لائن آف کنٹرول پر واقع گاؤں میں سات دہائیوں بعد پولو کی واپسی

انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے قریب گریز وادی میں سیاحت کو فروغ دینے کے لیے گریز فیسٹیول کا اہتمام ہوا جس میں 70 سال میں پہلی بار یہاں پولو میچ کھیلا گیا۔

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں کئی دہائیوں کے بعد پولو کی رونقیں بحال ہو گئیں اور رواں ماہ 1947 کے بعد پہلی مرتبہ کشمیر کے سرحدی علاقے گریز میں پولو میچ کھیلا گیا۔ 

وادی گریز انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع بانڈی پورہ سے تقریباً 58 کلو میٹر کے فاصلے پر ہمالیہ کے عقب میں واقع ہے۔ سرسبز و شاداب پہاڑوں سے گھری ہوئی حسین وادی گریز کے لوگ ’درد‘ کہلاتے ہیں۔ ان کی زبان ’شینا‘ ہے۔ تقسیم ہند کے بعد یہ علاقہ استور سے الگ ہوا۔

 1947 سے پہلے گریز وادی میں باقاعدگی سے پولو میچز کا انعقاد کیا جاتا تھا۔ کبھی یہ مقامی لوگوں کا پسندیدہ کھیل ہوا کرتا تھا۔

گلگت بلتستان سے لوگ یہاں پولو کھیلنے آیا کرتے تھے، تاہم آزادی کے بعد لائن آف کنٹرول سے قریب ہونے کی وجہ سے اس علاقے سے پولو کا کھیل ختم ہوگیا تھا۔

گریز کی تاریخ پر گہری نظر رکھنے والے مقامی شخص زاہد سامون نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ وہ انتہائی خوشی محسوس کر رہے ہیں کہ علاقے میں سات دہائیوں بعد پولو کو بحال کیا گیا۔

وہ کہتے ہیں 1947 سے پہلے گریز میں پولو کا ایک بڑا میدان تھا۔ انہوں نے بتایا: ’وہاں ہمارے آبا و اجداد پولو کھیلا کرتے تھے لیکن آزادی کے بعد گریز کے پولو گراؤنڈ کو ہیلی پیڈ میں تبدیل کر دیا گیا۔ اس کے بعد کھیلنے کے لیے کوئی مناسب جگہ نہیں بچی تھی۔ نئی نسل نے بھی نہیں سیکھا اور وقت گزرنے کے ساتھ یہ کھیل معدوم ہو گیا تھا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا: ’گذشتہ کئی برسوں سے ہماری کوشش رہی ہے کہ اس کھیل کو گریز میں دوبارہ زندہ کریں لیکن رواں برس ہماری محنت رنگ لائی۔ محکمہ سیاحت کشمیر اور ضلع انتظامیہ نے اس کھیل کو بحال کرنے کی پہل کی۔‘

ان کے مطابق: ’دراس کے کھلاڑی یہاں کے مقامی نوجوانوں کر پولو کی ٹریننگ دیں گے۔ آنے والے وقت میں گریز میں اپنی پولو ٹیم بنے گی اور وہ ملک کے دیگر حصوں میں کھیلا کریں گے۔‘

زاہد سامون کے بقول: ’حال ہی میں گریز کو ’بیسٹ آف بیسٹ ٹورسٹ ڈیسٹینیشن‘ ایواڈ دیا گیا، جس کے بعد انتظامیہ نے بہترین آف بیٹ سیاحتی مقام کا جشن منانے اور گریز وادی میں سیاحت کو بڑھانے اور فروغ دینے کے لیے گریز فیسٹیول کا اہتمام کیا تھا۔

’لوگ اس فسٹیول کو لے کر اتنے پُرجوش نہیں تھے جتنا کہ پولو کو لے کر تھے۔ فیسٹیول کی سب سے بڑی توجہ پولو میچ تھا۔‘

اگرچہ یہ میچ گریز کے سپورٹس سٹیڈیم میں کھیلا گیا تھا تاہم کھلاڑیوں کو دراس سے لایا گیا تھا۔

محمد امین بھی اس کھیل کا حصہ تھے۔ وہ گذشتہ 20 برسوں سے اس کھیل کے ساتھ وابستہ ہیں اور لداخ کے ساتھ ساتھ منی پور میں پولو کو فروغ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا: ’ہم کافی خوش ہیں کہ سات دہائیوں کے بعد گریز میں ہارس پولو کا انعقاد ہوا۔ یہ میچ تین ستمبر کو کھیلا گیا اور یہ دن گریز کی تاریخ سنہرے الفاظ سے لکھا جائے گا۔ میں انتظامیہ کا شکریہ ادا کرتا ہوں نے انہوں نے ہمارا ساتھ دیا اور ہم اس کھیل کو دوبارہ شروع کرنے میں کامیاب ہوئے۔ مستقبل میں اس کھیل کو زیادہ سے زیادہ فروغ دینے کے لیے کام کریں گے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا: ’پہلی بار گریز میں پولو کھیلنا ایک شاندار تجربہ تھا اور مجھے امید ہے کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو آنے والے وقت میں گریز پولو کا مرکز بن سکتا ہے۔‘

پولو ایک ایسا کھیل ہے جسے بادشاہوں کا کھیل کہا جاتا ہے۔ پولو کھیلنا شاہی خاندان کے افراد کا شوق ہوا کرتا تھا۔ یہ وسطی ایشیا کا پرانا کھیل ہے جو سلک روٹ کے ذریعے لداخ، گلگت اور گریز کے علاقوں میں منتقل ہوا تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی کھیل