آفریدی کا اچانک نمبر تین پر کھیلنا اور آصف علی کے چار چھکے

ورلڈ کپ 2022 کے سپر12 میچز کا آغاز آج سے ہو رہا ہے جبکہ پاکستان کل انڈیا کے مدمقابل آئے گا، تو کیوں نہ آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاکستان کے چند یادگار لمحات کی بات کر لی جائے۔

ہار، ہار اور پھر جیت کے ساتھ پاکستان اب آسٹریلیا میں ہے جہاں اس کا مقابلہ پوری دنیا سے ہونے جا رہا ہے یعنی آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ۔

ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں ہی کھیلے جانے والے ایشیا کپ میں پاکستان کو فائنل میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ پھر ایک طویل عرصے بعد انگلینڈ کی ٹیم پاکستان میں اتری اور سخت مقابلے کے بعد میزبان ٹیم کو ہرا کر آسٹریلیا میں آسٹریلیا ہی کا مقابلہ کرنے چلی گئی۔

مڈل آرڈر سے پریشان پاکستان نے بھی نیوزی لینڈ کی پرواز لی اور پہنچ گیا سہ فریقی ٹورنامنٹ کھیلنے۔ مقابلہ تھا نیوزی لینڈ اور بنگلہ دیش سے۔ جہاں اس نے فائنل میں نیوزی لینڈ کو شکست دی۔

اس جیت سے پاکستانی ٹیم کا اعتماد کسی حد تک بحال ہوا ہے کیونکہ اس کے مڈل آرڈر نے اچانک سے رنز بنانا شروع کر دیے۔

شاہین شاہ آفریدی اور فخر زمان کی سکواڈ میں واپسی کے بعد پاکستان کیا کرتا ہے، یہ تو 23 اکتوبر کو انڈیا کے خلاف ورلڈ کپ کے پہلے میچ سے پتہ چل ہی جائے گا۔

لیکن اس سے پہلے کیوں نہ کچھ بات آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاکستان کے چند یادگار لمحات کی کر لی جائے۔

مصباح کا سکوپ

یہ 2007 کی بات ہے جب آئی سی سی نے نئے فارمیٹ یعنی ٹی ٹوئنٹی کو ورلڈ کپ سے ہی متعارف کرانے کا سوچا۔

فارمیٹ نیا تھا تو دیکھنے والے اور کھیلنے والے دونوں ہی کو اندازہ نہیں تھا کہ ہونے کیا والا ہے۔

اس دور میں پاکستان اور انڈیا ہی وہ ٹیمیں تھیں جو ہر حالات میں جارحانہ کرکٹ ہی کھیلنا پسند کرتی تھیں۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پہلے ہی ورلڈ کپ کا فائنل انہی دو ٹیموں کے درمیان کھیلا گیا۔

اب اس سے بہتر کیا ہو سکتا تھا؟

خیر جوہانسبرگ میں فائنل شروع ہوا اور انڈیا نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے پانچ وکٹوں کے نقصان پر 157 رنز بنائے۔

پھر باری آئی پاکستان کی اور وہی کہانی شروع ہوئی جو اس سے پہلے اور بعد میں بھی کئی مرتبہ دیکھی جا چکی ہے۔ پاکستان کی وکٹیں گرنا شروع ہوئیں تو رکنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھیں۔

ایسے میں ایک بلے باز کریز پر جم کر کھڑے رہے اور وہ تھے مصباح الحق۔

اسی میچ میں جب مصباح نے ہربھجن سنگھ کو چھکے لگائے تو روی شاستری بولے کہ ’ان کا دماغ کمپیوٹر کی طرح چل رہا ہے۔‘

پھر نہ جانے اس کمپیوٹر کی طرح چلنے والے دماغ میں یہ خیال کیوں آیا کہ انہیں سکوپ شاٹ کھیلنی ہے۔

پاکستان کو آخری اوور میں 13 رنز درکار تھے اور وکٹیں نہیں تھیں۔ پہلی دو گیندوں پر پاکستان نے مصباح کے ایک چھکے کی بدولت سات رنز حاصل کر لیے تھے اور اگلی چار گیندوں پر اسے پہلا ورلڈ کپ جیتنے کے لیے چھ رنز چاہیے تھے۔

گراؤنڈ کی ہر طرف چھکے لگانے والے مصباح نے اس دم فیصلہ کیا کہ نہیں انہیں اس بار وکٹوں کے پیچھے شاٹ کھیلنی ہے، جو انہوں نے کھیلی مگر گیند باؤنڈری پار کرنے کے بجائے سیدھا فائن لیگ پر کھڑے فیلڈر کے ہاتھوں میں جا گری اور پاکستان کے ہاتھوں میں آیا ورلڈ کپ انڈیا کے ہاتھوں میں جا گرا۔

شاہد آفریدی کا اچانک نمبر تین پر کھیلنا

انڈیا سے پہلے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا فائنل ہارنے کے بعد پاکستان اگلے ہی ورلڈ کپ میں ایک الگ رنگ میں دکھائی دیا۔

انگلینڈ میں کھیلے جانے والے اس ورلڈ کپ میں یونس خان پاکستان کی قیادت کر رہے تھے۔ جنہیں آئرلینڈ کے خلاف میچ میں نہ جانے کیسے یہ خیال آیا کہ جارحانہ بلے بازی کے لیے مشہور شاہد آفریدی کو نمبر تین پر بھیجنا چاہیے۔

شاہد آفریدی نے اپنے پورے کیریئر میں ایسی کرکٹ کھیلی ہے کہ کم از کم دیکھنے والوں نے تو ان پر اعتماد کرنا چھوڑ دیا تھا، لیکن امید کبھی نہیں چھوڑی تھی۔

اس فیصلے کے بعد شاہد آفریدی نے جو کرکٹ کھیلی شاید ہی انہوں نے کبھی کھیلی ہو۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

شاہد آفریدی نے 2009 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں 51 رنز کی اننگز کھیلی اور پھر فائنل میں بھی سری لنکا کے خلاف مشکل وقت میں ناقابل شکست نصف سنچری سکور کر کے پاکستان کو ورلڈ چیمپیئن بنوا دیا۔

انہیں سیمی فائنل اور فائنل دونوں ہی میچوں کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا تھا۔

ویسے تو پاکستان کا ورلڈ کپ ایک یادگار لمحہ ہے لیکن ہم نے شاہد آفریدی کے اپنے سٹائل سے ہٹ کر کھیلنے اور ورلڈ کپ جتوانے کی وجہ سے ان کا انتحاب کیا۔

گل ڈوزر

شاہد آفریدی کے علاوہ ایک اور کھلاڑی بھی تھے جنہوں نے پاکستان کے چیمپیئن بننے میں اہم کردار ادا کیا۔ وہ تھے عمر گل جنہیں بعد میں ’گل ڈوزر‘ کا نام دیا گیا۔

عمر گل کو گل ڈوزر اس لیے جاتا تھا کیونکہ وہ ایک کے بعد ایک تیز رفتار یارکر اور ریورس سوئنگ سے مخالف ٹیم کے بلے بازوں کو ٹکنے نہیں دیتے تھے۔

 

ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2009 میں عمر گل نے سب سے زیادہ وکٹیں حاصل کی تھیں۔ یہی نہیں بلکہ وہ اس فارمیٹ میں پانچ وکٹیں لینے والے پہلے بولر بھی ہیں۔

عمر گل نے نیوزی لینڈ کے خلاف میچ میں صرف چھ رنز دے کر پانچ کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ ان کی اس شاندار بولنگ کی وجہ سے نیوزی لینڈ کی پوری ٹیم 99 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔

اس طرح گل ڈوزر نے پاکستان کے فائنل تک پہنچنے کی راہ ہموار کی۔

آصف علی کی جلدی

اب 2007 اور 2009 کے عالمی مقابلوں سے سیدھا چلتے ہیں گذشتہ سال کھیلے گئے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی طرف، کیونکہ اس کے درمیان پاکستان کی پرفارمنس بس ٹھیک ہی رہی تھی۔

متحدہ عرب امارات میں کھیلے گئے آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاکستان کا آغاز ہی شاندار تھا لیکن اس پر تھوڑا آگے چل کر بات کریں گے۔ ابھی بات کرتے ہیں پاکستان اور افغانستان کے درمیان کھیلے گئے میچ کی۔

شاید ہی کوئی ہوگا جسے یہ میچ یاد نہ ہو اور ویسے بھی اب انڈیا کے ساتھ ساتھ افغانستان کے خلاف میچز بھی فینز آسانی سے بھولتے نہیں۔

افغانستان نے پہلے بیٹنگ کی اور محمد نبی اور گلبدین نائب کی عمدہ بلے بازی کی بدولت 147 رنز کا ہدف دینے میں کامیاب ہوا۔ ویسے آغاز کو دیکھتے ہوئے اتنے سکور کی امید نہیں تھی۔

پھر پاکستان کی باری آئی تو بابر اعظم اور فخر زمان کے علاوہ لمبی اننگز نہیں کھیل سکا اور ایک موقع پر جو آسان جیت دکھائی دے رہی تھی، وہ انتہائی مشکل لگنے لگی۔

اٹھارویں اوور کی پانچویں گیند پر شعیب ملک جب آؤٹ ہوئے تو لگا اب تو میچ گیا۔ ان کی جگہ پریکٹس میں ڈیڑھ سو چھکے لگانے والے آصف علی آئے۔ اسی اوور کی آخری گیند شاداب خان نے کھیلی اور رن لینے کی کوشش بھی کی لیکن جس اعتماد کے ساتھ آصف علی نے منع کر دیا، اس سے تو باتیں دماغ میں گھومنے لگیں کہ یا تو یہ لڑکا میچ لے جائے گا یا خود چلا جائے گا۔

اب پاکستان کو آخری دو اووروں میں 24 رنز درکار تھے۔ آصف علی سٹرائیک پر آئے اور پہلی ہی گیند پر چھکا لگا کر اپنے ارادے اور اعتماد بتا دیا۔

اگلی گیند پر کوئی رن نہ بن سکا۔ اوور کی تیسری گیند پر پھر چھکا اور ایک بار پھر چوتھی گیند پر رن نہ بن سکا۔ اب پاکستان کو جیتنے کے لیے 12 رنز مزید چاہیے تھے جبکہ ابھی آٹھ گیندیں باقی تھیں، لیکن آصف علی کچھ زیادہ ہی جلدی میں تھے۔ انہوں نے 19ویں اوور کی آخری دو گیندوں پر بھی دو چھکے لگائے اور جاتے ہوئے یہ کہہ گئے ’ہور کج ساڈے لائیک‘۔

جب انڈیا کو کچھ سمجھ نہ آئی

آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2021 میں پاکستان کا سب سے پہلا میچ ہی فائنل میچ سمجھا جا رہا تھا کیونکہ مقابلہ تھا انڈیا کے ساتھ۔

’موقع، موقع‘ کے اشتہار چلنے لگے اور پھر وہ دن آ گیا۔ پاکستان اور انڈیا کی ٹیمیں میدان میں اتریں، پاکستان نے ٹاس جیتا اور انڈیا کو پہلے کھیلنے کی دعوت دی۔

شاہین شاہ آفریدی کے ہاتھ میں گیند تھی اور سامنا کر رہے تھے روہت شرما۔ لیکن وہ صرف ایک گیند کا ہی سامنا کر پائے۔ شاہین آفریدی نے اپنے پہلے اوور میں روہت شرما کو آؤٹ کیا، دوسرے اوور میں کے ایل راہل بھی ٹک نہ پائے۔

ویرات کوہلی اور رشبھ پنت نے مزاحمت کی اور اپنی ٹیم کا سکور ڈیڑھ سو رنز تک پہنچا دیا۔

پاکستان نے 151 رنز کا تعاقب شروع کیا تو بھونیشور کمار، بمرا اور محمد شامی جیسے بولرز کو دیکھ کر دل تھوڑا گھبرا ضرور رہا تھا۔

لیکن پانچ اوور اور پھر جب دس اوورز تک پاکستان کی ایک بھی وکٹ نہ گری تو کرسی سے ٹیک لگا کر ہم نے بھی کہنا شروع کر دیا ’موقع، موقع‘۔

پہلے شاہین آفریدی کی تیز اور گھومتی گیندوں کی انڈیا کو سمجھ نہیں آئی اور بعد میں بابر اعظم اور محمد رضوان نے اسے کچھ سمجھنے نہیں دیا۔ اس طرح پاکستان نے انڈیا کو دس وکٹوں سے ہرا کر ’موقع، موقع‘ کا پیک اپ کر دیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی کھیل