پرانی گاڑیوں کا ’جوبن‘ واپس لانے والے کراچی کے طہٰ صدیقی

طہٰ کہتے ہیں کہ خوبصورت اوردلکش کلاسک گاڑیوں کواصلی حالت میں بحال کرنے پر انہیں دلی سکون ملتا ہے۔ 

ویسے تو آج کل پاکستان میں ڈالر کے اوپر جانے سے نئی گاڑیوں کے ساتھ ساتھ پرانی گاڑیوں کی قیمتیں بھی بہت بڑھ گئی ہیں مگر بہت سے ایسے افراد ہیں جو نئی گاڑیوں کی جگہ پرانی گاڑیاں خریدنے کا مشورہ دیتے ہیں۔

اس طرح کے مشورے دینے والی افراد کا یہ کہنا ہوتا ہے کہ نئی گاڑیوں پر زیادہ پیسہ خرچنے سے بہتر ہے کہ پرانی گاڑی قدرے کم پیسوں میں خرید کر اسی پر کچھ اور پیسے لگا لیے جائیں تو وہ ان ملکی حالات میں ایک اچھا آپشن ہو سکتی ہیں۔

بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو پرانی گاڑیوں کو صرف اپنے شوق کے لیے خرید کر ان کو نہ صرف چلنے کے قابل بناتے ہیں بلکہ ان میں تبدیلیاں بھی کرتے ہیں۔

کراچی کے طہٰ صدیقی بھی ایسے ہی لوگوں میں شامل ہیں جنہیں پرانی گاڑیاں خرید کر انہیں بحال کرنے کا شوق ہے اور اس کام کے لیے وہ گلی گلی گھوم کر گاڑیاں تلاش کرتے ہیں۔

کلاسک گاڑیاں بحال کرنے والے نوجوان طہٰ صدیقی نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں گاڑیوں کی ’ریسٹوریشن‘ کا شوق بچپن سے تھا۔

’میرے والد اور دادا کو بھی گاڑیاں صاف سھتری رکھنے کا شوق تھا۔ اپنی فیملی میں سے میں ہی ہوں جس نے گاڑیوں کا شوق جاری رکھا ہوا ہے۔‘

طہٰ کہتے ہیں کہ ’مجھے نئے ماڈلز کی جدید گاڑیاں پسند نہیں ہیں۔ میرے والد ہی مجھے گاڑیاں بنانے میں سپورٹ کرتے ہیں۔‘

وہ گلی گلی گھوم کر پرانی گاڑیاں تلاش کرتے ہیں اور پھر ان کے مالکان سے گاڑی کا سودا طے کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

’میں گھنٹیاں بجاتا ہوں۔ میں نے بہت ڈانٹ بھی کھائی ہے۔ کچھ لوگوں نے بے عزتی بھی کی ہے۔ کبھی کبھار تُکا بھی لگ گیا کہ لوگوں نے کہا کہ یہ لے جائیں گاڑی اور اس کے اتنے پیسے ہوں گے۔ اکثر تو ایسا ہوتا ہے کہ لوگ گاڑی نہیں دیتے کہ وہ خود رکھیں گے اور بعد میں بنائیں گے۔ پھر میں انہیں اپنا نمبر دے آتا ہوں کہ اس گاڑی کو محفوظ کریں اور خراب ہونے سے بچائیں۔‘

طہٰ کے پاس 14 گاڑیاں ہیں جن میں سے آٹھ چلتی حالت میں اور باقی بحالی کے عمل سے گزر رہی ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان گاڑیوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’ان کی تیل کی کھپت بہت بری ہوتی ہے۔ عام گاڑی اگر ایک لیٹر میں دس یا آٹھ کلو میٹر چل رہی ہے۔۔۔ تو ان کا موازنہ اس گاڑی سے کریں تو یہ ایک لیٹر میں تین کلو میٹر چلے گی۔‘

’جب آپ ان گاڑیوں میں بیٹھتے ہیں تو ایک الگ احساس ہوتا ہے۔ میں وہ بتا نہیں سکتا ہے کہ وہ کیسا احساس ہوتا ہے لیکن وہ بہت منفرد ہوتا ہے۔‘

طہٰ کہتے ہیں کہ بڑی گاڑی ایک سے دو سال میں بحال ہو جاتی ہے جس کے پرزے بیرون ممالک سے منگوانے پڑتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ درآمدات پر پابندی کی وجہ سے انہیں پرزے منگوانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

طہٰ کا ماننا ہے کہ پرانی گاڑیوں کو خرید کر انہیں بحال کرنے کا شوق ایک صحت مند عادت ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’میں تو بہت سے افراد کی ذہن سازی کر رہا ہوتا ہوں۔ اپنے خاندان میں۔ میرے کزن ہیں۔ بچے ہیں یا میرے آفس کے لوگ ہیں کہ جائیں اور ایک پرانی گاڑی کو دوبارہ بنائیں۔ کچھ تلاش کریں اور اس پر کام کریں۔‘

’یہ بہت اچھی صحت مند عادت ہے۔ آپ کا بچہ اگر اس میں لگ جاتا ہے تو وہ بہت ساری چیزوں سے دور رہے گا۔ نشے کی لت میں نہیں آئے گا۔ کسی اور برے کام کی طرف نہیں جائے گا۔ کیوں کہ اس کی ساری توجہ جو ہے۔ اپنی پڑھائی کے علاوہ۔ اس کام میں لگی رہے گی کہ میں کس طرح گاڑی کا جوبن واپس لاوُں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا