اوکاڑہ میں اب نہر کا پانی پینے کے قابل بن گیا

پنجاب آبِ پاک اتھارٹی نے اوکاڑہ کی تحصیل رینالہ خورد میں ایک منصوبہ شروع کیا ہے جو فی گھنٹہ نہر کے 10 ہزار لیٹر کھارے پانی کو پینے کے قابل بنائے گا۔

حکومت پنجاب کی ہدایت پر پنجاب آبِ پاک اتھارٹی کے پہلے سرفیس واٹر ٹریٹمنٹ منصوبے پر کام مکمل ہو گیا، جس کے تحت ضلع اوکاڑہ کی تحصیل رینالہ خورد کے دیہات میں نہری پانی کو پینے کے قابل بنا دیا گیا۔

پنجاب آبِ پاک اتھارٹی کے چیف اگزیکٹیو آفیسر سید زاہد عزیز نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ یہ پلانٹ فی گھنٹہ 10 ہزار لیٹر پانی صاف کرے گا اور 10 ہزار سے زائد کی آبادی کو عالمی ادارہ صحت کی گائیڈ لائنز کے مطابق پینے کا صاف پانی مہیا کرے گا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اس منصوبے کے تحت دیہی پنجاب کے علاقوں میں پانی صاف کرنے کے ایک ہزار منصوبے لگائے جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ اوکاڑہ میں رینالہ خورد کا پانی بہت زیادہ کھارا ہے کیونکہ اس میں نمکیات بہت زیادہ ہیں اور یہ پیٹ اور گردوں کے لیے خطرناک ہے، اس لیے یہاں کے پانی کو صاف کرنے کا منصوبہ بنایا گیا۔

منصوبے کے ڈائریکٹر انجینیئر شرجیل حسین نے بتایا کہ جن مائنر کینال جو ہیڈ بلوکی سے نکلتی ہے اس نہر کا پانی پائپ کے ذریعے ٹریٹمنٹ پلانٹ تک جاتا ہے جہاں اسے صاف کرکے پینے کے قابل بنایا جاتا ہے۔

سی ای او سید زاید عزیز نے مزید بتایا کہ اس منصوبے کے تحت نہر کے پانی کو صاف کرنے کے لیے ایک کنٹینر سے گزارا جاتا ہے، جو پاکستان میں اس نوعیت کا پہلا طریقہ کار ہے۔  

ان کا کہنا تھا کہ اس سے پہلے 2016 میں فیصل آباد میں زمین میں تالاب بنا کر پانی کو ٹریٹ کیا جاتا تھا مگر یہ مہنگا اور لمبا عمل تھا کیونکہ زمین کا بڑا حصہ حاصل کرنا ہوتا تھا، جس میں تالاب بنایا جاتا تھے اور پھر اس میں پانی کو صاف کیا جاتا تھا۔

سید زاید عزیز کے بقول: ’اب ہم نے یہ سارا عمل ایک کنٹینر میں کر رہے ہیں ہے جس میں پانی تین چار عوامل سے گزر کر صاف اور پینے کے قابل ہوجاتا ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ اس منصوبے کو بنانے کے لیے تمام فنڈز پنجاب حکومت نے دیے ہیں، اس میں کوئی غیر ملکی کنسلٹنٹ شامل نہیں بلکہ ہمارے اپنے انجینیئرز نے اس پر دن رات کام کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے کی کامیابی کا یہ فائدہ ہوگا کہ جہاں کہیں پانی کھارا ہے اور وہاں نہریں چل رہی ہیں تو اس نہر کے ساتھ یہ کنٹینر رکھ کر ہم اس کے پانی کو پینے کے قابل بنا لیں گے۔

سید زاید عزیز نے اس منصوبے کی لاگت کے حوالے سے بتایا کہ اس پر تقریباً اڑھائی کروڑ روپے خرچہ آیا ہے لیکن یہاں فی گھنٹہ 10 ہزار لیٹر نہر کا پانی صاف ہوگا جبکہ اس کی رننگ کاسٹ نہ ہونے کے برابر ہے۔

نہروں میں پانی بند ہونے کی صورت میں کیا ہوگا؟

سید زاہد عزیز کا کہنا تھا کہ 20 یا 21 دن سالانہ نہروں کی بندش ہوتی ہے تاکہ انہیں صاف کیا جاسکے یا پھر کبھی شگاف کی مرمت کے لیے بھی نہریں بند کی جاتی ہیں، تو اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے بھی تیاری کی گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ٹریٹ منٹ پلانٹ کے ساتھ ایک ٹیوب ویل نصب ہوگا جو نہر خشک ہونے کی صورت میں زیرزمین جمع پانی کو نکال کر صاف کر سکے گا۔

پانی لوگوں تک پہنچے گا کیسے؟

سید زائد عزیز نے بتایا کہ اس علاقے کے دیہات میں سیوریج کا نظام نہیں تو اگر نلکوں کے ذریعے پانی پہنچایا جاتا تو پانی کے ضائع ہونے یا گلیوں میں جمع ہونے کا خدشہ تھا۔

اس کا حل سید زائد عزیز کے مطابق یوں نکالا گیا کہ ایسے پوائنٹ مقرر کر دیے گئے ہیں جہاں لوگ آکر پانی بھر کر لے جا سکیں گے۔

ان کا کہنا تھا علاقے میں دیہات ایسے ہیں جہاں کی آبادی پانچ پانچ ہزار سے زائد ہے تو اس طرح جب یہ منصوبہ فی گھنٹہ 10 ہزار لیٹر پانی صاف کرے گا تو چار سے زائد دیہات کے لیے پانی دستیاب ہوگا۔

کیا ایسے مزید پلانٹس لگائےجائیں گے؟

سید زائد عزیز کے مطابق پنجاب میں 40 فیصد علاقے ایسے ہیں جہاں پانی کھارا ہے اور ان علاقوں میں حکومت اور نجی اداروں نے بھی واٹر فلٹریشن پلانٹ لگائے ہیں مگر ان میں سے بیشتر بند پڑے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے بتایا: ’ہو یہ رہا تھا کہ جہاں کھارا پانی نکلا وہاں آر او پلانٹ لگا دیا، جہاں پانی میں جراثیم تھے وہاں الٹرا فلٹریشن پلانت لگا کر پنجاب میں پلانٹس کا جال بچھا دیا گیا۔ اس وقت پانچ ہزار فلٹریشن پلانٹس میں سے آدھے خراب پڑے ہیں اور باقی خراب ہونے کے قریب ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ آبِ پاکستان اتھارٹی یہ تبدیلی لائی ہے کہ ادارے کے ماہرین پانی کا معیار دیکھتے ہیں اور جگہ کا معائنہ کرکے فیصلہ کرتے ہیں یہاں کون سا طریقہ کار زیادہ موضوع ہوگا اور پھر اسے اختیار کیا جاتا ہے۔

’ہمارا منصوبہ یہ ہے کہ خاص طور پر جو پوٹھوہاری ریجن ہے، جو لاہور سے راولپنڈی کے درمیان واقعہ ہے، وہاں تقریباً 37 چھوٹے چھوٹے ڈیمز بنے ہوئے ہیں جن میں پانی موجود ہے، وہاں ہم یہ کنٹینرز لے کر جائیں گے اور وہاں سے پانی لے کر اسے پینے کے قابل بنائیں گے۔

’اسی طرح دیگر علاقوں میں بھی ہم اسے لے کر جائیں گے اور ہمیں امید ہے کہ اس منصوبے کی کامیابی کے بعد دیگر صوبے بھی اس منصوبے کو عمل میں لائیں گے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ہر علاقے میں پانی کے حوالے سے مختلف صورت حال ہے۔ کچھ جگہوں پر زیرزمین پانی پینے کے قابل نہیں ہے کیونکہ وہ کھارا ہے، کچھ علاقوں میں پانی ویسے تو میٹھا ہے مگر اس کا معیار اچھا نہیں ہے اور کئی علاقے ایسے ہیں جہاں زیر زمین پانی ہے ہی نہیں، جیسے ڈی جی خان فورٹ منرو وغیرہ۔

انہوں نے بتایا ایسے علاقوں میں تالابوں میں بارشوں کا پانی اکٹھا ہو جاتا ہے اور سارا سال انسان اور جانور وہیں سے پانی پیتے رہتے ہیں۔

’ہم ہر جگہ کی مناسبت سے سہولت فراہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جیسے جہاں تالابوں میں پانی ہونے کی بات کی وہاں ہم نے کچھ ایسے ہینڈ پمپ لگائے ہیں جو پانی کو جراثیموں سے پاک کر دیتے ہیں اور پانی پینے کے قابل بنا دیتے ہیں۔

’اسی طرح  الٹرا فلٹریشن پلانٹس بھی لگائے ہیں، جہاں نہر کے کنارے زیر زمین پانی میٹھا ہے اسے وہاں سے نکال کر لوگوں تک پہنچایا۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان