسمی تبدیلی کے نتیجے میں سمندر کی سطح میں اضافہ ہو رہا ہے اور ان تینوں شہروں کو سمندر کی سطح میں اضافے کے باعث براہ راست خطرہ ہے اور اگر بروقت اقدامات نہ لیے گئے تو ان تینوں شہروں کو بچانا مشکل ہے۔ بدین اور ٹھٹھہ میں بائیس لاکھ ایکڑ زیر آب آ چکا ہے۔

بلوچستان حکومت کے نمائندے نے بھی قائمہ کمیٹی کو مطلع کیا کہ گذشتہ 35 سالوں میں بلوچستان کا دو کلومیٹر کا ساحلی علاقہ سمندر میں ڈوب چکا ہے۔

دوسری جانب ورلڈ بینک کے مطابق کرہ ارض کے درجہ حرارت میں اضافے کے باعث سمندر کی سطح میں اضافہ دو طرح سے ہو رہا ہے۔ ایک تو یہ کہ درجہ حرارت میں اضافے کے باعث برف اور گلیشیئر زیادہ پگھل رہے ہیں جس سے سطح سمندر میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اور دوسرا یہ کہ درجہ حرارت میں اضافے کے باعث سمندر کا پانی پھیل رہا ہے۔

عالمی سطح پر سمندر کی سطح میں سنہ 1880 سے لے کر 2015 تک 210 ملی میٹر سے 240 ملی میٹر اضافہ ہوا ہے۔ اور اس اضافے میں سے ایک تہائی اضافہ گذشتہ دو دہائیوں میں ہوا ہے۔ سمندر کی سطح میں موجودہ اضافہ تین ملی میٹر سالانہ ہے۔

لیکن سمندر کی سطح بڑھنے کی رفتار کا دارومدار اس بات پر ہے کہ موسمی تبدیلی کس رفتار سے ہوتی ہے اور اگر موسمی تبدیلی میں تیزی آئی تو اسی رفتار سے گلیشیئر پگھلنے کا عمل ہو گا اور سمندری سطح میں تیزی سے اضافہ ہو گا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ماحولیات کے لیے کام کرنے والی تنظیم آئی یو سی این، وزارت برائے موسمی تبدیلی اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے ایمرجنسی فورس کی مشترکہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں ساحلی کٹاؤ کی بڑی وجہ ترقیاتی کاموں کی بدانتظامی ہے جس کے باعث بلوچستان اور سندھ میں ساحلی کٹاؤ ہو رہا ہے اور اس کے باعث یہ علاقے طوفانوں سے متاثر ہو سکتے ہیں اور بحیرہ عرب میں بننے والے سائیکلونز سے بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔

اس رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر سمندر کی سطح بڑھنے کی رفتار اگلے پچاس سالوں تک یہی رہی تو سمندر کی سطح پچاس ملی میٹر مزید بڑھ جائے گی اور اس کے باعث سمندر بڑے پیمانے پر زمین کو اپنے اندر سما لے گا۔

دنیا بھر میں سمندر پر شہر بسنے میں تیزی آئی ہے۔ بلکہ یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ سمندر پر تعمیراتی کام ایک بہت بڑا کاروبار بن چکا ہے۔ اور دنیا بھر میں بہت سے شہر سمندر سے زمین لے کر آباد کیے جا رہے ہیں۔ دبئی میں پام جمیرا دیکھ لیں تو کراچی کے ساحل پر تعمیراتی کام دیکھ لیں۔

سنگاپور نے گذشتہ 50 سالوں میں سمندر میں تعمیرات کر کے اپنے زمینی رقبے میں بائیس فیصد اضافہ کیا ہے۔

لیکن سمندر کی سطح بلند ہونے کے ساتھ اس قسم کی تعمیرات دانشمندانہ ہیں۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ سمندر کے علاقے پر تعمیرات اتنی مضبوط نہیں ہیں جتنی کہ زمین پر کی گئی تعمیرات۔ سمندر میں تعمیرات ایسے علاقوں میں اور زیادہ خطرناک ہیں جو زلزلے کی بیلٹ میں آتے ہیں۔

زلزلے کے باعث سٹرکچر کے ہلنے سے لیکوئی فیکشن کا عمل ہوتا ہے یعنی وہ عمل جس سے ٹھوس تلچھٹ مائع میں تبدیل ہو جاتا ہے۔

اب دبئی ہی کو دیکھ لیجیے۔ 20 سال قبل شروع کیے گئے تین پراکیکٹس پام آئی لینڈز، دا ورلڈ اور دا یونیورس اب تک مکمل نہیں ہوئے لیکن مکمل ہونے تو دور کی بات رپورٹس کے مطابق سمندر اپنا علاقہ واپس لے رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق دا ورلڈ دوبارہ ڈوب رہا ہے۔

انٹرنیشنل سپیس سٹیشن سے لی گئی تصویر نے یہ شواہد مہیا کیے کہ خلیج فارس میں پانی کی سطح بلند ہو رہی ہے اور سمندر میں بنائے گئے یہ جزیرے ڈوب رہے ہیں۔ امریکی خلائی ایجنسی ناسا کے مطابق پام جمیرا پانچ ملی میٹر سالانہ کے حساب سے ڈوب رہا ہے۔

یہ مسئلہ دبئی ہی کا صرف نہیں ہے بلکہ یہ ایک عالمی مسئلہ ہے۔ ضروری ہے کہ ایک جامع تحقیق ایک بار پھر کرائی جائے جس میں بحیرہ عرب کی سطح بلند ہونے کے حوالے سے معلوم کیا جائے اور اس کے مدنظر اقدامات کیے جائیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ماحولیات