شندور پولو فیسٹیول ختم، چترال کی ٹیم فاتح

شندور پولو گراؤنڈ سطح سمندر سے 12 ہزار فٹ سے زیادہ بلندی پر واقع ہے۔ اس گراؤنڈ میں ہر سال موسم گرما میں چترال اور گلگت کی پولو کی ٹیمیں حصہ لیتی ہیں۔

شندور پولو فیسٹیول کے تیسرے اور آخری روز گلگت بلتستان اور چترال کی ٹیموں کا میچ جاری ہے (تصویر: ڈپٹی کمشنر لوئر چترال)

شندور پولو فیسٹیول کے اتوار کو تیسرے اور آخری روز چترال پولو ٹیم نے سنسنی خیز مقابلے کے بعد فائنل میں گلگت بلتستان کی ٹیم کو شکست دے کر ٹرافی اپنے نام کر لی ہے۔

شندور پولو گراؤنڈ سطح سمندر سے 12 ہزار فٹ سے زیادہ بلندی پر واقع ہے۔ اس گراؤنڈ میں ہر سال موسم گرما میں چترال اور گلگت کی پولو کی ٹیمیں حصہ لیتی ہیں۔

شندور پولو کی تاریخ

چترال سے تعلق رکھنے والے محقق ڈاکٹر عنایت فیضی شندور گراؤنڈ میں کھیلے گئے پہلے میچ کے حوالے سے کہتے ہیں کہ ’مرزا غفران بیگ کی 1920 میں فارسی میں لکھی ہوئی تاریخ کے مطابق 23 جولائی 1914 کو شندور پولوگراونڈ میں چترال اور گلگت کی پولو ٹیموں کے درمیان شرطیہ میچ ہوا، مہتر چترال شجاع الملک مہمان خصوصی تھے۔ چترال کی ٹیم میں صوبیدار سر فراز شاہ، شمس پناہ، فیروزه دیوان بیگی، شادون لال اور صوبیدار امیر شامل تھے۔

’گلگت کی طرف سے راجہ مراد خان کی قیادت میں چار دیگر کھلاڑی کھیل رہے تھے۔ میچ کے اختتام پر چترال کی ٹیم دو گولوں سے جیت گئی مگر گلگت والوں نے شکست ہی نہیں مانی اگلے دن کے لیے دوبارہ میچ رکھا گیا۔ اگلے دن 24 جولائی کو جمعہ کے دن دوبارہ میچ ہوا، چترال کی ٹیم ایک بار پھر جیت گئی۔‘

25 جولائی کو راجہ مراد خان واپس روانہ ہوئے۔ مہتر چترال نے شندور میں قیام کیا۔ شندور کے دورے کے دوران اسسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ کیپٹن ولسن بھی مہتر چترال کے ہمراہ موجود تھے۔

شندورپر کیا تنازع ہے؟

شندور پولو ٹورنامنٹ سے پہلے گلگت بلتستان اور خیبر پختونخواہ کے وزرائے اعلی ایک دوسرے کو دعوتیں دیتے رہے۔ پہلے خیبر پختونخوا کے وزیر اعلی محمود خان صاحب نے دعوت نامہ بیجھا تھا اور اس کے جواب میں گلگت بلتستان کے وزیر اعلی خالد خورشید خان کی طرف سے وزیر اعلی خیبر پختونخواہ کو دعوت نامہ نامہ بیجھا گیا۔

حالاں کہ شندور چترال کے حصے میں آتا ہے لیکن گلگت بلتستان حکومت بھی شندور پر دعوے کرچکی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

شاہد علی یفتلی پیشے کے لحاظ سے وکیل ہیں اور چترال لاسپور سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’شندور ہماری چرا گاہ ہے۔ اس پر ہمارا قبضہ ہے۔ اور ہم اس سے فائدہ اُٹھاتے آئے ہیں اور ہمارے پاس ملکیت کے کاغذات موجود ہیں۔

’یہ بات گلگت والے ہمارے بھائیوں کو بھی پتہ ہے۔ باقی وہ دعوی کرتے ہیں ہم کیا کہہ سکتے ہیں۔ اگر سمجھتے ہیں شندور ان کی ملکیت ہے تو عدالت جا سکتے ہیں۔ کیس کر سکتے ہیں اگر ہم ناجائز قابض ہیں اپنا حق ہم سے چھین سکتے ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا ہے کہ جب شندور میلے کا وقت قریب آتا ہے ایک شوشہ چھوڑا جاتا ہے جو شندور پولو میلے کے بعد پھر ماند پڑ جاتا ہے۔ یہ سلسلہ 2009 سے چلا آ رہا ہے۔

’شندور پر خیبر پختونخوا کی حد بندی کے اندر یو نین کونسل لاسپور کے عوام کے 700 گھرانے آباد ہیں اور 800 سالوں سے شندور ہماری ملکیت ہے۔‘

ان کے مطابق حد بندی پر کوئی جھگڑانہیں ہوا پہلا جرگہ 1914 میں اور 1949 میں ہوا۔ ان کی دستاویزات ہمارے پاس موجود ہیں۔ 1975 میں لینڈ کمیشن کی رپورٹ کے اندر شندور کے دو پولوگراونڈ خیبر پختونخوا کی ملکیت قرار دیے گئے ہیں۔

اس کے بر عکس گلگت بلتستان کے تعلق رکھنے والے صحافی شبیر میر کا کہنا ہے کہ ’شندور تاریخی لحاظ سے گلگت بلتستان کا حصہ ہے۔ اور اس کے ثبوت موجود ہیں۔ مشرف دور میں فریقین کو بٹھا کر اس کیس کو حل کرنے کا کہا گیا تھا۔ لیکن تاحال اس کیس میں پیش رفت نہیں ہوسکی۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی کھیل